افغانستان کا بحران انسانی اسمگلنگ کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے، اقوام متحدہ

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) اور عالمی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں جاری متعدد بحرانوں نے افغان شہریوں کو انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت اور مختلف اقسام کے استحصال کے خطرات سے غیر معمولی حد تک دوچار کر دیا ہے۔

انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر جاری مشترکہ بیان میں دونوں اداروں نے کہا کہ افغانستان کو درپیش مسلسل معاشی، انسانی اور سماجی بحرانوں نے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے لیے افغان شہریوں کے استحصال کے امکانات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے افغانستان میں 5 سال سے کم عمر 37 لاکھ بچوں کو شدید غذائی قلت کا خطرہ، یونیسیف کا الرٹ

رپورٹ کے مطابق پڑوسی ممالک سے افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر اور بعض صورتوں میں جبری واپسی، افیون پر مبنی معیشت کا خاتمہ، انسانی امداد میں شدید کمی، بار بار آنے والی قدرتی آفات اور خواتین و بچیوں کے حقوق پر عائد پابندیاں انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت کے بڑھتے ہوئے خطرات کی بنیادی وجوہات ہیں۔

اقوام متحدہ کی حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق وطن واپس آنے والے افغان مہاجرین انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ صرف 11 فیصد افراد کے پاس مستقل روزگار یا اپنا کاروبار ہے، جبکہ نصف سے زائد افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید معاشی دباؤ کے باعث بہت سے خاندان قرض لینے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے قرض کے عوض جبری مشقت، اینٹوں کے بھٹوں، زرعی شعبے اور کان کنی جیسے غیر محفوظ کاموں میں استحصال، جبری شادیوں اور انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے القاعدہ اب بھی افغانستان میں موجود، طالبان سے روابط برقرار، اقوام متحدہ کا انکشاف

افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم کے نمائندے پولیک اوک سری نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر انسانی اسمگلنگ کی روک تھام، متاثرین کی بروقت شناخت اور ان کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

افغانستان میں عالمی ادارہ برائے مہاجرت کی سربراہ میہیونگ پارک نے کہا کہ وطن واپس آنے والے مہاجرین کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ مقامی آبادی اور وسائل ان کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے افغانستان کے لیے مؤثر مالی تعاون، انسانی امداد اور روزگار کے مواقع فراہم نہ کیے تو بڑی تعداد میں افغان شہری دوبارہ خطرناک اور غیر قانونی ہجرت پر مجبور ہوں گے، جس سے انسانی اسمگلنگ اور استحصال کا یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کر جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا