قومی سلامتی کے لیے بہتر گورننس ضروری، نیشنل سیکیورٹی کونسل میں زیر بحث لایا جائے، احمد بلال محبوب

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجیسلٹو ڈیویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیریسی کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ بہتر گورننس کا قومی سلامتی سے براہ راست تعلق ہے اور اس کو ممکن بنانے کے لئے اعلٰی سطح پر مباحثہ ہونا چاہیے۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں بہتر طرز حکمرانی کے قیام کے لیے اس معاملے پر قومی سیکیورٹی کونسل میں بحث کی جائے۔

احمد بلال محبوب نے کہا کہ پاکستان میں نیشنل سیکیورٹی کونسل اعلیٰ سطحی مشاورت کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم ہے اور بہتر گورننس جیسے معاملات کو یہاں زیر بحث لا کر مشترکہ فیصلے کیے جانے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کونسل اسی مقصد کے لئے قائم کی گئی تھی کہ قومی سلامتی پر اثر انداز ہونے والے معاملات پر سول اور فوجی قیادت باہمی مشاورت سے فیصلے کرے۔

پاکستان نے مختلف نظام آزمائے، مسئلہ صرف نظام کا نہیں

احمد بلال محبوب نے کہا کہ پاکستان میں کئی نظام حکومت آزمائے گئے لیکن ابھی تک کسی بھی نظام کی تبدیلی سے مسئلہ حل نہیں ہوا۔

پاکستان میں صدارتی نظام، پارلیمانی نظام اور بنیادی جمہوریت سمیت حکمرانی کے مختلف تجربات کیے جا چکے ہیں، لیکن صرف نظام تبدیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوا۔

بنیادی جمہوریت کا تجربہ 3 مرتبہ کیا گیا اور ہر بار ناکام ہوا، جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسے سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل نہیں تھی اور یہ اوپر سے نافذ کیا گیا نظام تھا۔

ٹیکنوکریٹس کی حکومت بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں

احمد بلال محبوب نے ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے تصور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک میں اس کے تجربات ہو چکے ہیں، لیکن اس سے کوئی ایسی تبدیلی نہیں آئی جو طویل عرصے تک قائم رہ سکے۔

انہوں نے بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ 2008 میں انتخابات کی نگرانی کے لیے وہاں گئے تھے۔ اس سے قبل تقریبا 3 سال وہاں ٹیکنو کریٹس کی حکومت رہی لیکن انہیں بالآخر منتخب حکومت کی طرف واپس جانا پڑا کیونکہ اہم فیصلوں کے لیے عوامی حمایت ضروری تھی۔

احمد بلال محبوب نے کہا کہ پاکستان کے ایوان بالا میں بھی ٹیکنو کریٹس کی نمائندگی موجود ہے۔ آئینی ترمیم سے صوبوں کی رضامندی کی شرط ختم کی جا سکتی ہے آئینی ترمیم سے نئے صوبوں کے لئے رضامندی کی شرط ختم ہو سکتی ہے

احمد بلال محبوب نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے لئے آئینی تحفظ ضروری ہے۔ لیکن نئے صوبوں کا قیام بہتر گورننس کے لئے لازم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کی تجویز نئی نہیں بلکہ 1973 کے آئین کی تشکیل کے وقت سے اس پر بحث ہوتی رہی ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبے بنانے، صدارتی یا پارلیمانی نظام اور مقامی حکومتوں کے نظام کی نوعیت ایسے موضوعات ہیں جو پاکستان میں بار بار زیر بحث آتے رہے ہیں۔

احمد بلال محبوب کے مطابق موجودہ آئین میں نئے صوبوں کا قیام انتہائی مشکل بنایا گیا ہے اور صوبے کی حدود تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی 2 تہائی اکثریت سے قرارداد اور اس کے بعد پارلیمان کی 2 تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ نظریاتی اور قانونی طور پر پارلیمان خود آئینی ترمیم کے ذریعے اس طریقہ کار کو تبدیل کر سکتی ہے اور یہ شرط ختم کی جا سکتی ہے کہ متعلقہ صوبائی اسمبلی پہلے منظوری دے۔

انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پارلیمان سادہ اکثریت سے ریاستوں کی تشکیل یا حدود میں تبدیلی کا فیصلہ کر سکتی ہے، جبکہ متعلقہ ریاستوں سے رائے تو لی جاتی ہے لیکن وہ رائے پارلیمان کے لیے پابندی نہیں ہوتی۔

احمد بلال محبوب کے مطابق پاکستان میں بھی یہ آئینی طور پر ممکن ہے، لیکن سیاسی طور پر اس کے انتہائی سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

سندھ میں شدید ردعمل کا خدشہ

ان کے مطابق خاص طور پر سندھ میں نئے صوبوں کے معاملے پر شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، کیونکہ صوبائی اختیارات کم کرنے کے تاثر کے ساتھ سندھ پہلے ہی اس معاملے میں انتہائی حساس ہے۔

انہوں نے ماضی میں چولستان کی نہروں کے معاملے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے سندھ کو کوئی نقصان نہیں ہونا تھا اور صرف پنجاب کا پانی استعمال ہونا تھا، لیکن اس کے باوجود سندھ میں شدید احتجاج ہوا اور وفاقی حکومت کو منصوبہ واپس لینا پڑا۔

احمد بلال محبوب نے کہا کہ پنجاب اسمبلی متفقہ طور پر جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو الگ صوبے بنانے کی قراردادیں منظور کر چکی ہے۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی ہزارہ صوبے کے قیام کی قرارداد منظور ہو چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نئے صوبوں کے بارے میں بحث کی گنجائش موجود ہے۔

کراچی کے بغیر سندھ کا تصور بھی مشکل

انہوں نے کہا کہ کراچی ایک بڑا معاشی شہر ہے اور اگر سندھ میں ایک سیاسی جماعت کی حکومت باقی سندھ میں ہو لیکن کراچی اس کے پاس نہ ہو تو اس کی سیاسی طاقت متاثر ہوگی۔

ان کے مطابق کراچی زیادہ آمدنی پیدا کرتا ہے تو قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے وسائل صوبوں میں تقسیم ہوتے ہیں لیکن کراچی اتنا بڑا شہر ہے کہ سندھ کے لیے کراچی کے بغیر صوبے کا تصور کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

چھوٹے صوبے گورننس بہتر ہونے کی ضمانت نہیں

احمد بلال محبوب نے چھوٹے صوبوں کو بہتر گورننس سے جوڑنے کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی یونٹس اور صوبے 2 مختلف تصورات ہیں۔

ان کے مطابق ڈویژنز، اضلاع اور تحصیل انتظامی یونٹس ہیں جبکہ صوبہ الگ آئینی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے نئے صوبوں کی تجویز دینے والوں کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ حقیقی صوبوں کی بات کر رہے ہیں یا کسی موجودہ صوبے کے اندر مزید بااختیار انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر گورننس بہتر بنانے کے لیے چھوٹے صوبوں کو حل سمجھا جا رہا ہے تو یہ درست دلیل نہیں، کیونکہ چھوٹے صوبوں اور حکمرانی کے معیار کا کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔

مؤثر بلدیاتی نظام ہو تو نئے صوبوں کی ضرورت کم ہو سکتی ہے

احمد بلال محبوب نے کہا کہ صوبے بنیں یا نہ بنیں، ایک مضبوط اور موثر مقامی حکومت کا قیام ہر صورت ضروری ہے۔

ان کے مطابق نئے صوبے بھی عوام کے انتہائی نچلی سطح تک نہیں پہنچیں گے، اس لیے تحصیل اور مقامی سطح پر عوام تک رسائی کے لیے بلدیاتی نظام بہرحال درکار ہوگا۔ اگر مقامی حکومت کا موثر نظٓم قائم ہو جائے تو ممکن ہے کہ نئے صوبوں کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔

مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دینے کی تجویز

احمد بلال محبوب نے تجویز دی کہ مقامی حکومتوں کے بنیادی اختیارات، وسائل کی تقسیم، اور مدت سمیت اہم معاملات کو آئین میں واضح طور پر درج کیا جائے، جس طرح وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے حوالے سے آئین میں بنیادی معاملات طے کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق بھارت نے آئین بننے کے تقریباً 45 سال بعد یہ محسوس کیا کہ آئین میں مقامی حکومتوں کا ذکر اور ضمانت موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ نظام مؤثر نہیں ہو رہا۔ 93-1992 میں کی جانے والی 2 ترامیم کے ذریعے نچلی سطح پر مقامی حکومتوں کے بنیادی ڈھانچے کو آئینی تحفظ دیا گیا۔ جس کے بعد وہاں شہری سطح اور پنچائت کا نظام زیادہ مستحکم ہوا۔

مقامی حکومتوں کو صرف 5 فیصد ترقیاتی فنڈز

احمد بلال محبوب نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں کے اوسط کے مطابق مقامی حکومتوں کو ترقیاتی فنڈز کا صرف 5 فیصد ملتا ہے۔

جبکہ دنیا کے ان ممالک میں جہاں مؤثر مقامی حکومتیں قائم ہیں، 35 سے 50 فیصد تک ترقیاتی اخراجات مقامی حکومتوں کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

اٹھارویں ترمیم پر نظرثانی کی ضرورت

احمد بلال محبوب نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ دلیل درست دکھائی دیتی ہے کہ وفاق کے پاس اپنی ذمہ داریوں کے مقابلے میں وسائل کم رہ جاتے ہیں جبکہ صوبوں کو زیادہ وسائل منتقل ہو جاتے ہیں۔

ان کے مطابق اٹھارویں ترمیم کے وقت یہ توقع تھی کہ وفاق اپنے محصولات میں اضافہ کرے گا اور اس کے بعد وفاق کے حصے میں آنے والے وسائل دفاع، قرضوں کی ادائیگی اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہوں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کے محصولات میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوا کیونکہ کاروباری سرگرمی اس رفتار سے نہیں بڑھی جس کی توقع تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp