تاجکستان کی افغان سرحد پر مسلح جھڑپ کے دوران 2 افغان شہری ہلاک ہوگئے۔ تاجک حکام کے مطابق دونوں افراد غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوئے تھے اور ان کے قبضے سے 17 کلو گرام چرس سمیت اسلحہ برآمد ہوا ہے۔
تاجکستان کی اسٹیٹ کمیٹی فار نیشنل سیکیورٹی کے مطابق واقعہ ختلان کے جیحون ضلع کے علاقے فتح آباد میں پیش آیا، جہاں افغانستان سے داخل ہونے والے 2 افراد کا سرحدی محافظوں سے مسلح تصادم ہوا۔ دونوں افراد کا تعلق افغانستان کے صوبہ قندوز کے ضلع امام صاحب کے گاؤں برزنگی سے بتایا گیا ہے۔
تاجک میڈیا کے مطابق سرحدی اہلکاروں نے دونوں افغان شہریوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا، تاہم انہوں نے جواب میں فائرنگ کردی۔ اس کے بعد ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں دونوں افراد مارے گئے۔
کمیته دولتی امنیت ملی تاجیکستان از کشته شدن دو شهروند افغانستان در جریان یک درگیری مسلحانه در امتداد مرز این کشور با افغانستان خبر داده است.https://t.co/aWrv0G3FPa pic.twitter.com/ahgda4Quzw
— Amu TV (@AmuTelevision) August 21, 2026
تاجک سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک افراد کے قبضے سے ایک اے کے 47 رائفل، ایک ماکاروف پستول اور 2 بیگ برآمد ہوئے، جن میں مجموعی طور پر 17 کلو گرام چرس موجود تھی۔ حکام نے واقعے کی درست تاریخ ظاہر نہیں کی۔
تاجکستان میں واقعے کے حوالے سے منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل مکانی کا انتظام، اسمگلنگ اور غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔
افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر حالیہ مہینوں میں اس نوعیت کی متعدد جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ تاجک میڈیا نے ملکی انسدادِ منشیات کے ادارے کے حوالے سے بتایا کہ 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران افغان سرحد پر سات مسلح جھڑپیں ہوئیں، جن میں 17 افغان شہری ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان کا نیا پولیس قانون، مظاہروں پر مکمل پابندی، مشتبہ افراد کی حراست اور سزا کے اختیارات میں اضافہ
اسی عرصے کے دوران تاجک حکام نے افغان سرحد کے قریب مختلف کارروائیوں میں ایک ہزار 513 کلو گرام منشیات بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
اپریل میں بھی تاجک حکام کے مطابق ختلان کے ضلع فرخور میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 2 افغان شہری ہلاک ہوئے تھے اور ان کے قبضے سے 25 کلو گرام منشیات برآمد کی گئی تھی۔














