بیٹیوں کے ساتھ ہونے والی درندگی سے روح کانپ اٹھتی ہے‘، حنا جاوید کے بہیمانہ قتل پر صارفین کا احتجاج

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں شادی شدہ خاتون حنا جاوید کی مبینہ قتل کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی جس کے مطابق مقتولہ کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی جبکہ پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر بھی زخم کے نشانات پائے گئے ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق 45 سالہ حنا جاوید کے جسم پر مختلف نوعیت کے زخموں کے نشانات موجود تھے جبکہ ان کے پیریکارڈیم (دل کے گرد موجود جھلی) میں خون جمع تھا۔

حنا جاوید کی موت کے معاملے پر آصفہ بھٹو زرداری، شیری رحمان، ماہرہ خان اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی فوری، شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

عاطف خٹک کا کہنا تھا کہ جب نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ آیا تو ایک جج نے فیصلے میں لکھا کہ یہ قتل اسلامی تعلیمات کے خلاف ’لیونگ ریلیشن‘ کی وجہ سے ہوا۔اب حنا جاوید کو اس کے اپنے اسلامی شوہر نے اپنے ہی گھر میں بے دردی سے قتل کیا ہے۔ اب اس کا کیا جواز ہے؟

شبیر ڈار نے کہا کہ سوشل میڈیا پر حنا جاوید کے قاتل شوہر فیصل اصغر کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ’سائیکو پیتھ‘ کہنا انصاف کے عمل کو متاثر کرسکتا ہے کیونکہ اس وقت ملزم کو نفسیاتی یا ذہنی مریض ہی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اسرار احمد لکھتے ہیں کہ حنا جاوید کا قتل کسی طور پر اسلام آباد میں نہایت ہی سفاکی و بے دردی سے قتل ہونے والی نور مقدم قتل سے کم ہیت کا نہیں ہے، دونوں کیسز میں ایک بات مشترک کے قاتل جرم کرنے بعد خود کو نفسیاتی مریض ظاہر کر رہے۔

سوشل میڈیا پر حنا جاوید کے شوہر کی ایک مبینہ ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں وہ لیکچر کے دوران شوہروں کے ہاتھوں بیویوں کے قتل کی مختلف مثالیں دیتے اور طلبہ سے سوالات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ویڈیو میں فیصل اصغر کو مبینہ طور پر کارپوریٹ بزنس کمیونیکیشن کی کلاس کے دوران ایک طالبہ سے سوال کرتے سنا جاسکتا ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو گولی مار دے تو اس کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ طالبہ جواب دیتی ہے کہ ایسا شوہر بہت برا انسان ہوگا۔

ویڈیو میں مزید مبینہ طور پر فیصل اصغر طالبہ سے سوال کرتے ہیں کہ اگر بیوی کا کسی کے ساتھ تعلق ہو اور وہ شوہر کو دولت کے لیے قتل کرنا چاہتی ہو تو کیا ہوگا؟ طالبہ جواب دیتی ہے کہ ضروری نہیں کہ بیوی اپنے شوہر کو قتل کرنا چاہتی ہو۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف سوالات اور تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ حنا جاوید کے قتل کیس میں نامزد مرکزی ملزم فیصل اصغر خود تربیت کا محتاج دکھائی دیتا ہے، جو ماضی میں NUST اور ایئر یونیورسٹی میں نوجوانوں کو تعلیم اور ذہنی تربیت فراہم کرتا رہا۔

مسلم لیگ ن رہنما حنا پرویز بٹ نے کہا کہ راولپنڈی میں حنا جاوید کے دردناک قتل نے دل دہلا دیا ہے۔ ہماری پڑھی لکھی بیٹیاں جس درندگی کا شکار ہو رہی ہیں، اسے سن کر اور دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا وعدہ ہے کہ حنا جاوید اور ان کے والدین کو بہت جلد انصاف فراہم کیا جائے گا۔ پولیس متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ اس بہیمانہ قتل میں جو بھی ملوث پایا گیا اسے قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلوائی جائے گی۔ انصاف ہوگا، ہر صورت ہوگا۔

واضح رہے کہ حنا جاوید کی لاش 21 اگست کی صبح راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں عسکری اپارٹمنٹس کے ایک فلیٹ کے باتھ روم سے برآمد ہوئی تھی۔ واقعے کی تحقیقات پولیس کی جانب سے جاری ہیں جبکہ مقدمے میں نامزد افراد سے تفتیش بھی کی جارہی ہے۔

حنا جاوید نے نومبر 2025 میں ریٹائرڈ کرنل اصغر علی فیاض کے بیٹے فیصل اصغر سے شادی کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp