امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں سال شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے دوبارہ ملاقات کریں گے جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس 57 بہت طاقتور جوہری ہتھیار موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کا روس کو مزید 50 ہزار فوجی بھیجنے کی تیاری کا انکشاف
ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کم جونگ اُن کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان بہتر تعلقات کو مثبت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کم جونگ اُن سے ملاقات کے لیے کسی مخصوص وقت کے پابند نہیں اور ان کے فیصلے پر امریکا کے وسط مدتی انتخابات کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔
امریکی صدر نے کہا کہ میں کم جونگ اُن کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور جب تک ہمارے (امریکا) پاس ایک سمجھدار صدر ہے وہ ٹھیک رہیں گے ہاں اگر کوئی بیوقوف نے صدارت سنبھال لی تو پھر کم جونگ بھی ویسے اچھے نہیں رہیں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ حقیقت کہ میری ان کے ساتھ بنتی ہے اور یہ اچھی بات ہے بری نہیں۔
اس کے بعد انہوں نے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کم جونگ اُن کے پاس 57 ’بہت طاقتور‘ جوہری ہتھیار ہیں۔
مزید پڑھیے: جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے مذاکرات کی پیشکش
ٹرمپ نے کہا کہ شمالی کوریا کو کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں صدر ہوتا تو میں ایسا نہیں ہونے دیتا لیکن اب اس کے پاس یہ ہتھیار موجود ہیں۔
جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنے کا فیصلہ
ٹرمپ کے کم جونگ اُن سے دوبارہ رابطے کے اشارے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا حکم
ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ان مشقوں سے شمالی کوریا کو ایک مکمل طور پر نامناسب اور جارحانہ پیغام ملتا ہے۔ ان کے مطابق جب سے وہ امریکا کے صدر ہیں اور شمالی کوریا نے ان کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ اختیار نہیں کیا اور احترام کا مظاہرہ کیا ہے۔
امریکا اور جنوبی کوریا کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں شمالی کوریا کے لیے طویل عرصے سے حساس معاملہ رہی ہیں۔ پیانگ یانگ (شمالی کوریا کا دارالخلافہ) انہیں حملے کی تیاری قرار دیتا ہے جبکہ واشنگٹن اور سیول (جنوبی کوریا) کا مؤقف ہے کہ یہ مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان مشقوں کو محدود کرنے کے امریکی فیصلے نے جنوبی کوریا میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔
ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی پرانی ملاقاتیں
ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان اب تک 3 مرتبہ براہ راست ملاقات ہو چکی ہے۔ یہ تینوں ملاقاتیں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں ہوئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی پہلی سربراہی ملاقات 12 جون 2018 میں سنگاپور میں ہوئی تھی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ابتدا میں سخت الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران کم جونگ اُن نے انہیں ذہنی طور پر مفلوج امریکی بوڑھا قرار دیا تھا جبکہ ٹرمپ نے بھی شمالی کوریا کے رہنما کے لیے سخت زبان استعمال کی تھی۔
تاہم بعد میں دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست سفارتی رابطے اور ذاتی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی۔
یہ بھی پڑھیے: شمالی کوریا کا ایک بار پھر بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ، علاقائی ممالک کا اظہارِ تشویش
پہلی تاریخی ملاقات کسی بھی موجودہ امریکی صدر اور شمالی کوریا کے رہنما کے درمیان پہلی سربراہی ملاقات تھی۔ دونوں رہنماؤں نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے سمیت امن اور مستقبل میں مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
دونوں رہنماؤں کے مابین دوسری ملاقات 27 اور 28 فروری 2019 کو ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ہوئی تاہم یہ سربراہی اجلاس کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد 30 جون 2019 کو جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) میں دونوں رہنماؤں کی تیسری ملاقات ہوئی۔ اس موقعے پر ٹرمپ شمالی کوریا کی سرزمین پر قدم رکھنے والے پہلے موجودہ امریکی صدر بن گئے تھے۔ دونوں نے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا لیکن اس کے بعد کوئی پائیدار پیشرفت نہ ہوسکی۔
شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار کتنے ہیں؟
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 57 جوہری ہتھیاروں کا عدد بتانا خاصا غیر معمولی ہے کیونکہ شمالی کوریا کے جوہری ذخیرے کی درست تعداد طویل عرصے سے ایک اندازہ ہی رہی ہے۔
جون 2026 میں اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اندازہ لگایا تھا کہ شمالی کوریا نے ممکنہ طور پر تقریباً 60 جوہری وارہیڈز تیار کر رکھے ہیں جبکہ اس کے پاس کم از کم مزید 30 جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے کافی فِسائل مواد موجود ہے۔
اس لیے ٹرمپ کا 57 کا عدد ماہرین کے حالیہ اندازوں سے بہت دور نہیں تاہم اسے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی حتمی یا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تعداد نہیں سمجھا جا سکتا۔
کیا دوبارہ مذاکرات کا امکان ہے؟
ٹرمپ کی جانب سے کم جونگ اُن سے دوبارہ ملاقات کی خواہش کے باوجود یہ واضح نہیں کہ نئی ملاقات میں جوہری پروگرام کے معاملے پر کوئی پیشرفت ممکن ہوگی یا نہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ رواں سال کے آخر میں ایشیا کے ممکنہ دورے کے دوران کم جونگ اُن سے ملاقات چاہتے ہیں جس کے لیے نومبر میں چین کے شہر شینژن میں ہونے والی ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن کانفرنس بھی ممکنہ موقع ہوسکتی ہے۔ تاہم ملاقات کی تاریخ یا مقام ابھی باضابطہ طور پر طے نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ’جوہری تخفیف کا معاملہ ختم ہو چکا ہے‘،شمالی کوریا کا سخت مؤقف

ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی سابقہ ملاقاتوں کے باوجود شمالی کوریا کا جوہری پروگرام ختم نہیں ہوسکا اور گزشتہ برسوں میں اس کی جوہری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر دونوں رہنماؤں کی دوبارہ ملاقات ہوتی ہے تو اس بار مذاکرات پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہوسکتے ہیں۔
کم جونگ اُن کی ہمشیرہ کیا کہتی ہیں؟
دوسری جانب شمالی کوریا کے کم جونگ اُن کی بہن اور ملک کی طاقتور شخصیت کم یو جونگ نے کہا کہ انہیں ان مبینہ رابطوں کے بارے میں بالکل کچھ معلوم نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان تعلقات بہترین ہیں تاہم امریکا بدستور شمالی کوریا کا دشمن ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا سے نشر کیے گئے ایک بیان میں کم یو جونگ نے کہا کہ شمالی کوریا کے حوالے سے امریکا کی دشمنانہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور امریکا اور اس کے اتحادی اس وقت بھی شمالی کوریا کے خلاف بھرپور فوجی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیے: شمالی کوریا انتخابات: کم جونگ اُن 99.93 فیصد ووٹ لے کر کامیاب
اپنے بیان میں کم جونگ اُن کی بہن نے شمالی کوریا کے رہنما اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے دل میں کم جونگ اُن کے لیے ذاتی طور پر اچھی یادیں اور مثبت جذبات موجود ہیں۔













