سندھ کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری فیشل ریکگنیشن سے مانیٹر کرنے کا آغاز

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے فیشل ریکگنیشن پر مبنی حاضری نظام کا آج سے باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

محکمہ تعلیم سندھ نے فیشل ریکگنیشن اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سسٹم (FRAMES) کو ابتدائی طور پر صوبے کے 6 اضلاع میں نافذ کیا ہے، جس کے تحت 49 ہزار 565 تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کی حاضری مانیٹر کی جائے گی۔

مزید پڑھیں:سندھ کے تباہ حال سرکاری اسکول کا منفرد استاد

پائلٹ منصوبے کے لیے کراچی ایسٹ، حیدرآباد، نوشہرو فیروز، جیکب آباد، گھوٹکی اور عمرکوٹ کو منتخب کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان اضلاع میں نظام کے نتائج اور تجربے کی بنیاد پر اسے مرحلہ وار پورے سندھ کے سرکاری اسکولوں تک توسیع دی جائے گی۔

نئے نظام کے تحت اساتذہ اور عملے کی آمد اور روانگی دونوں کا ریکارڈ فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ کیا جائے گا۔ حاضری کے لیے ہر استاد کے پاس اپنا اسمارٹ فون ہونا ضروری نہیں، بلکہ ہیڈ ماسٹر یا کسی ساتھی کے موبائل فون کے ذریعے بھی حاضری لگائی جا سکے گی۔

سسٹم میں آف لائن حاضری کی سہولت بھی موجود ہے۔ انٹرنیٹ کنکشن دستیاب نہ ہونے کی صورت میں حاضری ریکارڈ کی جا سکے گی اور رابطہ بحال ہونے کے بعد ڈیٹا خودکار طور پر اپ ڈیٹ ہو جائے گا۔

تاہم نظام کے پہلے ہی روز بعض مقامات سے موبائل ایپلی کیشن کے کام نہ کرنے یا حاضری کے اندراج میں مشکلات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض صارفین کو ایپلی کیشن تک رسائی اور حاضری ریکارڈ کرنے میں تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے تکنیکی مسائل کے حل کے لیے پہلے ہی ایک طریقہ کار وضع کیے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔

اساتذہ موبائل ایپ کے ذریعے اپنی ماہانہ حاضری کا ریکارڈ دیکھنے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے علاوہ گھر بیٹھے چھٹی کی درخواست بھی جمع کرا سکیں گے، جس کی آن لائن منظوری کا نظام بھی موجود ہوگا۔

محکمہ تعلیم کے مطابق نظام کے نفاذ سے قبل انتظامی افسران، اسکول سربراہان اور اساتذہ کی تربیت مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ اسکول سربراہان کو اساتذہ کی رہنمائی کے لیے خصوصی تربیت بھی دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:سندھ میں اسکولوں کے لیے نئے اوقات کار، نوٹیفکیشن جاری

صوبائی حکومت کے مطابق نئے سسٹم کا مقصد محض حاضری ریکارڈ کرنا نہیں بلکہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی موجودگی یقینی بنانا اور طلبا کو تدریسی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ابتدائی تکنیکی مشکلات پر قابو پانے کے بعد یہ نظام سندھ کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری روکنے اور تعلیمی نظام میں بہتری لانے میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی مسائل حل نہ ہوئے تو بی پی ایل منعقد نہیں کریں گے، تمیم اقبال

واٹس ایپ اب کاروباری اداروں سے صارفین کے جوابات پر بھی فیس وصول کرے گا

پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں

بی این پی رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے مہنگا

ویڈیو

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟