چین میں روبوٹکس کے شعبے سے متعلق حالیہ اہم پیشرفت نے ملک کو عالمی سطح پر روبوٹکس کی جدت کا ایک بڑا مرکز بنا دیا ہے۔ یونٹری روبوٹکس کی کامیاب ابتدائی عوامی پیشکش، بیجنگ میں جاری ورلڈ روبوٹ کانفرنس اور آئندہ ہونے والے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز نے چین میں روبوٹکس کے تیزی سے فروغ کو نمایاں کردیا ہے۔
چینی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق 2025 میں چین کے روبوٹکس شعبے سے وابستہ مقررہ حجم سے زائد صنعتی اداروں کی آمدن 300 ارب یوآن سے تجاوز کرگئی، جبکہ گزشتہ ۵ برس کے دوران اس شعبے کی اوسط سالانہ شرح نمو 20 فیصد سے زیادہ رہی۔
مزید پڑھیں:چین میں روبوٹس کے لیے منفرد اسکول، روزگار کے لیے تیار کیے جانے لگے
کیلیفورنیا میں قائم تحقیقی ادارے اسمارٹ اینالیٹکس گلوبل کی رپورٹ کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں دنیا بھر میں قریباً 19 ہزار 100 انسانی نما روبوٹس بھیجے گئے، جن میں 97 فیصد سے زائد چین میں تیار کیے گئے۔
چین سے صنعتی روبوٹس کی برآمدات میں بھی جنوری سے جولائی کے دوران 13.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں سرجیکل روبوٹس کی ترسیل سالانہ بنیاد پر 3.3 گنا بڑھ گئی۔
چین کے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ین ہجون کے مطابق روبوٹس، مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مصنوعات اور جدید ادویات چین کی برآمدات میں اضافے کے ۳ نئے محرکات ہیں۔
بیجنگ میں جاری ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں اس شعبے کی غیر معمولی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نمائش گاہ کے اطراف صبح کے اوقات میں کئی کلومیٹر تک ٹریفک جام رہتا ہے، جس کے باعث منتظمین کو روزانہ سفری ہدایات جاری کرنا پڑ رہی ہیں۔
رواں سال کانفرنس میں 300 سے زائد نمائش کنندگان شریک ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 69 فیصد زیادہ ہیں۔ نمائش میں 3 ہزار سے زائد مصنوعات پیش کی گئی ہیں، جن میں قریباً 300 مصنوعات پہلی بار متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں بڑی تعداد مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور بڑے ڈیٹا سے چلنے والی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔
The second World Humanoid Robot Games opened in Beijing on Saturday evening, bringing together 666 teams and 2,056 robots from 16 countries. #XinhuaNews pic.twitter.com/ZZbLOWGWDV
— China Xinhua News (@XHNews) August 23, 2026
چین کا وسیع اور جدید صنعتی شعبہ روبوٹس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے ایک بڑا آزمائشی میدان بن چکا ہے، جہاں فیکٹریوں اور تربیتی مراکز میں ایسی ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر استعمال کی جارہی ہے۔ ایک صنعتی تحقیقی رپورٹ کے مطابق رواں سال جون تک چین میں روبوٹس کی تربیت کے لیے 70 سے زائد مراکز قائم کیے جاچکے تھے جبکہ مزید 46 مراکز زیر تعمیر یا منصوبہ بندی کے مراحل میں تھے۔
اسی دوران چینی روبوٹکس کمپنی یونٹری روبوٹکس نے بدھ کو چین کی اے شیئر مارکیٹ میں قدم رکھا۔ کمپنی کے حصص نے کاروبار کے آغاز پر 629.44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا اور 1100 یوآن کی سطح پر پہنچ گئے۔
ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں روبوٹس کو حقیقی صنعتی کام انجام دیتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔ ایک لاجسٹکس روبوٹ ایک گھنٹے میں ایک ہزار سے زائد پارسل چھانٹنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتا دکھائی دیا، جبکہ روبوٹک ہاتھوں نے گتے کو موڑ کر پیکیجنگ باکس تیار کیا۔
ایک چینی روبوٹکس کمپنی کے اسٹال پر روبوٹس نے انسانی نگرانی کے بغیر گاڑیوں کے دھاتی پرزوں کی خودکار لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا مظاہرہ کیا۔ مختلف چینی کار ساز اداروں نے بھی اپنے تیار کردہ انسانی نما روبوٹس نمائش میں پیش کیے۔
نمائش میں صنعتی استعمال کے علاوہ جذباتی رفاقت، گھریلو کام کاج، دکانوں پر اشیا کی فروخت اور کافی بنانے جیسے روزمرہ کاموں کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس بھی توجہ کا مرکز بنے۔

مزید پڑھیں:چینی روبوٹ کمپنی کی اسٹاک مارکیٹ میں شاندار انٹری، پہلے ہی روز حصص میں 600 فیصد سے زیادہ اضافہ
چینی ماہرین کے مطابق روبوٹس اب محض نمائش کے لیے پیش کیے جانے والے جدید تصورات نہیں رہے بلکہ حقیقی زندگی کے مسائل حل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ روبوٹکس کے شعبے میں سینسر، جوائنٹ ماڈیولز اور مصنوعی ذہانت کے چپس بنانے والی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی شرکت بھی اس بات کی علامت ہے کہ چین میں روبوٹکس کا ایک مکمل اور جدید صنعتی ماحولیاتی نظام تشکیل پا رہا ہے۔
چینی انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس کے ماہر شو شیاؤلان کے مطابق انسانی نما روبوٹس کی ترقی سے جدید ٹرانسمیشن، اسمارٹ سینسرز، مصنوعی ذہانت کے چپس اور ذہین سافٹ ویئر سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ مل سکتا ہے، جس سے تحقیق و ترقی سے لے کر فروخت کے بعد خدمات تک ایک وسیع مارکیٹ تشکیل پائے گی۔
یونٹری روبوٹکس کے بانی اور چیف ایگزیکٹو وانگ شنگ شنگ کے مطابق پرامید منظرنامے میں جسمانی مصنوعی ذہانت کا ’چیٹ جی پی ٹی لمحہ‘ اگلے ۲ سے ۳ برس میں آسکتا ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ ۵ سے ۱۰ برس میں یہ تبدیلی رونما ہونے کا امکان ہے۔














