پاکستان کو علاقائی آئل ٹریڈنگ ہب بنانے کا بڑا منصوبہ کیا ہے؟

بدھ 12 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے عالمی آئل سپلائرز اور ٹریڈنگ ہاؤسز کو راغب کرنے اور ملک میں توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑی اور جامع پیش رفت کی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے پالیسی گائیڈ لائن آن امپورٹ آن فارن سپلائرز اکاؤنٹ تھرو کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج فیسیلٹیز 2026 کا 168 صفحات پر مشتمل مسودہ حتمی منظوری کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو ارسال کر دیا ہے۔

اس نئی پالیسی کے تحت بین الاقوامی آئل کمپنیاں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات لا کر کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج میں رکھ سکیں گی اور انہیں مقامی مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں کو فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کو دوبارہ برآمد بھی کر سکیں گی۔

پالیسی کے اہم نکات اور ٹیکس چھوٹ

اس فریم ورک کا بنیادی مقصد غیر ملکی سپلائرز، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی کمپنیوں کو پاکستان میں اسٹاکس رکھنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس ماڈل کی سب سے بڑی کشش یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر اس وقت تک کوئی ڈیوٹی، ٹیکس، لیوی یا سیس لاگو نہیں ہوگا جب تک وہ بانڈڈ رجیم میں موجود ہیں اور مقامی استعمال کے لیے ڈی بانڈ نہیں کی جاتیں۔

معاشی ماہر منور مرزا کے مطابق مجوزہ پالیسی میں خام تیل کے تمام گریڈز، پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، جیٹ فیول، فیول آئل، ایل پی جی اور ایل این جی شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ان مصنوعات کو پورٹ قاسم، کیماڑی، حب، گوادر، محمود کوٹ اور ماچھی کے میں قائم بانڈڈ اسٹوریج سہولیات میں رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ پورٹ سے اندرونِ ملک پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے مصنوعات کی منتقلی پر بھی کسٹمز کی زیرِ نگرانی ٹیکس نیوٹرل ماحول فراہم کیا جائے گا۔

ایک گیم چینجر پیشرفت

انرجی سیکٹر کے ماہر ظفر پراچہ کے مطابق یہ پالیسی پاکستان کے روایتی امپورٹ ماڈل کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گی۔ ابھی تک پاکستان فوری ضرورت کے تحت تیل کے کارگو منگواتا تھا، جس سے زرمبادلہ کی اچانک منتقلی اور سپلائی چین میں تعطل کا خطرہ رہتا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پالیسی کے تحت عالمی کمپنیاں اپنے خرچے پر پاکستان میں تیل کا ذخیرہ رکھیں گی، جس سے ملک کے اندر پیٹرولیم مصنوعات کا بفر اسٹاک ہر وقت موجود رہے گا۔ یہ نہ صرف پاکستان کی عالمی کریڈٹ ریٹنگ کے لیے بہتر ہے بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے خلاف ایک حفاظتی ڈھال بھی ثابت ہوگا۔

آئل اینڈ گیس سیکٹر کے تکنیکی ماہرین کا موقف

تجارتی امور کے ماہر محمد شہزاد کے مطابق پورٹ پر مبنی اسٹوریج کو ماچھی کے اور محمود کوٹ جیسے اندرونِ ملک طلب کے بڑے مراکز سے جوڑنا ایک ماسٹر اسٹروک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں نہ صرف پاکستان کی مقامی مارکیٹ کی طلب پوری کر سکیں گی بلکہ یہاں سے علاقائی ممالک کو بھی سپلائی فراہم کر سکیں گی، جس سے پاکستان کو ریجنل آئل ٹریڈنگ ہب کی حیثیت حاصل ہوگی۔

مستقبل میں معیشت پر اثرات

ظفر پراچہ کے مطابق ماضی میں آئل کارگو کی آمد پر فوراً ڈالر منتقل کرنا پڑتے تھے۔ نئے فریم ورک کے تحت جب تک مصنوعات مقامی مارکیٹ کے لیے ڈی بانڈ نہیں ہوں گی، زرمبادلہ باہر نہیں جائے گا، جس سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر پر فوری دباؤ کم ہوگا۔

بنیادی ڈھانچے اور انفراسٹرکچر میں غیر ملکی سرمایہ کاری

اسٹاک مارکیٹ ایکسپرٹ شہریار بٹ کے مطابق عالمی سپلائرز مقامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر یا خود اپنا وقف شدہ کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج انفراسٹرکچر تیار کریں گے۔ اس سے لاجسٹکس، پائپ لائنز اور پورٹ انفراسٹرکچر میں اربوں روپے کی نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

سپلائی چین میں لچک اور پائیداری

ان کا مزید کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں جنگ، تنازعات یا بحری راستوں کی بندش کی صورت میں بھی ملک کے اندر پیٹرولیم کا فزیکل اسٹاک موجود ہوگا، جس سے اچانک تیل کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ختم ہو جائے گا۔

عام عوام پر براہِ راست اثرات

منور مرزا کے مطابق ماضی میں عالمی مارکیٹ میں سپلائی کی رکاوٹوں کی وجہ سے ملک میں اکثر پیٹرول کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ملک کے اندر ہر وقت اضافی اسٹاکس کی موجودگی سے عام صارفین کو پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل اور مسلسل فراہمی میسر رہے گی۔

قیمتوں میں استحکام

ان کا کہنا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں تیل کی وافر دستیابی کی وجہ سے مصنوعی شارٹیج پیدا کرکے قیمتیں بڑھانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی، جس کا براہِ راست فائدہ عام شہری کی جیب کو ہوگا۔

روزگار کے نئے مواقع

پورٹ قاسم، گوادر، کیماڑی، شیخوپورہ اور دیگر علاقوں میں نئی اسٹوریج سہولیات، ٹرانسپورٹیشن اور پائپ لائن نیٹ ورک کی توسیع سے مقامی آبادی کے لیے روزگار اور کاروبار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

اگر ای سی سی کی جانب سے اس 168 صفحات پر مشتمل پالیسی کی منظوری دے دی جاتی ہے تو یہ پاکستان کو محض ایک خریدار کے بجائے توانائی کے عالمی نقشے پر ایک اہم اسٹوریج اور تجارتی مرکز کے طور پر ابھارے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp