اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ڈیل کی بات بیزار کن گفتگو ہے، مجھے تو کوئی ایسا تاثر نہیں مل رہا کہ عمران خان سے کوئی ڈیل ہو رہی ہے، نہ ہی شہباز حکومت کے خلاف کوئی فیصلہ آرہا ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہاکہ عمران خان سے کیا ڈیل ہے اور کس چیز پر ڈیل کرنی ہے؟ کیا اس چیز پر ڈیل کرنی ہے کہ پہلے وہ 29 چھاؤنیوں پر حملے کردیں، کور کمانڈر ہاؤس جلا دیں اور پھر ان سے مفاہمت کرلی جائے، کیا یہ ڈیل ہے؟
مزید پڑھیں: موجودہ نظام کہیں نہیں جارہا، حکومت اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری کرےگی، محسن نقوی
انہوں نے کہاکہ اگر عمران خان نے جو کیا وہ جرم ہے تو اس معاملے کو عدالتوں کو دیکھنا چاہیے، اور اگر انہوں نے جرم نہیں کیا تو پھر وہ جیل میں کیوں ہیں؟ یہ فیصلہ عدالتوں کو ہی کرنا چاہیے۔
ملک احمد خان نے یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کو سیاہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ شہباز شریف کی حکومت کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں آرہا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہاکہ وفاقی وزیر داخلہ و سینیٹر محسن نقوی ’نظام تباہ ہوگیا‘ والا بیان نہ دیتے تو بہتر تھا، اگرچہ محسن نقوی کی بات میں وزن ہے، تاہم اس پر بات کرنے کا اختیار سیاسی جماعتوں کا ہے، کسی فرد کو انفرادی طور پر اس پر بحث نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ انتظامی اصلاحات ایک سیاسی فیصلہ ہے، جس پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ اگر انتظامی یونٹس بنانے ہیں تو پہلے سیاسی طور پر فیصلہ کرنا ہوگا۔ انتظامی یونٹس بننے چاہییں یا صوبوں کے حوالے سے کیا رائے ہونی چاہیے، اس کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔
ملک احمد خان نے کہاکہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے صوبوں کے حوالے سے ہونے والی گفتگو سے اجتناب کا کہا ہے، اس لیے میں اس معاملے پر زیادہ رائے نہیں دے سکتا۔
مزید پڑھیں: ملک کو سیاسی استحکام کے لیے قومی مکالمے کی ضرورت، نئے صوبوں پر بھی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، فواد چوہدری
انہوں نے کہاکہ محسن نقوی کی گفتگو سے ایسا تاثر مل رہا تھا کہ کہیں پر کوئی اختلاف ہے، اسی تناظر میں نواز شریف نے کہا تھا کہ ان کی گفتگو کا جواب نہ دیا جائے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہاکہ سپریم کورٹ توہین عدالت کے معاملے میں کوئی نقصان دہ فیصلہ نہیں دے گی۔













