کینیڈا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر عائد 50 فیصد ٹیرف کے جواب میں امریکی اشیا پر جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کردیا، جس سے دونوں دیرینہ اتحادیوں کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ہفتے کو اعلان کیا کہ امریکی مصنوعات پر ’ڈالر کے بدلے ڈالر‘ کے حساب سے جوابی ٹیرف 8 ستمبر سے نافذ ہوں گے۔ ان محصولات کا ہدف امریکی اسٹیل، الیکٹرانکس، دودھ اور دیگر زرعی مصنوعات، گھریلو آلات، زرعی مشینری، کاغذ اور پلپ سمیت مختلف اشیا ہوں گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا اور کینیڈا کے درمیان 3 روز تک جاری رہنے والے شدید تجارتی مذاکرات جمعے کو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ دونوں ممالک نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کی ہے، جس سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔
Mark Carney said Canada will retaliate with tariffs on US goods ‘dollar for dollar’ after trade talks collapsed. Hear more on the Reuters World News podcast https://t.co/rU4jPGwink pic.twitter.com/74BSztKbul
— Reuters (@Reuters) August 22, 2026
امریکا کی جانب سے نئے ٹیرف سے کینیڈا کی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی برآمدات متاثر ہوں گی، جن میں شراب، فرنیچر، دودھ کی مصنوعات، سیمنٹ، کپڑے، مچھلی پکڑنے کے آلات اور ہاکی کا سامان شامل ہے۔ یہ محصولات ان کینیڈین مصنوعات پر بھی لاگو ہوں گے جنہیں گزشتہ 18 ماہ کے دوران 3 ملکی تجارتی معاہدے کے تحت زیادہ تر ٹیرف سے تحفظ حاصل تھا۔
کارنی نے کہا کہ کینیڈا امریکی محصولات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی صنعت، کسانوں، کاروبار اور عوام کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے حالیہ تجاویز غیر منصفانہ اور کینیڈا کے لیے معاشی طور پر ناقابل قبول تھیں۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا امریکا سے تقریباً 70 فیصد برآمدات وابستہ ہونے کے باوجود اپنی تجارتی پالیسی میں مزید تنوع لانے اور نئے تجارتی و دفاعی شراکت دار بنانے کی کوشش کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا کینیڈا پر بڑا معاشی وار، بیشتر اشیا پر 50 فیصد ٹیرف نافذ
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے مذاکرات کی ناکامی کو کینیڈا کے لیے ’ضائع ہونے والا موقع‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کینیڈا کے جوابی اقدامات کے جواب میں مزید اقدامات کرے گا۔
کینیڈا کی حکومت نے امریکی ٹیرف سے متاثر ہونے والی صنعتوں کے لیے آئندہ ہفتے امدادی اقدامات کا اعلان کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے، جو ضرورت پڑنے پر کئی سال تک جاری رہ سکتے ہیں۔













