پاکستان خلائی و بالائی فضائی تحقیقی کمیشن (سپارکو) نے جمعرات کو باضابطہ اعلان کیا کہ ملک کی پہلی چاند گاڑی کا نام ‘جناح-1’ رکھ دی گیا ہے، جو بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح سے منسوب کیا گیا۔
نام کا انتخاب کیسے ہوا
سپارکو کے مطابق یہ نام ملک بھر سے موصول ہونے والی 4,000 سے زیادہ تجاویز کے مکمل جائزے کے بعد ایک جیوری نے منتخب کیا، جو پاکستان کے خلائی پروگرام کے حوالے سے عوامی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
سپارکو نے بتایا کہ ’جناح-1‘ کا نام 7 مختلف شرکا نے تجویز کیا تھا، جس کے بعد ایک خصوصی تقریب میں منصفانہ انداز میں فاتح کے تعین کے لیے قرعہ اندازی کی گئی۔
سپارکو چیئرمین کا خطاب
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپارکو کے چیئرمین محمد یوسف خان نے شہریوں کی بھرپور شرکت کو سراہا اور چاند گاڑی کا نام قائدِ اعظم محمد علی جناح کے نام پر رکھنے کی قومی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جناح-1‘ محض ایک نام نہیں بلکہ استقامت، عزم اور ترقی کی اس جدوجہد کی علامت ہے جس کی مثال بانیٔ پاکستان نے قائم کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپنے پہلے قمری روور کو ان کے نام سے منسوب کر کے پاکستان دنیا کو یہ واضح پیغام دے رہا ہے کہ وہ اپنے بانی کی وراثت، عزم، محنت اور قیادت کو خلا کی نئی جہتوں تک لے جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
مشن کب اور کیسے لانچ ہوگا
سپارکو کے مطابق ’جناح-1‘ کو چین کے ’چانگ ای-8‘ مشن کے تحت 2029 میں چاند کے قطبِ جنوبی کی جانب روانہ کیا جائے گا۔
مقامی طور پر تیار کردہ یہ روور جدید سائنسی آلات سے لیس ہوگا، جو چاند پر پلازما اور تابکاری کا مطالعہ کرے گا، سطح کی جغرافیائی خصوصیات کی نقشہ سازی کرے گا اور مستقبل میں چاند سے متعلق تحقیق اور وہاں انسانی موجودگی کو ممکن بنانے کے لیے اہم تجربات انجام دے گا۔
پاکستان کی خلائی تحقیق میں اہم پیش رفت
یہ منصوبہ خلائی سائنس اور قمری تحقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔











