امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلان کے بعد تہران نے روس اور چین کے ساتھ مالی، سیاسی اور دفاعی روابط مزید مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے غیر مغربی ممالک اور متبادل مالیاتی نظاموں میں اپنا انحصار بڑھا رہا ہے۔
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے ایران پروگرام کے سینئر ڈائریکٹر بہنام بن طالب لو کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت اپنی بقا کے لیے بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے اور روس و چین کے ساتھ تعلقات کا فروغ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
BREAKING: 🇺🇸🇮🇷 President Trump just announced the "most crushing economic operation ever" against Iran.
He's warning that any country that gives Iran a financial lifeline will face severe consequences. pic.twitter.com/vTTPpTC2zl
— Bull Theory (@BullTheoryio) August 19, 2026
ان کے مطابق تہران کو امریکی اور اسرائیلی فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کی جانب سے بڑھتے ہوئے سیاسی و اقتصادی دباؤ کا بھی سامنا ہے، جس کے جواب میں ایران روس اور چین کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے جڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم ایران کے لیے اہم پلیٹ فارم بن چکے ہیں۔ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے رواں ماہ کہا تھا کہ ایران جلد برکس کے نیو ڈیولپمنٹ بینک کا رکن بن جائے گا، تاہم بینک نے ایران کی رکنیت کی تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب روس کے ساتھ ایران کا فوجی تعاون بھی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ فاکس نیوز نے این بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس بحیرہ کیسپین کے راستے ایران کو گولہ بارود، ڈرونز کے پرزے اور ٹی این ٹی فراہم کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ معلومات ایک یورپی حکومت کی دستاویز کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔
US President Donald Trump announces an unprecedented “crushing economic operation” against Iran, warning countries that provide Tehran with a “lifeline” will face severe financial retaliation.
🔴 Follow our LIVE coverage: https://t.co/wkqFZ8kyj4 pic.twitter.com/Ur55cdp74w
— Al Jazeera English (@AJEnglish) August 20, 2026
ادھر صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی نئی پالیسی کو سخت ترین معاشی دباؤ قرار دیتے ہوئے ایران کو معاشی سہارا دینے والے ممالک اور کاروباری اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بڑھتی امریکی پابندیوں کے باعث ایران روس اور چین کے ساتھ اقتصادی و دفاعی تعاون مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے خطے میں امریکا اور اس کے مخالف ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔














