عمران خان کو عدالتی ریلیف کے بعد پی ٹی آئی کی اسلام آباد مارچ کی تیاریاں ماند کیوں پڑگئیں؟

جمعہ 21 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ کی جانب سے اسپتال منتقل کرنے کے احکامات کے بعد پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کی تیاریاں ماند پڑ گئی ہیں، جبکہ پارٹی رہنماؤں نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے رواں ماہ کے شروع میں پشاور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کو بہتر علاج کی سہولت فراہم کرنے اور ملاقاتوں پرعائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا تھا۔

سہیل آفریدی کا مؤقف تھا کہ اگر عمران خان کو بہترعلاج، ان کے خلاف مقدمات کی سماعت میں تیزی اور ملاقاتوں پر عائد پابندی ختم نہ کی گئی تو 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اب تک کتنے کھلے خط لکھے ہیں؟

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مارچ کے اعلان کے بعد باقاعدہ تیاری بھی شروع کر دی تھی اور اس حوالے سے 12 اگست کو اپنے آبائی ضلع خیبر سے 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے لیے اسٹریٹ مہم کا آغاز کیا تھا۔

خیبر کے بعد سہیل آفریدی ضلع بنوں بھی گئے تھے اور لانگ مارچ کے لیے مہم کو زور شور سے آگے بڑھا رہے تھے۔

اسٹریٹ مہم ماند کیوں پڑ گئی؟

گزشتہ دنوں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کوعلاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کے احکامات کے بعد اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریاں ماند پڑ گئی ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ اب ان کی تمام تر توجہ عمران خان کی اسپتال منتقلی پر مرکوز ہے۔

پی ٹی آئی کے ایک ذریعے نے بتایا کہ عدالتی احکامات کے بعد سہیل آفریدی کی اسٹریٹ مہم بھی رک گئی ہے اور تیاریوں کو بھی بریک لگ گئی ہے۔

ان کے مطابق اسلام آباد مارچ کی تمام تر تیاریاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ذمے ہیں اور وہ خود اس کی نگرانی بھی کر رہے ہیں، جبکہ اہم پارٹی رہنما اختلافات کے باعث اس میں دلچسپی نہیں لے رہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان تحریک انصاف کی بنائی گئی مانیٹرنگ کمیٹی پر پارٹی کے اندر شدید تحفظات کیوں ہیں؟

ذرائع کے مطابق عدالتی ریلیف کے بعد سہیل آفریدی اسلام آباد میں ہی موجود ہیں اور وہاں کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے لانگ مارچ کی تیاریاں وقتی طور پر رک گئی ہیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی مارچ کے حوالے سے مشاورت بھی کر رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پارٹی قیادت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس وقت لانگ مارچ اور احتجاج کا سلسلہ روک دیں اور کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے عمران خان کی اسپتال منتقلی میں رکاوٹ پیدا ہو۔

ان کے مطابق سہیل آفریدی نے باضابطہ طور پر کوئی اعلان تو نہیں کیا، تاہم سیاسی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں۔

کیا سہیل آفریدی لانگ مارچ کی کال واپس لیں گے؟

پی ٹی آئی نے ابھی تک اسلام آباد لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، تاہم پارٹی رہنماؤں کے مطابق مشاورت جاری ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے گزشتہ روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسلام آباد مارچ کی کال برقرار ہے، جبکہ سہیل آفریدی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری کے بعد مارچ کی کال واپس لینے پر غور کیا جائے گا۔

ان کے مطابق سہیل آفریدی نے جو مطالبات رکھے تھے، ان پر عمل ہو رہا ہے۔ جیل میں عمران خان کی بہن کی ملاقات ہوئی ہے، جبکہ بیرسٹر سیف نے بھی عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ ان کے مطابق نورین نے میڈیا سے بات نہیں کی، تاہم عمران خان کا پیغام سہیل آفریدی اور دیگر قیادت تک پہنچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کفایت شعاری کے اعلانات کھوکھلے، عوام پر مسلسل بوجھ ڈالا جا رہا ہے، پاکستان تحریک انصاف

نوجوان صحافی کامران علی کے مطابق سہیل آفریدی کے مطالبات پر کچھ حد تک عمل ہو گیا ہے، جبکہ اسپتال منتقلی ابھی ہونا باقی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی مقدمات کی جلد سماعت کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں، جبکہ ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

ان کے مطابق سہیل آفریدی نے مارچ کو مطالبات سے مشروط کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو اسلام آباد مارچ کیا جائے گا۔

’اگر دیکھا جائے تو سہیل آفریدی بھی ملاقات، علاج اور کیسز کی جلد سماعت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس پر عدالت کے ذریعے عمل شروع ہو گیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی خود بھی لانگ مارچ کے حق میں نہیں ہیں، بلکہ دباؤ ڈال کر مطالبات منوانا چاہتے ہیں، جس میں کچھ حد تک کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی فوری طور پر لانگ مارچ کی کال واپس شاید نہیں لیں گے، تاہم عین وقت پر کال واپس لے سکتے ہیں۔

’جب سارے مطالبات کسی حد تک منظور ہوں گے تو مارچ کرنے کا جواز نہیں بچے گا۔‘

سہیل آفریدی رواں ہفتے ہنگو اور بونیر جائیں گے

پی ٹی آئی کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کے بعد لانگ مارچ کی تیاریاں کسی حد تک روک دی گئی ہیں، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق اس وقت تمام قیادت کی توجہ عمران خان کی اسپتال منتقلی اور بہتر علاج پر مرکوز ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان تحریک انصاف نے محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف نامزد کر دیا

پی ٹی آئی کے یوتھ رہنما اور سابق مشیر شفقت ایاز کے مطابق لانگ مارچ کی تیاریاں جاری ہیں اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود تیاریوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی نے باقاعدہ طور پر لانگ مارچ کے لیے اسٹریٹ مہم کا آغاز کیا ہے اور اب تک خیبر اور بنوں کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رواں ہفتے بھی سہیل آفریدی کے دو دورے شیڈول ہیں، جس کے تحت وہ دو اضلاع جائیں گے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی ہفتے کے روز اسٹریٹ مہم کے سلسلے میں ہنگو اور اتوار کو بونیر کا دورہ کریں گے اور لانگ مارچ کے حوالے سے کارکنوں سے خطاب کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا نے ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا

طالبان حکومت کے 5 سال، بین الاقوامی قبولیت ملی نہ عوامی، مزاحمت کے بیچ رجائیت پسند رجیم کی کشتی ڈانواں ڈول

عمران خان رہائی کے بعد فوج سے محاذ آرائی نہیں کریں گے، قریبی ساتھی کا دعویٰ

الیکٹرک بائیک یا اسکوٹر خریدیں، ایک لاکھ روپے حاصل کریں

وی ایکسکلوسیو: سندھ کے علاوہ جہاں بھی ضرورت ہو نئے صوبے بننے چاہییں، قمر زمان کائرہ

ویڈیو

الیکٹرک بائیک یا اسکوٹر خریدیں، ایک لاکھ روپے حاصل کریں

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک