برطانیہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹر اور کوہ پیما اسما مشتاق قراقرم کے سلسلۂ کوہ میں واقع چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران جاں بحق ہو گئیں۔
الپائن کلب آف پاکستان نے خاتون کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 5 رکنی خواتین کوہ پیماؤں کی ٹیم کا حصہ تھیں، جو قراقرم کے سلسلے میں واقع 7,027 میٹر بلند سپانٹک چوٹی کو سر کرنے کی مہم پر تھی۔
مزید پڑھیں:کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں
الپائن کلب کے مطابق ٹیم کامیابی سے چوٹی سر کرنے کے بعد واپس آ رہی تھی کہ اسما مشتاق کو طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور وہ انتہائی بلندی پر لاحق ہونے والی بیماری میں مبتلا ہو گئیں۔
بلندی پر لاحق ہونے والی بیماری، جسے ہائی آلٹیٹیوڈ سکنس کہا جاتا ہے، آکسیجن کی کمی اور بلند مقام کے ماحول سے جسم کے مناسب انداز میں ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث لاحق ہوتی ہے، جس سے پھیپھڑوں اور دماغ سے متعلق سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
الپائن کلب کے مطابق ٹیم کے ارکان اور گائیڈز نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکیں اور واپسی کے دوران 6,400 میٹر کی بلندی پر انتقال کر گئیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون:پاکستانی کوہ پیما اسمامشتاق اسپانٹک چوٹی سر کرنے کی مہم کے دوران جان کی بازی ہار گئیں۔ اللہ پاک اسما کی مغفرت فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام فرمائے۔کسی نے کیا خوب کہا کہ بہادر لوگوں کی عمر کم مگر زندگی بھرپور ہوتی ہے۔@iamabidmalik @KulAalam pic.twitter.com/9IlNR3CZPK
— Media Talk (@mediatalk922) August 21, 2026
ان کے ساتھیوں کے مطابق اسما مشتاق اس مہم کے لیے گلگت بلتستان آئی تھیں اور اس دوران ہنزہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی گئیں۔ وہ گھومنے پھرنے کی شوقین تھیں۔
ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ مہم کے دوران ان کی صحت بالکل درست تھی اور چوٹی سر کرنے تک بھی ان کی طبیعت اچھی تھی، تاہم واپسی کے دوران اچانک ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔
خاتون کوہ پیما اسما مشتاق کون تھیں؟
سوشل میڈیا پر موجود ان کی پروفائل کے مطابق اسما مشتاق میڈیکل ڈاکٹر تھیں۔ 34 سالہ ڈاکٹر اسما مشتاق بنیادی طور پر لاہور سے تعلق رکھتی تھیں اور برطانیہ میں مقیم تھیں، جہاں وہ ماہرِ امراضِ نسواں و زچہ و بچہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔
ڈاکٹر ہونے کے علاوہ وہ سیاحت اور کوہ پیمائی کا بھی شوق رکھتی تھیں اور کئی بلند چوٹیوں کو سر کر چکی تھیں۔ الپائن کلب کے مطابق 7,027 میٹر بلند سپاٹنک چوٹی سب سے بلند چوٹی تھی جسے انہوں نے سر کیا۔ اس مہم کے لیے وہ خصوصی طور پر پاکستان آئی تھیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں
اس سے قبل انہوں نے 4,076 میٹر بلند چوٹی بھی سرمائی مہم کے دوران سر کی تھی۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق حالیہ مہم کے دوران اسما مشتاق سمیت 5 خواتین کوہ پیماؤں، جن میں زونی اسلم، زبہ شگری، شمع اور سوہانہ بھی شامل تھیں، نے اسپانٹک چوٹی کامیابی سے سر کی تھی۔
کوہ پیماؤں نے ڈاکٹر اسما مشتاق کے مہم کے دوران انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اسے کوہ پیمائی کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔














