وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیتِ خواتین (فوسپاہ) نے خاتون افسر کو ہراساں کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سرکاری محکمے کے جونیئر کلرک کو ملازمت سے برطرف اور 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ شریک ملزم کے خلاف ہراسانی میں سہولت کاری کا الزام ثابت نہ ہونے پر شکایت خارج کر دی گئی۔
وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے جونیئر کلرک کی برطرفی کا حکم دیتے ہوئے اس پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ فیصلے کے مطابق جرمانے کی 2 لاکھ روپے رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی، جبکہ 8 لاکھ روپے متاثرہ خاتون افسر کو ادا کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے خواتین نے ہنی ٹریپ اور جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا، کمرے میں خفیہ کیمرے لگائے گئے، شیر افضل مروت کا انکشاف
سرکاری محکمے میں اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکریٹری کے عہدے پر تعینات خاتون افسر نے شکایت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ 14 نومبر 2025 کو جونیئر کلرک ان کے دفتر میں آیا، بدتمیزی کی اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔ خاتون کے مطابق ملزم نے انہیں دیوار سے دھکیلا اور زبردستی خاموش کرانے کی کوشش کی۔
خاتون افسر نے بتایا کہ انہوں نے واقعے کے فوراً بعد ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمنسٹریشن) کو اس کی اطلاع دی۔ فوسپاہ کے فیصلے میں کہا گیا کہ گواہوں کے بیانات سے بھی اس امر کی تصدیق ہوئی کہ واقعے کی بروقت اطلاع دی گئی تھی اور شکایت کنندہ کو اس واقعے کے باعث شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے آن لائن جنسی ہراسانی میں ملوث مجرم کو 3 سال قید با مشقت کی سزا
فوسپاہ نے شواہد اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد جونیئر کلرک کو ہراسانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے برطرفی اور جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ دوسرے شریک ملزم کے خلاف ہراسانی میں سہولت کاری کا الزام ثابت نہ ہونے پر اس کے خلاف شکایت مسترد کر دی۔














