طالبان حکومت نے کابل یونیورسٹی کے متعدد پروفیسرز کو عہدوں سے برطرف کردیا

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

طالبان نے کابل یونیورسٹی کے متعدد پروفیسرز کو ان کے عہدوں سے برطرف کردیا ہے۔ برطرف کیے جانے والوں میں گلبدین حکمت یار کی قیادت میں قائم حزب اسلامی سے وابستہ عبداللہ کموال، اسداللہ وحیدی اور فیض محمد زلاند شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:افغانستان: کابل یونیورسٹی میں دھماکا، 20 کے قریب طلبہ زخمی

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ 5 برس کے دوران یہ تینوں یونیورسٹی پروفیسرز طالبان کی حمایت اور ان کے حق میں لابنگ کرتے رہے اور انہیں طالبان کے حامیوں میں شمار کیا جاتا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں اب عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ برطرفیوں سے کابل یونیورسٹی میں سیاسی مداخلت کا اندازہ ہوتا ہے، جہاں طالبان حکومت کے حامی سمجھے جانے والے اساتذہ کو بھی ملازمت کے تحفظ کی ضمانت حاصل نہیں۔ یہ صورتحال طالبان حکومت کے نظریاتی کنٹرول، من مانے فیصلوں اور سیاسی مداخلت کے باعث جامعات کی خودمختاری کو متاثر کرنے کی عکاسی کرتی ہے۔

مزید پڑھیں:کابل حکومت بھارت کی پراکسی بن چکی، دہشتگردوں کی پشت پناہی بند نہ کی گئی تو جنگ ہوگی، وزیر دفاع خواجہ آصف

طالبان نے تاحال ان پروفیسرز کی برطرفی کی سرکاری وجہ بیان نہیں کی اور نہ ہی ان کی تعلیمی سرگرمیوں کے مستقبل کے حوالے سے کوئی تفصیلات جاری کی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp