وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ صحت کے معاملات میں سیاست نہیں ہونی چاہیے، ہمارا کل اور آج بھی یہی مؤقف ہے۔ تحریک انصاف کے دور میں بھی صحت پر سیاست سے گریز کا مطالبہ کیا تھا، صحت کسی کی بھی ہو سکتی ہے، اس لیے سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن صحت کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد بھی حکومت نے کوئی توہین آمیز رویہ اختیار نہیں کیا۔ صحت کے معاملے کو سیاست سے دور رکھا جائے، حکومت کا واضح مؤقف ہے اور حکومت آئین و قانون کی روشنی میں ہی تمام معاملات آگے بڑھائے گی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی صحت تسلی بخش نکلی تو کیا یہ بھی توہین عدالت ہے؟ اہم سوال اٹھ گیا
انہوں نے کہا کہ کسی قیدی کو خصوصی سہولت دینے سے استثنیٰ کا تاثر نہیں ملنا چاہیے۔ ریویو درخواست میں بھی یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا یہی سہولت ہر قیدی کو میسر ہے؟ ریویو کے گراؤنڈز قوم کے سامنے ہیں، کسی کو خصوصی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ہر قیدی کے لیے یکساں سہولت ہونی چاہیے، خصوصی ٹریٹمنٹ نہیں ہونی چاہیے۔
عمران خان خود دوسروں کی صحت کا مذاق اڑایا کرتے تھے، لیکن ہماری طرف سے کسی نے نہ تو توہین آمیز رویہ اپنایا اور نہ ہی طعنہ زنی کی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ pic.twitter.com/ePBw5oX7Al
— WE News (@WENewsPk) August 22, 2026
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ صحت کے معاملے پر حکومت کا مؤقف تبدیل ہوا ہے نہ آئندہ تبدیل ہوگا۔ حکومت نے صحت کے معاملے پر کسی قسم کی طنز یا تضحیک نہیں کی۔ سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل درآمد کرتے ہوئے شفاف طبی معائنہ کرایا گیا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔
’سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل درآمد کیا گیا‘
عطا تارڑ نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معائنے کے وقت ان کی ہمشیرہ اور شفا اسپتال کے ڈاکٹرز موجود تھے۔ معائنہ شفاف طریقے سے ہوا اور سیکیورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل تھے۔ انتظامیہ نے آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنایا۔
انہوں نے کہاکہ عدالت کے حکم کی منشا کے مطابق تمام معاملات شفاف طریقے سے آگے بڑھائے گئے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پمز میں مکمل اور شفاف طبی معائنہ کرایا گیا۔ معائنے کے دوران شفا ہسپتال کے اوتھمالوجسٹ بھی موجود تھے، جبکہ شفا اسپتال کے آئی اسپیشلسٹ کی موجودگی سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کا ثبوت ہے۔
عطا تارڑ کے مطابق معائنہ مشیرہ کی موجودگی میں شفاف طریقے سے کرایا گیا اور سپریم کورٹ کے آرڈر پر عمل ہوا۔ میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے بغیر علاج کی جگہ کا تعین ممکن نہیں۔ تمام قیدیوں کو ایسی سہولت میسر نہیں، پھر بھی سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل ہوا اور اس کی روح کے مطابق تمام ضروری اقدامات مکمل کیے گئے۔
شفا اسپتال کے باہر مجمع کس نے جمع کیا؟
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ شفا اسپتال کے باہر لوگوں کو کس نے جمع کیا؟ یہ پہلا سوال ہے۔ عدالت نے سیاست سے منع کیا تھا لیکن تحریک انصاف نے مجمع اکٹھا کرکے حکم کی خلاف ورزی کی۔
انہوں نے کہا کہ شفا اسپتال کے باہر رکاوٹیں کھڑی کرکے سیاسی جماعت نے معاملہ متنازع بنایا۔ سوشل میڈیا ریلز، ٹک ٹاکس اور مجمع اکٹھا کرنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ کورٹ نے سیاسی بیان بازی سے منع کیا تھا، اس کے باوجود پریس کانفرنسز کی گئیں۔
عطا تارڑ نے کہاکہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن اور پارٹی ذمہ دار ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی اور پارٹی عدالت کی توہین کی مرتکب ہوئی۔ سیاسی کارکنوں نے انتظامیہ کے لیے رکاوٹیں پیدا کیں۔
انہوں نے کہاکہ قیدی کو جیل سے اسپتال منتقل کرنا تھا لیکن خود رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔ پہلی بار دیکھا کہ کسی سیاسی جماعت نے اپنے ہی لیڈر کے علاج میں رکاوٹ ڈالی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی منتقلی کے راستے میں لوگوں کو جمع کرکے رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کورٹ نے سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن سیاسی کارکنوں نے انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ کنٹیمپٹ کس نے اور کیسے کیا، تمام حقائق قوم کے سامنے رکھوں گا۔
بار کونسلز نے سیاست سے دور رہنے کا مؤقف واضح کردیا
عطا تارڑ نے کہاکہ پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل نے بار سیاست کو معاملے سے دور رکھنے کا مؤقف واضح کردیا ہے۔ چند وکلا کی انفرادی حیثیت میں جاری بیانات کا بار کونسلز سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے بارز اور وکلا کو استعمال نہ کرے۔ پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل نے معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ چند ممبران انفرادی بیانات جاری کرکے بار کونسلز کو معاملے میں ملوث نہ کریں۔
عطا تارڑ کے مطابق نمائندہ بار باڈیز کے منتخب عہدیداران نے بارز کو معاملے سے الگ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ بار کونسلز نے اپنا مؤقف واضح کردیا، تحریک انصاف سیاست کرنا چاہے تو یہ اس کی مرضی ہے۔
’بیماری کی نوعیت ایسی نہیں کہ اس پر سیاست کی جائے‘
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق طبیعت شاداب ہے، بیماری کی کوئی سنگینی سامنے نہیں آئی۔ بلڈ پریشر کے علاوہ باقی چیزیں ماشااللہ پرفیکٹ ہیں، آئی سائٹ بھی سکس بائی سکس ہے۔
انہوں نے کہاکہ بیماری کی نوعیت ایسی نہیں کہ اس پر سیاست کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ کس بیماری پر سیاست کر رہے ہیں؟ صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔
عطا تارڑ نے واضح کیاکہ قانونی معاملہ الگ ہے اور صحت کا معاملہ الگ ہے، دونوں کو اپنی اپنی ڈومین میں رہنے دیں۔ صحت کے معاملے کو ڈاکٹرز نے دیکھنا ہے، ڈاکٹرز ہی اس بارے میں بہتر رائے دے سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان کے خلاف غداری کے مقدمے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ
انہوں نے کہاکہ حکومت نے ایک دن بھی علاج نہیں روکا، علاج ہوتا آیا ہے، ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ہوگا۔ ضرورت پڑنے پر علاج کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ صحت کے معاملے کو سیاست کی نظر نہ کیا جائے، یہ قانونی اور طبی معاملہ ہے۔ سیاست کرکے توہین عدالت کے مرتکب ہونے سے بھی گریز کریں، اسی میں آپ کی بہتری ہے۔














