پینشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ مفت، نادرا نے سہولت کے مراکز بھی بڑھا دیے

جمعہ 21 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پینشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ مفت کردیا ہے جبکہ اس کے حصول کے لیے ملک بھر میں سہولت کے مراکز اور ذرائع بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کی ریٹائر ملازمین کو بروقت پینشنری مراعات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت

یہ اقدام وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر وزارت داخلہ، وزارت دفاع، کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (سی جی اے) اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (ایم اے جی) کے تعاون سے جمعے کو شروع کیا گیا۔

پروف آف لائف سرٹیفکیٹ ایک سرکاری دستاویز ہے جس کے ذریعے یہ تصدیق کی جاتی ہے کہ متعلقہ پینشنر زندہ ہے۔

نادرا کے مطابق پینشنرز کے لیے سب سے آسان طریقہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ ہے جس کے ذریعے اہل پینشنرز گھر بیٹھے ڈیجیٹل طریقے سے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرسکتے ہیں۔

اگر پینشنر خود یہ عمل مکمل نہ کرسکے تو اس کا کوئی قریبی خاندانی فرد بھی اپنے پاک آئی ڈی اکاؤنٹ کے ذریعے مقررہ شناختی تصدیقی طریقہ کار مکمل کرکے پینشنر کی جانب سے سرٹیفکیٹ حاصل کرسکتا ہے۔

5 ہزار سے زائد ای سہولت مراکز پر بھی مفت سہولت

نادرا کے مطابق جو پینشنرز معاونت کے ساتھ یہ سہولت حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ملک بھر میں 5 ہزار سے زائد ای سہولت فرنچائزز سے مفت پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ سہولت 988 سے زائد نادرا رجسٹریشن سینٹرز اور 500 یونین کونسلز میں بھی دستیاب ہوگی۔ ان مراکز پر پینشنرز کو ترجیحی بنیادوں پر خدمات فراہم کی جائیں گی اور انہیں معمول کی قطار میں انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

جو پینشنرز کسی سروس پوائنٹ تک پہنچنے سے قاصر ہیں ان کے لیے بھی نادرا نے متبادل انتظام کیا ہے۔ ایسے افراد موبائل رجسٹریشن وینز، بائیکر سروسز اور مین پیک رجسٹریشن سروسز سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں جن کا مقصد محدود نقل و حرکت یا رسائی رکھنے والے شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

نیشنل پینشنرز رجسٹر بھی قائم

نادرا کے مطابق پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی یہ سہولت پینشن کے نظام میں وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہے، جس کے تحت نیشنل پینشنرز رجسٹر قائم کیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کے زیر انتظام پینشنرز کو اس رجسٹر میں شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد شناخت اور زندگی کی حیثیت کی تصدیق کے لیے ایک مستند ڈیجیٹل ریکارڈ فراہم کرنا ہے۔

نادرا اب کسی بنیادی یا ثانوی پینشنر کی موت کی اطلاع ملنے کی صورت میں متعلقہ پینشن کنٹرولرز کو روزانہ کی بنیاد پر ڈیجیٹل اطلاع فراہم کرے گا۔ موت کی اطلاع کسی طبی ادارے کی جانب سے ڈیتھ نوٹیفکیشن ٹول کے ذریعے یا سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم کے تحت درج کیے جانے کی صورت میں یہ معلومات متعلقہ حکام تک پہنچائی جائیں گی۔

اسی طرح ثانوی یا خاندانی پینشنرز کے پینشن کے حق پر اثر انداز ہونے والی تبدیلیوں، جن میں عمر اور ازدواجی حیثیت شامل ہیں، کی معلومات بھی نادرا کے ریکارڈ میں درج ہونے کی صورت میں روزانہ متعلقہ پینشن کنٹرولرز کو فراہم کی جائیں گی۔

تاہم نادرا نے واضح کیا ہے کہ پینشن جاری رکھنے، اس میں تبدیلی کرنے یا اسے ختم کرنے کا فیصلہ متعلقہ قوانین کے تحت مجاز پینشن اتھارٹی ہی کرے گی۔

بینک بھی پینشنر کی زندگی کی تصدیق کرسکیں گے

نادرا نے بینکوں کے لیے بھی ایک الگ تصدیقی سروس متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے مجاز بینک نیشنل پینشنرز رجسٹر سے براہ راست کسی پینشنر کے پروف آف لائف اسٹیٹس کی تصدیق کرسکیں گے۔

نادرا کے مطابق اس ڈیجیٹل نظام سے پینشن کی ادائیگی کے لیے ایک آسان اور براہ راست طریقہ دستیاب ہوگا اور بار بار کاغذی دستاویزات یا ذاتی طور پر تصدیق کرانے کی ضرورت کم ہوگی۔

رجسٹر میں مزید پینشنرز شامل کیے جائیں گے

نادرا نے بتایا کہ اگلے مرحلے میں نیشنل پینشنرز رجسٹر کو مزید وسیع کیا جائے گا اور دیگر وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں، سرکاری شعبے کے اداروں اور نجی اداروں کے پینشنرز کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ معاہدے اور ضروری انتظامات مکمل کیے جائیں گے۔

نادرا کے مطابق اس مربوط نظام کا بنیادی مقصد پہنشنرز کے لیے پروف آف لائف کی تصدیق کا عمل آسان بنانا جبکہ پینشن کنٹرولرز اور بینکوں کو زیادہ تازہ اور مستند معلومات تک ڈیجیٹل رسائی فراہم کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp