چین روبوٹکس کا عالمی مرکز بننے کی راہ پر، انسانی نما روبوٹس کی تیاری میں نمایاں برتری

اتوار 23 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین میں روبوٹکس کے شعبے سے متعلق حالیہ اہم پیشرفت نے ملک کو عالمی سطح پر روبوٹکس کی جدت کا ایک بڑا مرکز بنا دیا ہے۔ یونٹری روبوٹکس کی کامیاب ابتدائی عوامی پیشکش، بیجنگ میں جاری ورلڈ روبوٹ کانفرنس اور آئندہ ہونے والے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز نے چین میں روبوٹکس کے تیزی سے فروغ کو نمایاں کردیا ہے۔

چینی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق 2025 میں چین کے روبوٹکس شعبے سے وابستہ مقررہ حجم سے زائد صنعتی اداروں کی آمدن 300 ارب یوآن سے تجاوز کرگئی، جبکہ گزشتہ ۵ برس کے دوران اس شعبے کی اوسط سالانہ شرح نمو 20 فیصد سے زیادہ رہی۔

مزید پڑھیں:چین میں روبوٹس کے لیے منفرد اسکول، روزگار کے لیے تیار کیے جانے لگے

کیلیفورنیا میں قائم تحقیقی ادارے اسمارٹ اینالیٹکس گلوبل کی رپورٹ کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں دنیا بھر میں قریباً 19 ہزار 100 انسانی نما روبوٹس بھیجے گئے، جن میں 97 فیصد سے زائد چین میں تیار کیے گئے۔

چین سے صنعتی روبوٹس کی برآمدات میں بھی جنوری سے جولائی کے دوران 13.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں سرجیکل روبوٹس کی ترسیل سالانہ بنیاد پر 3.3 گنا بڑھ گئی۔

چین کے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ین ہجون کے مطابق روبوٹس، مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مصنوعات اور جدید ادویات چین کی برآمدات میں اضافے کے ۳ نئے محرکات ہیں۔

بیجنگ میں جاری ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں اس شعبے کی غیر معمولی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نمائش گاہ کے اطراف صبح کے اوقات میں کئی کلومیٹر تک ٹریفک جام رہتا ہے، جس کے باعث منتظمین کو روزانہ سفری ہدایات جاری کرنا پڑ رہی ہیں۔

رواں سال کانفرنس میں 300 سے زائد نمائش کنندگان شریک ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 69 فیصد زیادہ ہیں۔ نمائش میں 3 ہزار سے زائد مصنوعات پیش کی گئی ہیں، جن میں قریباً 300 مصنوعات پہلی بار متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں بڑی تعداد مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور بڑے ڈیٹا سے چلنے والی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔

چین کا وسیع اور جدید صنعتی شعبہ روبوٹس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے ایک بڑا آزمائشی میدان بن چکا ہے، جہاں فیکٹریوں اور تربیتی مراکز میں ایسی ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر استعمال کی جارہی ہے۔ ایک صنعتی تحقیقی رپورٹ کے مطابق رواں سال جون تک چین میں روبوٹس کی تربیت کے لیے 70 سے زائد مراکز قائم کیے جاچکے تھے جبکہ مزید 46 مراکز زیر تعمیر یا منصوبہ بندی کے مراحل میں تھے۔

اسی دوران چینی روبوٹکس کمپنی یونٹری روبوٹکس نے بدھ کو چین کی اے شیئر مارکیٹ میں قدم رکھا۔ کمپنی کے حصص نے کاروبار کے آغاز پر 629.44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا اور 1100 یوآن کی سطح پر پہنچ گئے۔

ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں روبوٹس کو حقیقی صنعتی کام انجام دیتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔ ایک لاجسٹکس روبوٹ ایک گھنٹے میں ایک ہزار سے زائد پارسل چھانٹنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتا دکھائی دیا، جبکہ روبوٹک ہاتھوں نے گتے کو موڑ کر پیکیجنگ باکس تیار کیا۔

ایک چینی روبوٹکس کمپنی کے اسٹال پر روبوٹس نے انسانی نگرانی کے بغیر گاڑیوں کے دھاتی پرزوں کی خودکار لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا مظاہرہ کیا۔ مختلف چینی کار ساز اداروں نے بھی اپنے تیار کردہ انسانی نما روبوٹس نمائش میں پیش کیے۔

نمائش میں صنعتی استعمال کے علاوہ جذباتی رفاقت، گھریلو کام کاج، دکانوں پر اشیا کی فروخت اور کافی بنانے جیسے روزمرہ کاموں کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس بھی توجہ کا مرکز بنے۔

مزید پڑھیں:چینی روبوٹ کمپنی کی اسٹاک مارکیٹ میں شاندار انٹری، پہلے ہی روز حصص میں 600 فیصد سے زیادہ اضافہ

چینی ماہرین کے مطابق روبوٹس اب محض نمائش کے لیے پیش کیے جانے والے جدید تصورات نہیں رہے بلکہ حقیقی زندگی کے مسائل حل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ روبوٹکس کے شعبے میں سینسر، جوائنٹ ماڈیولز اور مصنوعی ذہانت کے چپس بنانے والی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی شرکت بھی اس بات کی علامت ہے کہ چین میں روبوٹکس کا ایک مکمل اور جدید صنعتی ماحولیاتی نظام تشکیل پا رہا ہے۔

چینی انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس کے ماہر شو شیاؤلان کے مطابق انسانی نما روبوٹس کی ترقی سے جدید ٹرانسمیشن، اسمارٹ سینسرز، مصنوعی ذہانت کے چپس اور ذہین سافٹ ویئر سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ مل سکتا ہے، جس سے تحقیق و ترقی سے لے کر فروخت کے بعد خدمات تک ایک وسیع مارکیٹ تشکیل پائے گی۔

یونٹری روبوٹکس کے بانی اور چیف ایگزیکٹو وانگ شنگ شنگ کے مطابق پرامید منظرنامے میں جسمانی مصنوعی ذہانت کا ’چیٹ جی پی ٹی لمحہ‘ اگلے ۲ سے ۳ برس میں آسکتا ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ ۵ سے ۱۰ برس میں یہ تبدیلی رونما ہونے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایمی ایوارڈز میں ’وِڈوز بے‘ کا راج، ایک سیزن میں ریکارڈ 14 ایوارڈز

انگلینڈ کے خلاف چھکوں کی برسات کرنے والے رضا اللہ وطن پہنچ گئے، ایئرپورٹ پر شاندار استقبال

وزیراعظم  شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا  فیصل کریم کنڈی کی اہم ملاقات، کیا کچھ زیر بحث آیا؟

آئینی عدالت کا عمران خان کی اسپتال منتقلی کیس سے جڑے تمام مقدمات کی سماعت کا فیصلہ

’اسٹریٹ موومنٹ نہیں کرسکتے تو واپس آجاؤ مگر پشتو فلموں والے سین چھوڑ دو‘، سہیل آفریدی کی جعلی گرفتاری پر لوگوں کا ردعمل

ویڈیو

کھیل میں سیاست کی گنجائش نہیں، بھارتی ٹیم کا رویہ ناقابل قبول ہے، پاکستانی شہریوں کی رائے

جمہوریت ہی پاکستان کے لیے بہترین نظام ہے، یوم جمہوریہ پر ارکان پارلیمنٹ کی متفقہ رائے

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘