غزہ میں روزانہ 30 سے 40 افراد کو قتل کیا جائے، اسرائیلی وزیر کا مطالبہ

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کے وزیر قومی سلامتی اور انتہائی دائیں بازو کے رہنما اتمار بن گویر نے غزہ میں روزانہ 30 سے 40 افراد کو قتل کرنے کی وکالت کردی۔

اے پی کے مطابق اتمار بن گویر نے یہ بیان غزہ میں حماس کی قید سے رہا ہونے والے سابق اسرائیلی یرغمالی روم براسلاوسکی کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران دیا۔
انہوں نے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کمی پر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں روزانہ 30 سے 40 افراد کو نشانہ بنایا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: نیتن یاہو نے ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ مسترد کردیا، حماس کو غیر مسلح کرنے تک اسرائیلی فوج واپس نہیں ہوگی

بن گویر نے مزید کہا کہ صرف ان افراد کو نشانہ نہ بنایا جائے جو فوری خطرہ ہیں بلکہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں وہ ’زندگی کے لائق‘ نہیں سمجھتے۔

اے پی کے مطابق بن گویر کے ماضی کے ایسے بیانات کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے اور ان کے بعض بیانات کو عالمی عدالت انصاف میں مبینہ نسل کشی کے ارادے کے شواہد کے طور پر بھی پیش کیا جا چکا ہے، تاہم اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اسرائیلی وزیر قومی سلامتی نے اسی گفتگو میں غزہ سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت اور بے دخلی کی بھی حمایت کی اور غزہ میں اسرائیلی آبادکاری کی بات کی۔

بن گویر اسرائیلی فوج کو براہ راست احکامات دینے کا اختیار نہیں رکھتے، تاہم وہ اسرائیلی پولیس اور جیلوں کے نگران وزیر ہیں اور نیتن یاہو کی حکومت میں انتہائی بااثر دائیں بازو کے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:غزہ میں کینسر کے مریضوں کی اموات میں ہوشربا اضافہ، اسرائیلی پابندیاں جان لیوا بن گئیں

اے پی کے مطابق اکتوبر میں اسرائیل میں انتخابات ہونے والے ہیں اور حالیہ عرصے میں بن گویر جیسے انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp