کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اب تک کتنے کھلے خط لکھے ہیں؟

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنماؤں نے گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم 6 مشترکہ کھلے خطوط جاری کیے ہیں جن میں مذاکرات کی بحالی، آئینی بالادستی، قومی استحکام، سیاسی مفاہمت اور انسانی ہمدردی جیسے موضوعات پر مسلسل زور دیا گیا۔

شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید 9 مئی کے واقعات سے متعلق مختلف مقدمات میں کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید ہیں۔ ان رہنماؤں کے مشترکہ خطوط وکلا کے ذریعے میڈیا اور سیاسی قیادت تک پہنچائے جاتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان تحریک انصاف کی بنائی گئی مانیٹرنگ کمیٹی پر پارٹی کے اندر شدید تحفظات کیوں ہیں؟

پہلا مشترکہ خط جون 2025 کے اوائل میں سامنے آیا جس میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان فوری مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ خط میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور براہ راست مکالمے کے ذریعے جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اس کے بعد 9 جولائی 2025 کو جاری ہونے والے دوسرے خط میں میثاق جمہوریت کی ناکامی پر تنقید کی گئی۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے طے پانے والا میثاق جمہوریت بڑی سیاسی جماعتوں کی وجہ سے اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکا۔ خط میں میڈیا، عدلیہ اور پارلیمان سے متعلق حکومتی اقدامات پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے اور قانون کی حکمرانی کو مسائل کے حل کی بنیاد قرار دیا گیا۔

ستمبر 2025 میں جاری ہونے والے تیسرے خط میں ملک کو درپیش معاشی مشکلات اور پنجاب و خیبرپختونخوا میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا ذکر کیا گیا۔ خط میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا یہ پیغام بھی شامل کیا گیا کہ تمام تر توجہ سیلاب متاثرین کی امداد پر مرکوز کی جائے۔ اس خط میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت اجاگر کی گئی۔

دسمبر 2025 میں سامنے آنے والے چوتھے خط میں گزشتہ 3 سال 8 ماہ کے سیاسی اور معاشی بحرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے گفت و شنید کو واحد قابل عمل راستہ قرار دیا گیا۔ رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھے اور پُرامن ذرائع سے مسائل کے حل کی کوشش کرے۔

فروری 2026 میں جاری کیے گئے پانچویں خط میں رمضان المبارک کے احترام میں احتجاجی سرگرمیاں محدود رکھنے، عمران خان کی صحت سے متعلق سیاسی بیانات کی مذمت اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ اس خط میں مذہبی تقدس اور انسانی معاملات کو سیاست سے بالاتر رکھنے کی اپیل کی گئی۔

سب سے حالیہ، چھٹا خط 17 جون 2026 کو جاری کیا گیا جس میں اپوزیشن جماعتوں کو ’چارٹر آف پاکستان‘ کے عنوان سے ایک وسیع قومی مکالمے کی دعوت دی گئی۔ خط میں کہا گیا کہ ملک ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور سیاسی استحکام کے لیے چارٹر آف اکانومی کے ساتھ ساتھ ایک جامع قومی چارٹر کی بھی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان تحریک انصاف کا اعتراض: عمران خان کا طبی معائنہ فیملی اور ذاتی معالجین کے بغیر ناقابل قبول

شاہ محمود قریشی کے وکیل رانا مدثر نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کے تمام مشترکہ خطوط میں قومی مفاد، سیاسی مفاہمت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق شاہ محمود قریشی اور ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت متعدد رہنماؤں کو 9 مئی کے مختلف مقدمات میں 7 سے 10 سال تک قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں، تاہم کئی مقدمات میں انہیں ضمانتیں بھی مل چکی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کوٹ لکھپت جیل سے جاری ہونے والے ان خطوط کا مشترکہ نکتہ سیاسی محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، آئینی عمل اور قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دینا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp