کہکشاں میں اب تک کا تیز ترین ستارہ دریافت

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیا دریافت ہونے والا ستارہ کہکشاں کے مرکز میں موجود انتہائی بڑے بلیک ہول کے گرد 8 فیصد سے زیادہ رفتارِ نور سے سفر کر رہا ہے

سائنس دانوں نے ملکی وے کہکشاں کے مرکز کے قریب ایک ایسا ستارہ دریافت کیا ہے جو اب تک معلوم ہونے والے تیز ترین ستاروں میں شامل ہے۔ یہ دریافت بلیک ہول کی گردش کی رفتار جاننے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 10 ارب سال پرانے معمہ حل، ماہرین فلکیات نے ملکی وے کہکشاں کی حیران کن تاریخ دریافت کر لی

ماہرین کے مطابق ستارہ ’ایس 301‘ ہمارے سورج سے تقریباً 50 فیصد زیادہ کمیت رکھتا ہے اور اس کی روشنی بھی سورج سے زیادہ ہے۔ یہ ستارہ اپنے مدار میں روشنی کی رفتار کے 8 فیصد سے زیادہ رفتار سے سفر کرتا ہے۔

’ایس 301‘ کہکشاں کے مرکز میں موجود انتہائی بڑے بلیک ہول ’ایس جی آر اے اسٹار‘ کے گرد ایک بیضوی مدار میں گردش کر رہا ہے اور تقریباً 8.7 سال میں اپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ستارہ اپنے مدار کے دوران بلیک ہول کے مرکز کے انتہائی قریب پہنچتا ہے، جہاں اس کا فاصلہ تقریباً 12 سے 24 فلکیاتی اکائیوں تک رہ جاتا ہے۔ 1 فلکیاتی اکائی زمین اور سورج کے درمیان اوسط فاصلے کے برابر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ملکی وے کے سرد ترین ستارے دراصل خلائی مخلوق کے بنائے ہوئے ڈھانچے ہیں؟ نئی تحقیق میں دلچسپ امکان کا جائزہ

’ایس جی آر اے اسٹار‘ ایک انتہائی طاقتور بلیک ہول ہے جس کی کمیت سورج سے تقریباً 40 لاکھ گنا زیادہ ہے اور یہ زمین سے تقریباً 26 ہزار نوری سال کے فاصلے پر ملکی وے کے مرکز میں واقع ہے۔

بلیک ہولز کی کششِ ثقل اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہوسکتی، اسی وجہ سے ان کی براہِ راست گردش اور دیگر خصوصیات کی پیمائش انتہائی مشکل سمجھی جاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ’ایس 301‘ کا مدار بلیک ہول کے قریب سے گزرنے کے دوران معمولی طور پر تبدیل ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی محض آگے پیچھے ہونے والی ڈگمگاہٹ نہیں بلکہ ہر بار بلیک ہول کے قریب سے گزرنے پر ستارہ قدرے مختلف مدار میں چلا جاتا ہے۔

تحقیق میں شامل ماہر فلکیات اسٹیفن گلیسن کے مطابق ستارے کا مدار مستقبل قریب میں ختم ہونے والا نہیں اور اس بات کا خطرہ نہیں کہ ستارہ بلیک ہول میں نگل لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پلوٹو سے آگے پراسرار دنیا، سورج سے 6 ارب کلومیٹر دور یہ برفانی بستی کیسی ہوگی؟

انہوں نے کہا کہ اگر سائنس دان مزید تقریباً 10 سال تک ستارے کے مدار میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے رہے تو بلیک ہول کی گردش کی رفتار براہِ راست معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق بلیک ہولز کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ گردش کرتے ہیں، تاہم ان کی گردش کی رفتار معلوم کرنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ بلیک ہول خود روشنی خارج نہیں کرتے۔

سائنس دانوں کے مطابق ’ایس 301‘ کے مدار پر ’ایس جی آر اے اسٹار‘ کے مسلسل اثرات کا مشاہدہ مستقبل میں بلیک ہول کی گردش اور اس کے گرد موجود خلائی ماحول کو سمجھنے کے لیے اہم معلومات فراہم کرسکتا ہے۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہوئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp