بھارتی ریئلٹی ٹی وی اسٹار راکھی ساونت نے حال ہی میں خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ پاکستانی رئیلٹی شو ’تماشا‘ کی شوٹنگ دبئی میں ہوتی تاکہ وہ بھی پروگرام کا حصہ بن کر ’پوری دنیا کو دیوانہ‘ بنا دیتیں۔
پروگرام کے میزبان اور اداکار عدنان صدیقی نے راکھی ساونت کو ’تماشا‘ میں شامل کرنے کے حوالے سے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ان کا پاکستانی شو کا حصہ بننا بہت مشکل ہے، تاہم اگر ایسا ہوجائے تو یہ انتہائی تفریحی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ’انہوں نے ہماری بیڈ شیٹ پہنی ہوئی ہے‘، صارفین کے عدنان صدیقی کی چادر پر تبصرے
ماریحہ رحمان کے پوڈکاسٹ ’گلاس وغیرہ‘ کے اتوار کو نشر ہونے والے پروگرام میں عدنان صدیقی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ راکھی ساونت کو شو کے سیٹ پر سنبھال سکیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ راکھی کا شو میں شامل ہونا ’بہت مشکل‘ ہے، لیکن اگر وہ شامل ہو جائیں تو یہ بہت زیادہ تفریحی ہوگا۔
عدنان صدیقی نے بتایا کہ ’تماشا‘ کو پہلے ہی سیزن سے بھارت میں پسند کیا جارہا ہے اور راکھی ساونت کی جانب سے پروگرام کی تعریف کرنا کوئی منفرد واقعہ نہیں۔
انہوں نے بھارتی کامیڈین جانی لیور سے موصول ہونے والی فون کال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جانی لیور نے انہیں فون کرکے کہا تھا، ’آپ بہت اچھا کام کررہے ہیں۔‘
عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’تماشا‘ کی بھارت میں مقبولیت ایک بڑی بات ہے، کیونکہ 5 سیزن مکمل ہونے کے بعد اب پڑوسی ملک سے بھی پروگرام کے بارے میں تبصرے اور آرا موصول ہورہی ہیں۔
انہوں نے بھارت سے موصول ہونے والے ایک تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک صارف نے لکھا تھا کہ ’تماشا‘ اس پروگرام کا درست نام ہے کیونکہ گھر میں واقعی تماشا لگایا جارہا ہے، اور وہ اب تمام سیزن دیکھیں گے۔
’تماشا‘ ایک ایسے فارمیٹ پر مبنی ہے جسے ڈچ ٹی وی پروگرام ’بگ برادر‘ نے مقبول بنایا اور بعد ازاں مختلف ممالک میں اسے اپنایا گیا۔ بھارت میں اسی طرز کے پروگرام کا نام ’بگ باس‘ ہے، جس کی میزبانی سلمان خان کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عدنان صدیقی کی شاہ چارلس سے ملاقات کے سوشل میڈیا پر چرچے
پوڈکاسٹ کے دوران ماریہ رحمان نے کہا کہ بعض لوگ عدنان صدیقی پر مقابلہ کرنے والوں کو ڈانٹنے کے دوران سلمان خان کی نقل کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ اس پر عدنان صدیقی نے جواب دیا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اس میں برائی کیا ہے، سلمان خان اتنے بڑے اداکار ہیں کہ وہ ان کی طرح بننے پر فخر کریں گے۔
عدنان صدیقی نے مزید کہا کہ ’تماشا‘ کی ٹیم نے محدود وسائل کے باوجود ایک بڑا پروگرام بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور ہر نئے سیزن کے ساتھ اسے مزید وسیع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک اسی نوعیت کے پروگراموں کی ٹیمیں اور بجٹ کہیں زیادہ ہیں، ان کے پاس بہتر نظام اور زیادہ وسائل موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستانی پروگرام ان کا مقابلہ کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’سلمان خان سے شادی کرلیں‘، راکھی ساونت کا ہانیہ عامر کے لیے پیغام
عدنان صدیقی نے کہا کہ بیرون ملک پروگرام بڑے، پرانے اور مجموعی طور پر بہتر ضرور ہیں، تاہم ’تماشا‘ کو ناقابلِ مقابلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے بقول اگر وہاں کے پروگرام کو 20 نمبر دیے جائیں تو ’تماشا‘ کو 18 نمبر دیے جاسکتے ہیں۔














