ڈیموکریٹس کا یو ایس ایس ابراہم لنکن کی صورتحال پر ٹرمپ انتظامیہ سے جواب طلب

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی تقریباً 9 ماہ سے جاری تعیناتی پر عملے کے حوصلے، ذہنی صحت اور رہائشی حالات سے متعلق تشویش بڑھ گئی؛ سینیٹر روبن گالیگو نے اسے ’انتہائی سنگین مسئلہ ‘ قرار دے دیا۔

امریکی ڈیموکریٹس نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر عملے کی صورتحال سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ سے جواب طلب کرنے کا مطالبہ مزید شدت اختیار کر دیا ہے۔ جہاز کی مشرق وسطیٰ میں تقریباً 9 ماہ سے جاری تعیناتی اور 200 سے زائد دنوں تک کسی بندرگاہ پر قیام نہ کرنے کے باعث اس پر موجود تقریباً 5 ہزار امریکی بحری اہلکاروں اور میرینز کے حوصلے، ذہنی صحت اور رہائشی حالات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے دنیا کا سب سے بڑا امریکی بحری بیڑہ بحیرہ روم پہنچ گیا، ابراہم لنکن بھی مشرقِ وسطیٰ میں موجود

ایریزونا سے ڈیموکریٹ سینیٹر اور سابق امریکی میرین روبن گالیگو نے کہا کہ جہاز پر مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کی نہ مناسب منصوبہ بندی کی اور نہ ہی یہ سوچا کہ جنگ سے کیسے نکلا جائے گا، جبکہ تنازع کس طرح شدت اختیار کرے گا، اس کا بھی درست اندازہ نہیں لگایا گیا۔

 گالیگو نے خبردار کیا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابراہم لنکن کے عملے کے مسائل کو نظرانداز کرنے سے فوجی اہلکاروں میں فوج چھوڑنے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔

امریکی بحریہ سے متعلق رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر موجود اہلکار شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور بعض اہلکاروں کی سمندر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ڈیموکریٹ ارکان کانگریس نے ان حالات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ان رپورٹس کو ’ مکمل طور پر غلط انداز میں پیش کیا گیا‘ قرار دیا، جبکہ صدر ٹرمپ نے تعیناتی کے دورانیے کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ یہ مدت ’’بالکل بھی کافی نہیں‘‘ ہے۔

یہ بھی پڑھیے امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحر ہند میں اتار دیا

میری لینڈ کے ڈیموکریٹ گورنر اور سابق فوجی ویس مور نے بھی ٹرمپ کے ردعمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر کا طرزِعمل انہیں شدید غصہ دلاتا ہے۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ابراہم لنکن کے حالیہ دورے کے بعد عملے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہلکار انتہائی مشکل حالات میں بھی مضبوط ٹیم کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے بھی طویل تعیناتی کے عملے پر پڑنے والے اثرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کوپر کی جانب سے اہلکاروں کو جلد گھر واپسی کی یقین دہانی کے بعد ان کے حوصلے میں بہتری آئی ہے۔ تاہم ابراہم لنکن کی واپسی کی حتمی تاریخ تاحال سامنے نہیں آئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp