جرمنی نے خفیہ اداروں کو وسیع اختیارات دینے کا فیصلہ کرلیا، کن ممالک سے خطرہ ہے؟

بدھ 12 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمنی نے اپنے خفیہ اداروں کو مزید طاقتور بنانے کے لیے ایک نئے قانون کے مسودے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ملک کے انٹیلی جنس اداروں کو سائبر حملوں، غیر ملکی جاسوسی اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے وسیع عملی اور تکنیکی اختیارات حاصل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی: بس ڈرائیور کی بہادری نے نیٹو کے اہم ایئرپورٹ کو تباہی سے بچا لیا

جرمن کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے مسودے کے مطابق یہ اقدامات وفاقی انٹیلیجنس سروس بی این ڈی اور داخلی سیکیورٹی ادارے بی ایف وی کو جدید صلاحیتوں سے لیس کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں جن میں سائبر کارروائیوں اور ہیکنگ کی صلاحیتیں بھی شامل ہوں گی۔

جرمنی کے وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے کہا کہ پہلی بار ان اداروں کو ایسے عملی اختیارات دیے جا رہے ہیں جو ملک کے سیکیورٹی نظام میں بنیادی تبدیلی لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی اپنے خفیہ اداروں کو جدید ٹیکنالوجی خاص طور پر مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنا رہا ہے۔

خفیہ اداروں کو کون سے نئے اختیارات ملیں گے؟

نئے مسودے کے تحت جرمن خفیہ اداروں کو ایسے سائبر حملہ آوروں کے کمپیوٹر سسٹمز میں داخل ہونے، ڈیٹا نقل کرنے یا حذف کرنے اور غیر ملکی ریاستی مہمات میں استعمال ہونے والے ڈیجیٹل آلات کو ناکارہ بنانے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔

مزید پڑھیے: جرمنی میں ہر سال ایک لاکھ ہنر مند افراد کی کمی، پاکستانی نوجوانوں کے لیے سنہری موقع

اس کے علاوہ ادارے حساس تنصیبات، جیسے دھماکا خیز مواد کو خفیہ طور پر ناکارہ بنانے کے لیے کارروائی کر سکیں گے۔ انہیں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مالیاتی اداروں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے معلومات حاصل کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا جبکہ ان اداروں کو تعاون نہ کرنے کی صورت میں معائنوں اور جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جرمنی نے خفیہ اداروں کو مزید طاقتور بنانے کا فیصلہ کیوں کیا؟

جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو روس اور ایران سمیت بعض ممالک کی جانب سے ہائبرڈ حملوں، جاسوسی، سائبر حملوں اور تخریبی سرگرمیوں کے بڑھتے خطرات کا سامنا ہے۔

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے دفتر کی سربراہ نینا وارکن نے خبردار کیا کہ جرمنی کو اس وقت انتہائی سنگین خطرات درپیش ہیں اور ملک صرف اتحادی ممالک کی انٹیلی جنس معلومات پر انحصار نہیں کر سکتا۔

مزید پڑھیں: جرمنی کو ملازمت کے لیے کس شعبے کے ماہرین کی اشد ضرورت ہے؟

وزیر داخلہ ڈوبرنٹ نے کہا کہ جرمنی روزانہ کی بنیاد پر جاسوسی، تخریب کاری، سائبر حملوں اور بیرونی طاقتوں کی ایسی خفیہ کارروائیوں کا ہدف بنتا ہے جن کا مقصد ملک کو غیر مستحکم کرنا اور سیاسی و سماجی تبدیلیوں کو متاثر کرنا ہے۔

شہری آزادیوں پر خدشات

تاہم خفیہ اداروں کو دیے جانے والے ان وسیع اختیارات پر انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ہیکنگ، ڈیٹا تک رسائی اور نگرانی کے بڑھتے اختیارات سے شہریوں کی نجی زندگی متاثر ہو سکتی ہے اور ان اختیارات کے غلط استعمال کا خطرہ موجود ہے۔

یہ مسودہ ابھی جرمن پارلیمان کی منظوری کا منتظر ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت خفیہ اداروں کی نگرانی اور اختیارات کے استعمال کا جائزہ ایک بیرونی نگران ادارے آزاد کنٹرول کونسل کے ذریعے لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: کیا آپ جرمنی میں لاگو ان دلچسپ و عجیب قوانین سے واقف ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق جرمنی ایک ایسے وقت میں اپنے سیکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط بنا رہا ہے جب یورپ میں سائبر جنگ، غیر ملکی مداخلت اور ہائبرڈ خطرات کو قومی سلامتی کے لیے بڑے چیلنجز قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر: ن لیگی امیدوار نے فیصل راٹھور کی کامیابی چیلنج کردی، دوبارہ گنتی کی درخواست سماعت کے لیے منظور

یورپ میں شدید خشک سالی، توانائی کا نیا بحران پیدا، رومانیہ کا آخری فعال جوہری ری ایکٹر بھی بند ہونے کے قریب

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ ٹیم پر کرفیو نہیں ہوگا، جو روٹ نے کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کردیا

خیبرپختونخوا میں 15 اگست تک بارشوں کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ڈاکٹر کی فیس سے بچنے کے لیے مریضوں کے انوکھے بہانے، ایک خاتون ڈاکٹر کی بپتا

ویڈیو

سہیل آفریدی فارغ، اکبر ایس بابر کی تابڑ توڑ واپسی، عمران خان کا نیا پلان کیا ہے؟

جشن آزادی کی تیاریاں عروج پر، راجا بازار میں سبز ہلالی پرچموں اور جھنڈیوں کی بہار

پاکستان کے نوجوان ’کاکروچ‘ نہیں، قوم کا مستقبل اور اقبال کے شاہین ہیں، رانا مشہود احمد خان

کالم / تجزیہ

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

13 برس بعد معلوم ہوا

کشمیر اب ایک ٹیسٹ کیس ہے