شدید گرمی اور غیر معمولی خشک سالی نے یورپ کے جوہری بجلی گھروں کو بھی خشک کر دیا ہے، پانی کی سطح میں کمی کے باعث رومانیہ اپنا آخری فعال جوہری ری ایکٹر بند کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے جبکہ فرانس اور دیگر ممالک میں بھی جوہری بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
حکومتیں توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں، تاہم گرمی کی لہر سے یورپی معیشت کو بھی بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔
ڈینیوب میں پانی کم، رومانیہ کا جوہری بجلی گھر خطرے میں
رومانیہ کی سرکاری جوہری توانائی کمپنی نیوکلیئر الیکٹرِکا نے خبردار کیا ہے کہ دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح مسلسل کم ہونے کے باعث ملک کا آخری فعال جوہری ری ایکٹر جمعرات کو بھی بند کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یورپ میں ایک اور شدید گرمی کی لہر کا خدشہ، برطانیہ اور فرانس میں الرٹ جاری
ڈینیوب تقریباً 1,770 میل طویل دریا ہے اور رومانیہ کے سِرناوڈا جوہری بجلی گھر کے ٹھنڈا رکھنے والے نظام کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہے۔ اس بجلی گھر کے 2 ری ایکٹر عام حالات میں ملک کی تقریباً 1/5 بجلی فراہم کرتے ہیں۔
رومانیہ نے اگست بھر توانائی کی ہنگامی صورتحال نافذ کر رکھی ہے اور پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے دریا کے راستے کو گہرا کرنے کے لیے کھدائی شروع کی جبکہ پانی کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے پتھروں سے بھرے بارجز بھی دریا میں اتارے گئے ہیں۔
رومانیہ کی بحری افواج نے گزشتہ ہفتے دریا کی تہہ میں ایک قابو شدہ زیر آب دھماکا بھی کیا، جس کا مقصد سِرناوڈا بجلی گھر کے ٹھنڈا رکھنے والے نظام تک پانی کے بہاؤ کو بہتر بنانا تھا۔
ہنگری کو بارش سے وقتی ریلیف
ہنگری میں صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے جہاں بارش کے باعث دریائے ڈینیوب کی سطح میں اضافہ ہوا اور پاکش جوہری بجلی گھر میں ایک مزید ٹربائن دوبارہ چلانے کی اجازت مل گئی۔
وزیراعظم پیٹر ماگیار نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا کہ بجلی گھر کی 8 ٹربائنز میں سے 2 اب دوبارہ بجلی پیدا کر رہی ہیں۔ پاکش جوہری بجلی گھر عام طور پر ہنگری کی تقریباً نصف بجلی فراہم کرتا ہے، اس لیے اس کی پیداوار میں کمی ملکی توانائی کے نظام پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
فرانس میں جوہری پیداوار متاثر، جیلی فش بھی مسئلہ بن گئی
فرانس میں صورتحال بھی تشویش ناک ہے، جہاں جوہری توانائی ملک کی تقریباً 70 فیصد بجلی پیدا کرتی ہے۔ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ای ڈی ایف نے متعدد ری ایکٹرز کی پیداوار ماحولیاتی مسائل کے باعث کم کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، صرف جون میں 12 ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ
فرانس کے گراویلینز جوہری بجلی گھر کے 3 ری ایکٹرز رواں ہفتے کے آغاز میں ‘جیلی فش کی بڑے پیمانے پر آمد’ کے باعث بند کرنا پڑے۔ جیلی فش کی غیر معمولی تعداد نے ٹھنڈا رکھنے والے نظام کو متاثر کیا، جس کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت ری ایکٹرز خودکار طور پر بند ہو گئے۔
گراویلینز ملک کے بڑے جوہری بجلی گھروں میں شمار ہوتا ہے اور یہ مسلسل دوسرے سال ہے کہ جیلی فش کے بڑے جھنڈ نے وہاں ری ایکٹرز کی سرگرمی متاثر کی ہے۔
شدید گرمی، جنگلات کی آگ اور خشک سالی کے باعث فرانس میں اس موسم گرما میں غیر معمولی تعداد میں جوہری بجلی گھروں کی پیداوار متاثر یا معطل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
پانی پر انحصار نے جوہری توانائی کی کمزوری ظاہر کر دی
ماہرین کے مطابق جوہری بجلی گھر عموماً دریاؤں، جھیلوں یا سمندری ساحلوں کے قریب تعمیر کیے جاتے ہیں تاکہ ری ایکٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی دستیاب ہو۔
تاہم شدید گرمی اور خشک سالی کے دوران دریاؤں کا پانی کم ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا درجہ حرارت بھی بڑھ جاتا ہے، جس سے ٹھنڈا رکھنے والے نظام پر دباؤ بڑھتا ہے اور بعض بجلی گھروں کو اپنی پیداوار کم کرنا یا عارضی طور پر بند کرنا پڑتا ہے۔
یورپی حکومتیں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اضافی یا جدید ٹھنڈا رکھنے والے نظام کی تنصیب، دیکھ بھال کے کام کو شدید گرمی کے ادوار سے پہلے یا بعد میں منتقل کرنے اور دیگر ہنگامی انتظامات پر غور کر رہی ہیں۔
برطانیہ میں بھی ہنگامی اجلاس
برطانیہ میں شدید گرمی، جنگلات کی آگ اور خشک سالی کے پیش نظر وزیراعظم اینڈی برنہم نے بدھ کو حکومت کی ہنگامی کوبرا کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔
یہ رواں سال گرمی کی لہر کے حوالے سے کوبرا کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہے۔ برطانیہ میں جمعرات کو درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ، یعنی 100.4 ڈگری فارن ہائٹ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یورپ میں شدید گرمی سے ہلاکتیں 3,700 سے متجاوز، فرانس، بیلجیم اور ہالینڈ سب سے زیادہ متاثر
توانائی اور موسمیاتی انٹیلی جنس یونٹ کے سربراہ گیریتھ ریمَنڈ کنگ نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گرمی کی لہر، جنگلات کی آگ اور دریاؤں کو متاثر کرنے والی خشک سالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موسمیاتی نظام شدید بحران کا شکار ہے۔
ان کے مطابق اگر معدنی ایندھن کے استعمال اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی نہ کی گئی تو صورتحال وقت کے ساتھ مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
گرمی یورپی معیشت کے لیے بھی بڑا خطرہ
یورپ میں موسم کی شدت کے اثرات صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معاشی سرگرمیوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ڈچ بینک ٹرائی ڈوس کی 8 اگست کو شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یورپ میں شدید گرمی کے منفی اثرات سے تقریباً 180 ارب یورو، یعنی 207.7 ارب ڈالر، کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ رقم یورپی یونین کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 1 فیصدکے برابر ہے، جو 2026 میں 27 رکنی بلاک کی متوقع معاشی شرح نمو کے لگ بھگ ہے۔
رپورٹ کے مطابق شدید گرمی سے زرعی پیداوار متاثر ہونے، خوراک کی قیمتیں بڑھنے، توانائی کی پیداوار میں کمی، بجلی مہنگی ہونے، نقل و حمل کے نظام میں خلل اور سفری اخراجات بڑھنے کے علاوہ کارکنوں کی پیداواری صلاحیت میں کمی جیسے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یوں یورپ کی موجودہ شدید گرمی صرف موسم کی ایک غیر معمولی صورتحال نہیں رہی بلکہ اس نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے، جوہری بجلی کی پیداوار، پانی کے وسائل اور معاشی نمو کے باہمی تعلق کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔














