طالبان حکومت کے 5 سال، بین الاقوامی قبولیت ملی نہ عوامی، مزاحمت کے بیچ رجائیت پسند رجیم کی کشتی ڈانواں ڈول

جمعہ 21 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

15 اگست کو افغان طالبان کو افغانستان کی حکومت سنبھالے ہوئے 5 سال مکمل ہو گئے۔ لیکن طالبان حکومت اِن پانچ سالوں کے دوران ناکامیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی ایک داستان ہے۔

5 سال کے بعد بھی جہاں اس حکومت کو بین الاقوامی طور ایک تسلیم شدہ حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، جو طالبان حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کا مظہر ہے تو دوسری طرف اندرونی طور پر طالبان کے خلاف عوامی غم و غصہ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

طالبان ایک ایسی حکومت ہے جس میں نہ تو افغانستان کے تمام رہنے والوں کی نمائندگی موجود ہے اور صنفی امتیاز کے حوالے سے تو یہ ایک بدنام حکومت ہے جس پر دُنیا کے تمام ممالک اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:طالبان رجیم کی ناعاقبت اندیشی: افغان لیبر مارکیٹ میں خواتین کا حصہ کم ہوکر صرف 5 فیصد رہ گیا

5 سال کے بعد افغان طالبان حکومت کو اب تک صرف روس نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک افغانستان کو دہشتگردی کی پناہ گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف مخاصمت کی روش جاری رکھی ہوئی ہے جس کے شاخسانے کے طور پر اکتوبر 2025 میں پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان شدید فوجی کشیدگی ہوئی اور اُس کے بعد فروری 2026 میں جس کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ متصل سرحدوں کو بند کر دیا ہے۔

پاکستان حکومت نے انسانی ہمدردی کی بُنیادوں پر اقوام متحدہ کی انسانی امداد پہنچانے کے لئے سرحد کھولنے کی رضامندی ظاہر کی تھی جس کے بعد اقوام متحدہ کے ٹرک افغانستان میں داخل ہوئے۔

طالبان نے کس طرح پاکستان جیسے دوست ملک کو دشمن ملک بنا لیا؟

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ابتدا میں واضح قربت نظر آئی۔ پاکستان نے نئی طالبان حکومت کے ساتھ رابطہ بڑھایا اور سیاسی، تجارتی اور سفارتی روابط برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم جلد ہی تحریک طالبان پاکستان کا مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان سب سے بڑا تنازع بن گیا۔

پاکستان افغان طالبان رجیم سے ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائیوں کا مطالبہ کرتا رہا جبکہ طالبان حکومت نے پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سرحدی مسائل اور ڈیورنڈ لائن پر بھی اختلافات برقرار رکھے۔ 2022  کے آخر میں ٹی ٹی پی کی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہوا اور سرحدی جھڑپیں بھی بڑھیں۔

2023 میں پاکستان نے غیر قانونی افغان مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ کیا، جس سے افغانستان کے ساتھ کشیدگی مزید بڑھی۔ 2024 میں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں فضائی کارروائیوں اور طالبان کی جانب سے شدید ردعمل نے تعلقات کو مزید خراب کیا۔

2025 کے آغاز میں دونوں ممالک نے دوبارہ سفارتی رابطے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں اعلیٰ سطحی پاکستانی وفود نے کابل کا دورہ کیا اور تجارت، ٹرانزٹ اور سیکیورٹی سمیت مختلف معاملات پر بات چیت ہوئی، لیکن ٹی ٹی پی کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔

اکتوبر 2025 میں شدید جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکیہ کی ثالثی سے جنگ بندی کی کوشش ہوئی، مگر مذاکرات ناکام رہے اور 2026 میں دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی ہوئی۔ اس طرح پانچ سال کے دوران تعلقات اعتماد کے بحران، دہشت گردی، مہاجرین، سرحدی تنازعات اور بالآخر مسلح تصادم تک پہنچ گئے۔ آج پاکستان کا بنیادی مطالبہ ٹی ٹی پی کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی ہے، جبکہ طالبان پاکستان پر افغان خودمختاری اور سرحدی حدود کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:کابل میں اسکول دھماکا، طالبان نے پرنسپل اور استاد سمیت 4 افراد کو حراست میں لے لیا

افغانستان دہشتگردی کی پناہ گاہ دُنیا کے مختلف ممالک کیا کہتے ہیں؟

طالبان کے  اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں اور افغان سرزمین کے دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے کے حوالے سے سب سے مسلسل اور اہم ریکارڈ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس میں سامنے آیا۔ 2022 اور 2023 کی رپورٹس میں القاعدہ، داعش خراسان،  ای ٹی آئی ایم، ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کی موجودگی اور اُن سے لاحق خطرات کا ذکر ہوا، جبکہ 2024 کی رپورٹ میں ٹی ٹی پی کو افغانستان میں موجود سب سے بڑا دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہوئے اس کے تقریباً چھ سے ساڑھے چھ ہزار جنگجوؤں کی موجودگی اور افغان طالبان کی جانب سے اس کی کارروائیوں کے لیے آپریشنل و لاجسٹک حمایت کی بات کی گئی۔

2025 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی ٹی ٹی پی کے افغان سرزمین سے پاکستان میں متعدد بڑے حملوں، افغانستان میں القاعدہ، داعش خراسان، ای ٹی آئی ایم  اور دیگر گروہوں کی موجودگی اور طالبان کی جانب سے ان خطرات کو مکمل طور پر ختم نہ کئے جانے کی نشاندہی کی گئی۔

پاکستان مسلسل ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور افغان سرزمین سے حملوں کی شکایات کرتا رہا ہے، جبکہ چین، روس اور ایران کے ساتھ مشترکہ علاقائی بیانات میں بھی افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی گئی۔

امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپنے حالیہ انسدادِ دہشتگردی مذاکرات کے دوران، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور افغانستان میں موجود دیگر تنظیموں کو علاقائی امن کے لئے خطرہ قرار دیا۔

روس نے، جو جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا، اس کے باوجود فروری 2026کے اپنی سکیورٹی رپورٹ میں افغانستان میں قریباً 20 سے 23 ہزار دہشتگرد جنگجوؤں کی موجودگی کا تخمینہ پیش کیا، جن میں ٹی ٹی پی کے 5 سے 7 ہزار اور داعش خراسان کے قریباً 3 ہزار جنگجو شامل تھے۔

چین نے بھی اگرچہ طالبان کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات قائم کیے، لیکن بارہا افغانستان میں داعش خراسان، القاعدہ، ای ٹی آئی ایم  اور ٹی ٹی پی سمیت دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر تحفظات ظاہر کیے اور طالبان سے ان کے خلاف قابلِ تصدیق اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ، روس، چین، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کے جائزوں کے مطابق افغانستان میں متعدد مسلح و دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی برقرار رہی، جن میں خصوصاً ٹی ٹی پی کا پاکستان کے خلاف استعمال ایک مسلسل اور بڑھتا ہوا علاقائی سیکیورٹی مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔

ایران، ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان نے طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی اور اس کے علاقائی اثرات پر مختلف سطحوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایران کی خاص تشویش داعش خراسان  سے رہی ہے، خصوصاً جنوری 2024  کے کرمان حملوں کے بعد، جبکہ تہران نے چین، روس اور پاکستان کے ساتھ علاقائی مشاورت میں داعش خراسان، القاعدہ، ای ٹی آئی ایم اور ٹی ٹی پی سمیت گروہوں کی موجودگی پر تحفظات ظاہر کیے۔

ازبکستان نے داعش خراسان، القاعدہ اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان سمیت مسلح گروہوں اور دہشتگردی کے وسطی ایشیا تک پھیلاؤ کو خطرہ قرار دیا، جبکہ تاجکستان نے شمالی افغانستان میں دہشتگرد گروہوں، داعش اور القاعدہ کی موجودگی اور سرحد پار دراندازی پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیں:طالبان رہنماؤں کی یومِ آزادی تقریروں میں مخالف گروہوں کا نمایاں ذکر

افغانستان میں خواتین اور عالمی حقوق کی صورت حال پر عالمی اداروں کی رائے

طالبان کے 5 سالہ دور میں خواتین اور انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ، یو این وویمن، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں۔

 طالبان کے اقتدار کے بعد اقوام متحدہ اور یو این وویمن کی رپورٹس میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر مسلسل پابندیوں کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ مارچ 2022 میں طالبان نے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی برقرار رکھی، بعد ازاں خواتین کو یونیورسٹیوں، بیشتر ملازمتوں، سرکاری اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں میں کام سے روکا گیا، جبکہ خواتین کے سفر، لباس اور عوامی زندگی میں شرکت پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔

یواین وویمن کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے کم از کم 70 احکامات، ہدایات اور پالیسیوں نے خواتین اور لڑکیوں کی زندگی، آزادی اور انتخاب کو متاثر کیا، جبکہ جینڈر انڈیکس 2024 میں بتایا گیا کہ قریباً 80 فیصد نوجوان افغان خواتین تعلیم، روزگار یا تربیت سے باہر ہیں۔

2026 میں اقوام متحدہ اور یو این وویمن نے بھی خبردار کیا کہ صورتحال مزید سنگین ہوئی ہے اور اب قریباً 2.4 ملین لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں اور خواتین کے لیے افغانستان کو دنیا کا بدترین خواتین کے حقوق کا بحران قرار دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ہیومن رائٹس واچ اور یونائیٹڈ نیشن اسیسٹینس مشن اِن افغانستان (یونامہ) نے سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں اور حکومتی عہدیداروں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، من مانی گرفتاریوں، تشدد اور صحافیوں و انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کی نشاندہی کی۔

یونامہ نے اگست 2023 تک طالبان کے اقتدار کے بعد 218 ماورائے عدالت ہلاکتیں، 14 جبری گمشدگیاں اور 144 سے زائد تشدد یا بدسلوکی کے واقعات رپورٹ کئے۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہیومن رائٹس واچ نے طالبان کی پالیسیوں کو خواتین کے خلاف جینڈر پرسیکیوشن  یعنی صنفی بنیاد پر منظم ظلم و جبر کے مترادف قرار دیا، جبکہ 2026 کی تازہ یونامہ رپورٹ میں بھی خواتین کی تعلیم، روزگار، لباس اور آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیوں کے ساتھ بچوں کی شادی سے متعلق نئے قوانین پر تشویش ظاہر کی گئی

افغانستان کی اقتصادی صورتحال اور غربت

چاہِ بہار اور پاکستان کے ساتھ سرحدی بندش نے افغانستان کی پہلے ہی کمزور معیشت پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق 2025 میں افغانستان کی معیشت میں مجموعی طور پر تقریباً 4.8 فیصد اضافہ ہوا، لیکن بڑی تعداد میں مہاجرین کی واپسی سے آبادی میں ہونے والے تیز اضافے کے باعث فی کس آمدنی 5.6 فیصد کم ہوئی۔

پاکستان کے ساتھ طویل سرحدی بندش سے تجارت اور سپلائی متاثر ہوئی، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھے اور افغانستان کا تجارتی خسارہ وسیع ہوا۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2025 کے پہلے نو ماہ میں تجارتی خسارہ قریباً 8.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

پاکستان کی بندش کے دوران ایران کے راستے چاہِ بہار سمیت متبادل تجارتی راستوں کی اہمیت بڑھی، لیکن ان راستوں سے تجارت منتقل ہونے کے باوجود زیادہ فاصلے اور اضافی ٹرانسپورٹ اخراجات نے افغان تاجروں اور صارفین پر بوجھ بڑھایا۔

غربت اور انسانی بحران بھی بدستور شدید ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق اقتصادی پیداوار میں معمولی بحالی کے باوجود غربت، کم آمدنی، بے روزگاری اور غذائی عدم تحفظ برقرار ہیں، جبکہ بیرونی امداد میں کمی اور پاکستان و ایران سے لاکھوں افغانوں کی واپسی نے روزگار، رہائش اور بنیادی سہولیات پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔

2026 میں قریباً 21.9 ملین افغان، یعنی آبادی کا لگ بھگ 45 فیصد، انسانی امداد کے محتاج ہیں، جبکہ 14 ملین سے زیادہ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ اس لیے موجودہ تصویر یہ ہے کہ طالبان دور میں معیشت مکمل طور پر منہدم نہیں ہوئی بلکہ محدود شرح سے بحال ہوئی ہے، تاہم سرحدی بندش، امداد میں کمی، کمزور سرمایہ کاری، بے روزگاری، غربت اور بڑھتی آبادی کے باعث عام افغان شہریوں کے فی کس معاشی حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔

ٹی ٹی پی کی وجہ سے افغان طالبان پر دباؤ بڑھ رہا ہے، حسن خان

معروف صحافی اور تجزیہ نگار حسن خان نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی وجہ سے افغان طالبان پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور افغانستان میں بھی لوگ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ یہ جو افغانستان تباہ ہو رہا ہے یہ کس لئے ہو رہا ہے۔ افغانستان کے اندر جو ٹی ٹی پی پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان بھی دباؤ بڑھا رہا ہے تو یہ چیز ٹی ٹی پی کو بھی سوچنے پر ضرور مجبور کرے گی۔

مزید پڑھیں:ٹی ٹی پی دہشتگرد افغان طالبان کے فعال تعاون سے پاکستان پر حملے کر رہے ہیں، اقوام متحدہ

دوسری طرف افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت مضبوط اور رائے عامہ مخالف ہو رہی ہے، مسلح مزاحمتی تحریکیں جغرافیائی لحاظ سے بڑھ رہی ہیں جبکہ ہرات، فرح اور نمروز میں طالبان کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ اگر یہ مزاحمت زور پکڑتی گئی تو طالبان حکومت مشکل میں آ سکتی ہے۔

تیسری طرف ایران کی صورتحال بھی افغانستان کے لئے مُشکلات کھڑی کر رہی ہے۔ جس طرح ایران نے 20 لاکھ سے زائد افغانیوں کو افغانستان واپس بھیجا اور چاہ بہار کے بند ہونے سے افغانستان کی برآمدات کو دھچکا پہنچا ہے خاص طور پر ایسی صورت میں جب اُنہوں نے پاکستان کے ساتھ اپنے حالات کشیدہ کر رکھے ہیں۔ جبکہ بندر عباس افغانستان کے لئے بہت دور ہے۔ افغان مہاجرین کی واپس سے کچھ نہ کچھ ناراضگی ضرور ہے اور ایران کی صورتحال بھی افغانستان کو متاثر کر رہی ہے۔

افغانستان کی نصف انسانی صلاحیت قومی ترقی کے عمل سے بڑی حد تک باہر ہے، آصف درانی

افغانستان کے لئے پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی آصف درانی نے اپنے حالیہ مضمون میں لکھا کہ طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے کے باوجود افغانستان میں اب تک نہ کوئی آئین موجود ہے، نہ منتخب ادارے، نہ سیاسی احتساب کا کوئی تسلیم شدہ طریقۂ کار اور نہ ہی طرزِ حکمرانی کا کوئی جامع و ہمہ گیر نظام۔ حقیقی اختیار بدستور سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے ہاتھوں میں مرکوز ہے، جبکہ پالیسی سازی ادارہ جاتی حکمرانی کے بجائے زیادہ تر نظریاتی تشریحات کے تحت کی جا رہی ہے۔

اس صورتحال کا سب سے نمایاں نقصان افغان خواتین کو اٹھانا پڑا ہے۔ لڑکیاں اب بھی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں، خواتین کو روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت کے حوالے سے وسیع پابندیوں کا سامنا ہے، جبکہ افغانستان کی نصف انسانی صلاحیت قومی ترقی کے عمل سے بڑی حد تک باہر ہے۔

یہ مسئلہ اب محض انسانی حقوق کا معاملہ نہیں رہا بلکہ افغانستان کے مستقبل اور اس کی پائیداری کا سوال بن چکا ہے۔ ایک ایسا ملک جدید ترقی کی راہ پر کیسے گامزن ہو سکتا ہے جو جان بوجھ کر اپنی نصف آبادی کو تعلیم سے محروم رکھے؟

مزید پڑھیں:افغان طالبان کا فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی کا دعویٰ جھوٹا، دونوں کا گٹھ جوڑ برقرار

ذرا تصور کریں کہ ایک قدامت پسند افغان معاشرے میں اگر خواتین ڈاکٹرز ہی موجود نہ ہوں تو خواتین اور بچوں کو صحت کی سہولیات کیسے فراہم کی جائیں گی؟ تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان قیادت اس سنگین حقیقت سے بے خبر ہے اور اس حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدامات کرتی دکھائی نہیں دیتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات، دفاعی و سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی سیکیورٹی واپس لے لی

بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے، ہمیشہ ایک رہے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم

امریکی سینیٹرز کا ٹک ٹاک کو ’خطرناک‘ سیفٹی تجربے پر یکم ستمبر تک جواب دینے کا حکم

راولپنڈی، اسلام آباد میں تیز بارش، نالہ لئی کے بہاؤ میں اضافہ

ویڈیو

بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے، ہمیشہ ایک رہے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم

الیکٹرک بائیک یا اسکوٹر خریدیں، ایک لاکھ روپے حاصل کریں

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

کالم / تجزیہ

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک