نئے صوبوں کی بحث دوبارہ شروع ہونا اچھی بات، اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا، ایس ڈی پی آئی کے زیراہتمام مباحثہ

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممتاز مقررین اور ماہرین نے شرکت کی۔

مباحثے میں ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام، اختیارات کی تقسیم، مضبوط بلدیاتی نظام، مالی خودمختاری اور مؤثر گورننس سمیت مختلف امور پر اظہار خیال کیا گیا۔

مزید پڑھیں: نئے صوبے بنیں یا نہیں؟ سوشل میڈیا پر صارفین کی آرا منقسم

نئے صوبوں کی بحث دوبارہ شروع ہونا بہت اچھی بات ہے، قمر زمان کائرہ

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہاکہ نئے صوبوں کی بحث دوبارہ شروع ہونا بہت اچھی بات ہے۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں اختیارات کی تقسیم سمیت بہت سارے ایشوز ہیں۔ ہمیں وسائل، معدنیات، پانی اور اختیارات کی تقسیم کے مسائل ہیں۔

قمر زمان کائرہ نے کہاکہ نئے صوبوں کی بحث میں خیال رکھنا چاہیے کہ دوریاں نہ بڑھیں۔ کوئی بھی جماعت اختیارات کو نیچے منتقل نہیں کرنا چاہتی، بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانا چاہیے۔

پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے، فواد چوہدری

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہاکہ عوامی مسائل کے حل کیلئے مضبوط بلدیاتی نظام ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے چاہئیں۔ نئے انتظامی یونٹس بننے سے براہ راست عوام کو فائدہ ہوگا۔

فواد چوہدری نے کہاکہ پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے۔ نئے صوبوں کے ساتھ لوکل گورنمنٹ اور ڈیولوشن کے نظام پر بھی عملدرآمد ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ صوبائی سیٹ اپ اور گورننس اسٹرکچر میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

فواد چوہدری نے کہاکہ نئے صوبوں کا قیام صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے کا معاملہ نہیں، اصل مسئلہ گورننس کا ہے۔ مؤثر گورننس کے بغیر نئے صوبوں کے قیام سے مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہوں گے۔

انتظامی یونٹس زبان، نسل یا تعصب کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہییں، بیرسٹر عقیل ملک

وفاقی وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہاکہ انتظامی یونٹس کی تشکیل زبان، نسل یا کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ قومی مفاد اور عوامی سہولت کی بنیاد پر کیا جائے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پورے پاکستان میں انتظامی یونٹس کے لیے واضح اور یکساں معیار مقرر کیا جائے۔ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے قومی سطح پر واضح پالیسی ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ انتظامی اصلاحات میں مالی اختیارات کی منتقلی یقینی بنانا ہوگی۔ مقامی حکومتوں کی مالی خودمختاری مؤثر نظامِ حکمرانی کے لیے ضروری ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہاکہ عوامی سہولت کے لیے انتظامی اختیارات کے ساتھ مالی اختیارات بھی منتقل کیے جائیں۔ نئے انتظامی یونٹس کے لیے یکساں معیار اور شفاف طریقہ کار اپنایا جائے۔

بڑے صوبوں اور عوام کے درمیان انتظامی فاصلے کو کم کرنا ضروری ہے، سلمان اکرم راجا

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہاکہ بڑے صوبوں اور عوام کے درمیان انتظامی فاصلے کو کم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ صوبوں کی تقسیم کے ساتھ لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانا بھی ضروری ہے۔ آئین کے آرٹیکل 148 میں لوکل گورنمنٹ کے اختیارات مزید واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کے انتظامی، سیاسی اور مالی اختیارات آئین میں واضح کیے جائیں۔ لوکل گورنمنٹ کو آئینی تحفظ اور مؤثر اختیارات دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ صوبائی اسمبلیوں کے اختیار سے آگے بڑھ کر لوکل گورنمنٹ کو مضبوط آئینی تحفظ دیا جائے۔

سلمان اکرم راجا نے کہاکہ لوکل گورنمنٹ کو مالی وسائل کی فراہمی کے لیے مؤثر مالیاتی نظام ضروری ہے۔ صوبائی فنانس کمیشن کے ذریعے وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے کہاکہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ کم کرنا مؤثر حکمرانی کے لیے ضروری ہے۔ نئے صوبوں کے ساتھ مضبوط اور بااختیار لوکل گورنمنٹ بھی ضروری ہے۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ منتخب پارلیمنٹیرینز کی ذمہ داری ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر فیصلے کریں۔

نئے انتظامی یونٹس پر سیاسی جماعتوں میں اتفاقِ رائے ضروری ہے، ہارون الرشید

ہارون الرشید نے کہاکہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو اتفاقِ رائے پیدا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر قومی مفاد میں فیصلہ کریں۔ انتظامی یونٹس کا بنیادی مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

ہارون الرشید نے کہا کہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی انتظامی اصلاحات کا بنیادی مقصد ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ قومی مفاد اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔

مزید پڑھیں: آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے بننے چاہییں، سندھ میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایم کیو ایم

انہوں نے کہاکہ انتظامی یونٹس کے قیام پر سیاسی جماعتوں کا اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ عوامی سہولت اور بہتر انتظامی نظام کے لیے نئے انتظامی یونٹس پر غور کیا جائے۔

ہارون الرشید نے کہاکہ نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ پارلیمنٹ میں زیرِ بحث آنا چاہیے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے میں اہم کردار ادا کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp