پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں کے پی پولیس (ترمیمی) ایکٹ 2024 کے ذریعے کی گئی ترامیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس محمد اعجاز خان پر مشتمل پشاورہائیکورٹ کی ڈویژن بینچ نے یہ فیصلہ رِٹ پٹیشن نمبر 7810 پی آف 2025 پر سنایا ہے جو بیرسٹر محمد یوسف خان بنام حکومتِ خیبر پختونخوا و دیگر کو فریق بناتے ہوئے دائر کی گئی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 2024 کی ترامیم کے تحت سینئر پولیس افسران (بی ایس 18 اور اس سے زائد) کی تعیناتیوں کو وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا اور انسپکٹر جنرل آف پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا قانونی اختیار واپس لینا پولیس کی پیشہ ورانہ اور عملی خودمختاری کو غیر آئینی طور پر ختم کرنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ: دوران ملازمت وفات پانے والے سرکاری ملازم کا بیٹا ملازمت کا حقدار قرار
عدالت کے مطابق ان ترامیم کے نتیجے میں پولیس کو قانون کی بجائے سیاسی مصلحتوں کا آلہ بنانے کی کوشش کی گئی، جو آئین کے منافی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ آئینی نظام کے تحت انتظامیہ کو پولیس پر صرف محدود نوعیت کی ’نگرانی‘ حاصل ہے، جس کا دائرہ کار پالیسی سازی اور عمومی نگرانی تک محدود ہے۔
پولیس فورس کے روزمرہ امور، بشمول تقرریاں، تبادلے اور اندرونی انتظامی فیصلے، مکمل طور پر آئی جی پی کے دائرہ اختیار میں ہونے چاہییں تاکہ کمانڈ کا تسلسل برقرار رہے، نظم و ضبط متاثر نہ ہو اور پولیس قیادت محض علامتی عہدہ بن کر نہ رہ جائے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 90فیصد سے زائد خواتین وراثتی حصے سے محروم
فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ایک غیر سیاسی اور عملی طور پر خودمختار پولیس انتظامی سہولت نہیں بلکہ ایک آئینی ضرورت ہے، کیونکہ بنیادی حقوق خصوصاً زندگی کا حق (آرٹیکل 9)، منصفانہ سماعت کا حق (آرٹیکل 10-اے) اور مساوات کا حق (آرٹیکل 25) اسی صورت مؤثر طور پر محفوظ رہ سکتے ہیں جب فیلڈ کمانڈ سیاسی وابستگی یا منظوری کا محتاج نہ ہو۔
عدالت نے ’ریڈنگ ڈاؤن‘ کے اصول کا اطلاق کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پولیس کو ہدایات دینے کے اختیار کی تشریح بھی محدود انداز میں کی اور قرار دیا کہ یہ اختیار صرف پالیسی امور تک محدود ہے، انفرادی آپریشنل فیصلوں یا افسران کی تعیناتی و تبادلے تک اس کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا عہدہ سنبھالتے ہی پہلا نوٹس کس معاملے کا لیا؟
عدالت کے مطابق آئی جی پی کو نظرانداز کر کے فیلڈ کمانڈرز پر کنٹرول نہ صرف کمانڈ اسٹرکچر کو توڑتا ہے بلکہ ادارہ جاتی طور پر افسران کے کیریئر کو سیاسی وابستگی سے مشروط کر دیتا ہے۔
پولیس کی آزادی کے اصول کو دہراتے ہوئے عدالت نے مشہور بلیک برن اصول کا حوالہ بھی دیا اور واضح کیا کہ امن و امان کے نفاذ کی ذمہ داری پولیس سربراہ پر عائد ہوتی ہے، جو ’صرف قانون کے سامنے جوابدہ ہے اور کسی اور کے سامنے نہیں۔‘














