امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیسری مدت کے لیے صدر بننے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ امریکی آئین انہیں 2028 کے صدارتی انتخابات میں امیدوار بننے کی اجازت نہیں دیتا۔
جنوبی کوریا روانگی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر آئین پڑھا جائے تو یہ واضح ہے کہ انہیں دوبارہ انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں، جو افسوس کی بات ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے 2028 کے صدارتی انتخاب کے لیے جے ڈی وینس کی حمایت کا اشارہ دے دیا
ٹرمپ نے کہا کہ وہ تیسری مدت کے لیے انتخاب لڑنا پسند کریں گے، تاہم قانون اس حوالے سے بہت واضح اور مضبوط ہے۔
امریکی آئین کی 22ویں ترمیم کے تحت کوئی شخص 2 مرتبہ سے زیادہ امریکا کا صدر منتخب نہیں ہوسکتا۔ ٹرمپ پہلے ہی 2 مرتبہ صدارتی انتخاب جیت چکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی مختلف اجتماعات، انٹرویوز اور عوامی تقاریب کے دوران تیسری مدت صدارت کے امکان کا ذکر کرتے رہے ہیں، جس کے باعث ان کے حامیوں اور اتحادیوں میں 2028 کے ممکنہ انتخاب کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری رہی ہیں۔
ٹرمپ کے بعض حامیوں کی جانب سے آئینی پابندی ختم کرنے کے مختلف امکانات بھی زیر بحث آتے رہے ہیں، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق صدر کی مدت کی موجودہ آئینی حد ختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم ضروری ہوگی، جس کا طریقہ کار انتہائی مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش پوری نہ ہوئی، امن کا نوبیل انعام 2025 وینزویلا کی ماریہ کورینا کو مل گیا
تجزیہ کاروں کے مطابق تیسری مدت سے متعلق ٹرمپ کے بیانات سیاسی حکمت عملی کا حصہ بھی ہوسکتے ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنے حامیوں کو متحرک رکھنے اور ریپبلکن پارٹی میں اپنے مستقبل کے کردار سے متعلق بحث کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے تازہ بیان میں اگرچہ تیسری مدت کی خواہش کا اظہار کیا، تاہم ان کے مطابق موجودہ آئینی پابندی کے باعث 2028 کا صدارتی انتخاب لڑنا ممکن نہیں۔














