اسکول کھلتے ہی بچوں کے اسکرین ٹائم کا امتحان، والدین کے لیے نئی مشکل

بدھ 12 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ والدین میں بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ بچوں کے اسکرین ٹائم سے متعلق گھریلو اصولوں پر عمل درآمد کو متاثر کر رہا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم گرما میں بننے والی عادات اسکول کھلنے کے بعد بھی بچوں کے ساتھ برقرار رہ سکتی ہیں۔

تحقیق میں امریکا بھر سے 822 والدین اور نگہداشت کرنے والوں کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے 4 سے 8 سال کی عمر کے بچوں والے خاندانوں میں والدین کے دباؤ اور بچوں کے اسکرین استعمال سے متعلق قواعد کا جائزہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر سرگرمی کم، برطانوی بالغ صارفین اسکرین ٹائم گھٹانے کے لیے کمربستہ

تحقیق کی سربراہ اینڈ مورئیرا اور سینیئر محقق شیلے گریفتھ کے مطابق جذباتی دباؤ کا شکار والدین بچوں کے اسکرین ٹائم کی حدود مقرر کرنے اور ان پر عمل درآمد کرانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض والدین بچوں کے مشکل رویے سے نمٹنے کے لیے اسکرین کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج طبی جریدے ’فیملی ریلیشنز‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

ماہرین اطفال کے مطابق بچوں کے اسکرین ٹائم کو روزانہ 2 گھنٹے تک محدود کرنے کی پرانی تجویز اب موجودہ دور کے ٹیکنالوجی استعمال کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔

یہ بھی پڑھیں: آئی فون کے نئے نظام میں بچوں کے تحفظ کے لیے بڑے اقدامات، والدین کو مزید اختیارات مل جائیں گے

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہر اطفال جیسن ناگاتا کے مطابق خاندانوں کو موسم اور معمولات کے لحاظ سے اپنی ذرائع ابلاغ سے متعلق حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ہفتے کے دنوں اور ہفتہ وار تعطیلات کے لیے بھی مختلف اصول اختیار کیے جاسکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ٹیکساس ہیلتھ سائنس سینٹر کے ماہر نفسیات جیف ٹیمپل، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، کے مطابق اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب موسم گرما میں بچوں کے لیے نرم کیے گئے معمولات اسکول شروع ہونے کے بعد بھی تبدیل نہ کیے جائیں۔

بچوں کی نشوونما پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے ضرورت سے زیادہ ذرائع ابلاغ کے استعمال کو تعلیمی کارکردگی میں کمی، توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے اور ذہنی نشوونما کی رفتار سست ہونے سے جوڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی، نئے سخت قوانین نافذ

محققین کے مطابق اسکول شروع ہونے پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے بجائے والدین کو خاندان کی ضروریات کے مطابق اسکرین استعمال کے اصول وضع کرنے چاہئیں۔

فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے محققین نے والدین کو امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے مفت ’فیملی میڈیا پلان‘ سے مدد لینے کی تجویز دی ہے۔

اس منصوبے میں بچے کی عمر اور شخصیت، دیکھے جانے والے مواد کا معیار، اسکرین کے جذباتی رویے پر اثرات، نیند اور دیگر سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات اور خاندان میں اسکرین کے استعمال سے متعلق باہمی گفتگو کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اسکول کا نیا سال شروع ہونے سے قبل خاندانوں کے لیے اسکرین ٹائم کے معمولات کا ازسرنو جائزہ لینا بچوں کی تعلیم، نیند اور روزمرہ سرگرمیوں کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر: ن لیگی امیدوار نے فیصل راٹھور کی کامیابی چیلنج کردی، دوبارہ گنتی کی درخواست سماعت کے لیے منظور

یورپ میں شدید خشک سالی، توانائی کا نیا بحران پیدا، رومانیہ کا آخری فعال جوہری ری ایکٹر بھی بند ہونے کے قریب

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ ٹیم پر کرفیو نہیں ہوگا، جو روٹ نے کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کردیا

خیبرپختونخوا میں 15 اگست تک بارشوں کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ڈاکٹر کی فیس سے بچنے کے لیے مریضوں کے انوکھے بہانے، ایک خاتون ڈاکٹر کی بپتا

ویڈیو

سہیل آفریدی فارغ، اکبر ایس بابر کی تابڑ توڑ واپسی، عمران خان کا نیا پلان کیا ہے؟

جشن آزادی کی تیاریاں عروج پر، راجا بازار میں سبز ہلالی پرچموں اور جھنڈیوں کی بہار

پاکستان کے نوجوان ’کاکروچ‘ نہیں، قوم کا مستقبل اور اقبال کے شاہین ہیں، رانا مشہود احمد خان

کالم / تجزیہ

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

13 برس بعد معلوم ہوا

کشمیر اب ایک ٹیسٹ کیس ہے