ڈیل یا ڈھیل؟‘، عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حکم پر لوگوں کی مختلف رائے

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اگلی سماعت تک شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے عمران خان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور انہیں سخت سکیورٹی میں اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے دوران سکیورٹی کے مؤثر انتظامات کیے جائیں اور اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال ہرگز متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج اور طبی معائنے کے لیے تشکیل دیے جانے والے میڈیکل بورڈ کے ذریعے ان کی صحت کا جائزہ لیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آج ہی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا

عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کے بعد ان کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض صارفین فیصلے کو عمران خان کے علاج کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں جبکہ مخالفین کی جانب سے اس فیصلے اور اس کے ممکنہ سیاسی اثرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

صحافی نصر اللہ ملک نے لکھا کہ عمران خان صاحب کا میڈیکل چیک اپ ہو گا اور ہسپتال منتقل ہونے کا امکان کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باخبر قانونی اور حکومتی ذرائع کے مطابق عدالت نے صرف میڈیکل بورڈ کے ذریعے معمول کے طبی معائنے کا حکم دیا تھا لیکن پی ٹی آئی اور میڈیا نے اسے عدالتی حکم پر اسپتال منتقلی کے طور پر پیش کر دیا۔

اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے سپریم کورٹ کے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان بھی ان کے علاج میں ہمراہ ہوں گے، جبکہ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی میڈیکل بورڈ کا حصہ ہوں گی۔ غریدہ فاروقی نے اس پیش رفت پر سوال اٹھاتے ہوئے مختصر مگر معنی خیز انداز میں لکھا ’اس قدر ڈیل؟ یا ڈھیل؟

ایک صارف نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشل منقل کرنے کا حکم دے دیا ہے، ڈیل کی پہلی سیڑھی تو طے ہو گئی بہتر ہوتا حکومت یہ کام خود کر لیتی۔

صحر انورد نے لکھا کہ عمران خان کو صحت کی جو سہولیات ملنی چاہیے تھیں وہ مل رہی ہیں،میرا نہیں خیال کہ اس میں سے کوئی ڈیل نکل رہی ہے یا کوئی ڈھیل ہو رہی ہے، نا ہی مقتدرہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے خائف ہے ایک سے دو ہفتے بعد خان صاحب واپس جیل ہی جائینگے، باقی ان کے مقدمات چلنے چاہئے اور انصاف ہونا چاہئے، اگر وہ بے قصور ہیں تو رہائی ملنی چاہئے اور اگر ان کا کوئی جرم ہے تو سزا۔

عارف یوسفزئی لکھتے ہیں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو ڈیل مبارک، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب جب کسی زیر حراست ملزم و مجرم عدالتی حکم پر جیل سے اسپتال منتقل ہوا ہے تو ڈیل ہی ہوتی ہے۔ جیل سے اسپتال اور اسپتال سے ریسٹ ہاوس کی کہانی پرانی ہے۔

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ عمران خان کو یہ ریلیف 3 سال کی طویل جدوجہد کے بعد ملا۔ یہ کوئی بڑا ریلیف نہیں بلکہ ایک معمولی قانونی حق تھا جس کے لیے بھی سپریم کورٹ تک جانا پڑا۔ عمران خان کو 8 ماہ تک ملاقاتوں سے محروم رکھا گیا۔ انہیں مناسب میڈیکل اور طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔ بلڈ پریشر جیسے طبی مسائل کے باوجود ان کے کیس میں غیر معمولی تاخیر اور سختی دیکھنے میں آئی۔ عام مقدمات میں اس نوعیت کا ریلیف ٹرائل کورٹ یا زیادہ سے زیادہ ہائی کورٹ سے چند دنوں میں مل جاتا ہے مگر عمران خان کے معاملے میں طویل قانونی جنگ لڑنا پڑی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp