ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا اور امن کوششوں میں ترکیہ کی حمایت کی پیشکش کی۔
مزید پڑھیں:ترک صدر رجب طیب اردوان کا دورہ سعودی عرب، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات
ترک صدارتی دفتر کے مطابق اردوان نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری سے بھرپور فائدہ اٹھانا ضروری ہے، ترکیہ مذاکرات کے تسلسل کا خواہاں ہے اور امن کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
اردوان نے ٹرمپ سے گفتگو میں غزہ کی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور آبنائے ہرمز سے تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت کی بحالی پر بھی بات کی۔ ترکیہ نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں پر تنقید، جبکہ خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔
ترک صدر نے غزہ کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے وقت فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:ترک صدر رجب طیب اردوان کی وزیر اعظم ہاؤس آمد، گارڈ آف آنر پیش
ترکیہ نے امریکا، ایران، پاکستان اور قطر سمیت فریقین سے قریبی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔














