صنعتی انقلاب سے گلوبل وارمنگ تک: ترقی کی قیمت، عالمی ذمہ داری،اور ادھورا حل

پیر 10 اگست 2026
author image

سیدہ سفینہ ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا میں چترال اور پاکستان کے دیگر شمالی حصوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور تیزی سے پگھلتے گلیشئرز نے وہاں کے مکینوں کی زندگیوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ گلیشیائی جھیلیں اچانک پھٹنے لگی ہیں جس سے ان مقامات پر بھی سیلابی صورتحال پیدا ہوئی جہاں توقع بھی نہیں تھی۔

کئی مقامات پر ان گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے بہنے والے بڑے پتھروں اور مٹی کے سیلاب نے دریا کا بہاؤ تک روک دیا، ایسے میں مقامی سطح پر بھی ایک بات مسلسل سننے کو ملی، وہ ہے یہ سب کچھ موسمیاتی تبدیلی اور گوبل وارمنگ کی وجہ سے ہورہا ہے، آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ یہ علاقے سر سبز ہوتے ہوئے بھی گلوبل وارمنگ کی زد میں آ رہے ہیں ؟ اس سوال کا جواب جاننے کے ہم مختلف دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیں گے۔

اٹھارہویں صدی کے وسط میں جب بھاپ کے انجن نے پہلی بار کارخانوں کے پہیے گھمائے، تو انسان نے فطرت کے ذخیرہ شدہ کاربن (پہلے کوئلہ،پھر تیل اور گیس) کو بڑے پیمانے پر جلا کر توانائی کا وہ سلسلہ شروع کیا، جو آج تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس صنعتی انقلاب نے ہماری زندگی کو بے حد آسان بنایا اور ترقی یافتہ ممالک کو عروج کی بلندیوں پر پہنچایا، لیکن اسی کے ساتھ زمین کا قدرتی توازن بھی بگڑنا شروع ہو گیا۔ ہم نے اس ترقی کی بھاری قیمت ماحولیاتی آلودگی کی صورت میں چکائی ہے، اور آج پوری دنیا گلوبل وارمنگ جیسے سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔

گرین ہاؤس ایفیکٹ :

سائنسی حقیقت زمین کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ جیسی گیسیں سورج کی حرارت کو خلا میں واپس لوٹنے سے روکتی ہیں۔ یہ ایک قدرتی اور ضروری عمل ہے جو ہمارے سیارے کو زندگی کے قابل بناتا ہے۔

تاہم صنعتی انقلاب کے بعد سے انسان نے اس توازن کو اس حد تک بگاڑ دیا ہے کہ فضا اب ضرورت سے کہیں زیادہ حرارت قید کر رہی ہے۔ ہم جتنا زیادہ کاربن جلائیں گے، اتنی ہی زیادہ حرارت زمین کی سطح پر پھنسی رہے گی، اور یہی گلوبل وارمنگ کی بنیادی وجہ ہے۔ برف کے تہہ خانوں سے ملنے والے سائنسی شواہد گواہی دیتے ہیں کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار اتنی تیز رفتار سے کبھی نہیں بڑھی جتنی پچھلی چند دہائیوں میں بڑھی ہے۔

زمین پر تباہ کن اثرات
قطبی برف کا پگھلاؤ: گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کی برفانی چادریں تیزی سے پگھل رہی ہیں، جس سے سمندروں کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو رہی ہے۔

موسموں کا بگڑتا مزاج: سیلاب،خشک سالی اور شدید ترین گرمی کی لہریں اب معمول بن چکی ہیں۔ پاکستان میں حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلاب اس کی ہولناک مثال ہیں۔

سمندری تیزابیت: سمندر فضا سے اضافی کاربن جذب کر رہے ہیں جس سے مرجانی چٹانیں اور سمندری حیات تباہ ہو رہی ہے، جبکہ بدلتا ہوا موسمی نظام جنگلی حیات کے مسکن بھی نگل رہا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟

کاربن کیپچر: ایک امید افزا لیکن مہنگا حل
سائنس نے اس مسئلے کا ایک تکنیکی حل بھی پیش کیا ہے جسے کاربن کیپچر اینڈ سٹوریج کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو فضا میں پھیلنے سے پہلے ہی یا براہِ راست فضا سے کھینچ کر محفوظ کر لیتی ہے۔

پوائنٹ سورس کیپچر: اسے کارخانوں اور بجلی گھروں کی چمنیوں پر نصب کیا جاتا ہے۔ دھویں کو خاص کیمیائی محلول سے گزار کر کاربن الگ کر لیا جاتا ہے۔

ڈائریکٹ ایئر کیپچر: بڑے پنکھوں کی مدد سے عام ہوا کو خاص فلٹرز میں سے گزار کر کاربن جذب کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ مہنگا ضرور ہے مگر کہیں بھی لگایا جا سکتا ہے۔

ذخیرہ اور استعمال: جمع کیے گئے کاربن کو ہزاروں سال کے لیے زیر زمین محفوظ کیا جاتا ہے یا اسے مصنوعی ایندھن اور تعمیراتی مواد بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی دیوار اس کی بھاری لاگت اور توانائی کی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ ابھی تک چند بڑے صنعتی منصوبوں تک ہی محدود ہے۔

پاکستان اس صورتحال میں کہاں کھڑا ہے؟

ہمارا ملک فی الحال اس مہنگی ٹیکنالوجی کو خود بنانے کی سکت نہیں رکھتا۔ اسے خریدنا نظری طور پر ممکن ہے،مگر ایک درمیانے درجے کے پلانٹ پر اربوں روپے لاگت آتی ہے اور اسے چلانے کے لیے مسلسل بھاری بجلی درکار ہوتی ہے، جبکہ پاکستان خود شدید توانائی کے بحران کا شکار ہے۔

اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ یہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو کاربن کاٹنے کے بجائے اپنے وسائل اثرات سے بچاؤ پر لگانے چاہئیں، جیسے کہ سیلاب سے تحفظ کا بہتر انفراسٹرکچر، بڑے پیمانے پر شجرکاری، پانی کا موثر انتظام، اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی زراعت۔

امیر ممالک کیوں غفلت برت رہے ہیں؟

پیسہ ہونا اور اسے درست جگہ خرچ کرنا دو الگ باتیں ہیں۔اگرچہ کچھ ترقی یافتہ ممالک (امریکہ،ناروے، کینیڈا،یورپی یونین) نے سرمایہ کاری شروع کی ہے، لیکن بحران کے حجم کے مقابلے میں یہ کوششیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔اس کی چند اہم وجوہات ہیں:

منافع کی دوڑ: کاربن کیپچر میں فوری مالی منافع نہیں ہے، اس لیے نجی کمپنیاں اس پر خود سے خرچ نہیں کرنا چاہتیں، یہ زیادہ تر حکومتی فنڈز پر منحصر ہے۔

فوسل فیول انڈسٹری کا دباؤ: تیل،گیس اور کوئلے کی بڑی صنعتیں ملکی سیاست اور معیشت پر گہرا اثر رکھتی ہیں اور سخت ماحولیاتی پالیسیوں کی شدید مخالفت کرتی ہیں۔

قلیل مدتی سیاسی سوچ: جمہوری حکومتیں چار پانچ سالہ الیکشن سائیکل میں سوچتی ہیں،جبکہ ماحولیاتی اثرات دہائیوں میں سامنے آتے ہیں۔

فری رائیڈر کا مسئلہ: چونکہ ماحولیاتی بہتری کا فائدہ سب کو ملتا ہے،اس لیے ہر ملک چاہتا ہے کہ فائدہ تو ملے مگر قیمت کوئی اور ادا کرے،اور کوئی بھی ملک تنہا پہل کرنے سے کتراتا ہے۔

مشترکہ مسئلہ،تو پھر مشترکہ حل کیوں نہیں؟

ایسا نہیں ہے کہ کوششیں ہو ہی نہیں رہیں؟ پیرس معاہدہ (2015) کے تحت تقریباً 190 ممالک نے عالمی درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کا وعدہ کیا۔ہر سال COP کانفرنسوں میں حکمت عملی طے ہوتی ہے اور Loss and Damage Fund کے ذریعے امیر ممالک سے غریب ممالک کے نقصان کے ازالے کا عہد بھی لیا گیا۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے پاس کسی بھی ملک کو مجبور کرنے کی قانونی طاقت نہیں ہے،اور ہر معاہدہ رضاکارانہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے فوسل فیول جلا کر ترقی کی،آج ترقی پذیر ممالک بھی اسی حق کا تقاضا کرتے ہیں،اور قومی خودمختاری کی وجہ سے کوئی بھی ملک بیرونی دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں۔

علم اور عمل کا فرق

سائنس نے ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ ہم نے اپنے سیارے کے ساتھ کیا کھلواڑ کیا ہے،اور یہی سائنس ہمیں یہ راستہ بھی دکھاتی ہے کہ نقصان کو کیسے محدود کیا جا سکتا ہے۔اصل مسئلہ علم کی کمی کا نہیں، بلکہ عمل سے فرار اور ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی عادت ہے۔سست روی کے باوجود امید اب بھی باقی ہے،قابل تجدید توانائی کی لاگت میں زبردست کمی اور کئی ممالک کا کوئلے سے جان چھڑانا اس بات کا ثبوت ہے۔

جو تہذیب حیرت انگیز مشینیں ایجاد کر سکتی ہے، وہ ان کے منفی اثرات کو سنبھالنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے،بشرطیکہ بروقت اور اجتماعی فیصلے کیے جائیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سام سنگ نے گلیکسی زیڈ فولڈ 8 کے مزید 10 لاکھ یونٹس تیار کرنے کا فیصلہ کرلیا

نادیہ افغان کا بچوں میں جانوروں سے محبت اور رحم دلی پیدا کرنے پر زور

گرین بس میں موبائل چوری، ڈرائیور نے دروازے بند کرکے بس تھانے پہنچا دی، چور گرفتار

اس وقت آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ ایک منصب نہیں، کڑا امتحان ہے، چوہدری طارق فاروق

بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں طلبہ کا سرکاری ملازمتوں کے امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج، اسمبلی کی جانب مارچ

ویڈیو

مسلم لیگ ن کو الٹی گنتی کی دھمکی دینے والی پیپلز پارٹی اب کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کرے گی؟

آزاد کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ: پونچھ ڈویژن کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

جشن آزادی پر قومی جذبے کا منفرد اظہار، معروف ایتھلیٹ جمال سید کی ’کے ٹو‘ سے اسکردو تک دوڑ

کالم / تجزیہ

حویلی آزاد کشمیر میں لگنے والے نعرے

سب گل سڑ چکا ہے

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ