غزہ جنگ بندی منصوبہ: ٹرمپ کے داماد کی اسرائیل اور حماس سے بات چیت بے نتیجہ ختم

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر نے اسرائیلی اور حماس رہنماؤں سے دو روزہ ملاقاتیں مکمل کر لیں، تاہم غزہ سے متعلق امریکی منصوبے پر تعطل ختم کرنے میں کوئی نمایاں پیش رفت نہ ہو سکی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کر دیا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج انخلا نہیں کرے گی۔

جیرڈ کشنر نے پیر کو اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی، اس سے ایک روز قبل انہوں نے مصر میں حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات کی تھی۔ مذاکرات کا مقصد ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو دوبارہ آگے بڑھانا تھا، جو اکتوبر میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور غزہ میں مزید علاقوں پر قبضے کے باعث تعطل کا شکار ہے، جبکہ حماس نے اپنے ہتھیار چھوڑنے سے انکار کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے قاہرہ مذاکرات کا نیا دور: حماس کی مصری حکام سے ملاقات، جیریڈ کوشنر اور ٹونی بلیئر کی خطے میں آمد متوقع

ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق کشنر اور نیتن یاہو کی ملاقات میں کوئی بریک تھرو نہیں ہوا۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج اکتوبر کی جنگ بندی میں طے کردہ حد بندی لائن سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور غزہ میں اپنی ضرورت کے مطابق کارروائیاں جاری رکھے گی، جن میں 7 اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حملے میں شریک افراد کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کئی گھنٹے جاری رہی اور ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے ایلچی نکولے ملادینوف بھی اس میں شریک تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ملاقات کو ’گہری اور تعمیری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور بورڈ آف پیس اس بات پر متفق ہیں کہ غزہ کی تعمیر نو شروع کرنے سے پہلے حماس کو فوری طور پر مکمل طور پر غیر مسلح کیا جانا چاہیے، جس میں ہلکے ہتھیار بھی شامل ہیں۔ دونوں فریقوں نے غیر مسلح کرنے اور غیر عسکری بنانے کے لیے ایک ورکنگ گروپ جبکہ صفائی، صاف پانی اور دیگر عوامی صحت کے مسائل کے لیے ایک الگ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو نے ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ مسترد کردیا، حماس کو غیر مسلح کرنے تک اسرائیلی فوج واپس نہیں ہوگی

بورڈ آف پیس کے ایک عہدیدار نے مذاکرات کو ’تفصیلی اور انتہائی نتیجہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل پر اتفاق ہوا ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ سفارت کاروں کے مطابق نیتن یاہو کو آئندہ انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہے اور 27 اکتوبر کے ووٹ سے قبل ان کی جانب سے غزہ کے معاملے پر بڑی رعایت دینے کا امکان کم ہے۔ کشنر اور ملادینوف نے مصر میں حماس رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات کے بعد اسرائیل کا دورہ کیا، جبکہ کشنر کی حماس نمائندوں سے یہ دوسری معلوم ملاقات ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp