گوگل نے پاکستانی خاندانوں کو آن لائن دنیا میں محفوظ رہنے میں مدد دینے کے لیے ’ڈیجیٹل پاسبان‘ کے نام سے قومی اقدام متعارف کرا دیا، جس کے تحت ملک بھر کے 2 لاکھ گھرانوں کو اردو زبان میں آن لائن تحفظ کے رہنما مواد، تربیتی ویڈیوز اور والدین کے لیے عملی تربیتی نشستیں فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پاکستان میں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ’ڈیجیٹل پاسبان‘ متعارف کرائے گا
اس اقدام کا اعلان اسلام آباد میں منعقدہ ’سیف رہو ود گوگل‘ تقریب کے دوران کیا گیا۔ ’ڈیجیٹل پاسبان‘ کا مقصد والدین اور بچوں کو انٹرنیٹ کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ضروری معلومات اور عملی مہارتیں فراہم کرنا ہے۔
اس منصوبے کے لیے گوگل کی فلاحی تنظیم گوگل ڈاٹ او آر جی نے پاکستان میں ڈیجیٹل شہریت اور مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال سے متعلق پروگراموں کو وسعت دینے کے لیے 5 لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
والدین اور سرپرستوں کے لیے خصوصی تربیت
ڈیجیٹل پاسبان کے تحت 2 لاکھ گھرانوں تک مقامی ضروریات کے مطابق اردو زبان میں رہنما کتابچے، تربیتی ویڈیوز اور عملی تربیت پہنچائی جائے گی۔
اس قومی اقدام میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، ٹیک ویلی، بیکن ہاؤس اسکول سسٹم، جاز ورلڈ اور ہم نیٹ ورک سمیت مختلف ادارے شریک ہیں، جبکہ وزارت اطلاعات و ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وزارت بین الصوبائی رابطہ بھی اس اقدام کی معاونت کر رہے ہیں۔
گوگل کے مطابق ڈیجیٹل پاسبان میں آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل خواندگی کو 4 بنیادی ستونوں کے ذریعے فروغ دیا جائے گا۔
فیملی لنک
والدین کو بچوں کے اسکرین ٹائم، ایپلی کیشنز کی منظوری، مواد کے فلٹرز اور آلات کی جگہ معلوم کرنے سمیت بنیادی والدین کنٹرول سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
یوٹیوب
والدین بچوں کے لیے عمر کے مطابق مواد کی ترتیبات اور اسکرین ٹائم مینجمنٹ کے لیے ’وقفہ لیں‘ اور ’سونے کے وقت‘ کی یاد دہانی جیسی سہولتیں استعمال کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ والدین بچوں کے مختصر ویڈیوز دیکھنے کے وقت کی حد مقرر کرسکیں گے، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر اسے مکمل طور پر صفر بھی کیا جاسکے گا۔
بی انٹرنیٹ آسم
7 سے 12 سال عمر کے بچوں کے لیے ڈیجیٹل شہری ذمہ داری سے متعلق مواد فراہم کیا جائے گا، جس میں احتیاط سے معلومات شیئر کرنا، فراڈ سے بچنا، مضبوط پاس ورڈز استعمال کرنا، دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دینا شامل ہے۔ ان عادات کو ’انٹرلینڈ‘ نامی آن لائن کھیل کے ذریعے سکھایا جائے گا۔
جیمنی
والدین کو بچوں کی مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال میں رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ گوگل کے مطابق بچوں کے لیے حفاظتی پابندیاں موجود ہوں گی جو نامناسب مواد کو روکنے کے ساتھ نقصان دہ کرداروں پر مبنی کردار ادا کرنے جیسی سرگرمیوں کو محدود کریں گی۔ ’گائیڈڈ لرننگ‘ سہولت طلبہ کو پیچیدہ موضوعات سمجھنے میں مدد دے گی اور براہ راست جواب دینے کے بجائے سوالات، مرحلہ وار وضاحت اور بصری معاونت کے ذریعے سیکھنے میں مدد کرے گی۔
مقامی سطح پر آگاہی مہم
ڈیجیٹل پاسبان کے تحت آن لائن تحفظ سے متعلق معلومات ذرائع ابلاغ، پیغامات، شراکت دار اداروں کی سماجی رابطوں کی مہمات اور اسکولوں میں منعقد ہونے والی آگاہی نشستوں کے ذریعے خاندانوں تک پہنچائی جائیں گی۔
اس منصوبے میں والدین اور سرپرستوں کے لیے خصوصی حفاظتی تربیتی نشستیں بھی شامل ہوں گی، جہاں وہ عملی مشقوں کے ذریعے آن لائن خطرات سے نمٹنے اور بچوں کی محفوظ رہنمائی کے طریقے سیکھ سکیں گے۔
ڈیجیٹل تحفظ کے لیے 5 لاکھ ڈالر مختص
گوگل کی فلاحی تنظیم گوگل ڈاٹ او آر جی نے پاکستان میں ڈیجیٹل شہریت اور مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال سے متعلق پروگراموں کو وسعت دینے کے لیے 5 لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
گوگل کے مطابق یہ رقم مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر نوجوانوں اور بالغ افراد کو محفوظ آن لائن عادات اپنانے اور ڈیجیٹل خطرات سے اعتماد کے ساتھ نمٹنے کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کرنے پر خرچ کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور گوگل کا محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ ’ڈیجیٹل پاسبان‘ پاکستان کے بچوں اور خاندانوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
گوگل کے پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل ماحول مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے اور زیادہ افراد تعلیم، تخلیق اور رابطے کے لیے آن لائن آرہے ہیں، اس لیے بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھنے کے بجائے انہیں محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں گوگل کے سابقہ اقدامات
گوگل کے مطابق ’ڈیجیٹل سفر‘ کے تحت اب تک پاکستان میں 3 لاکھ سے زائد طلبہ اور 5 ہزار اساتذہ کو ڈیجیٹل شہری ذمہ داری کے حوالے سے تربیت دی جاچکی ہے۔
گوگل نے پنجاب حکومت کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے صوبائی محکمہ تعلیم کو گوگل فار ایجوکیشن پر منتقل کرنے اور 15 لاکھ طلبہ تک محفوظ، مصنوعی ذہانت سے لیس تعلیمی ٹیکنالوجی اور آن لائن تحفظ کے نصاب کی فراہمی کا بھی آغاز کیا ہے۔
گوگل کے مطابق ’ڈیجیٹل پاسبان‘ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستانی خاندانوں کو آن لائن دنیا میں زیادہ محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھنے کے لیے عملی سہولتیں فراہم کرے گا۔














