پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف، جمیعت علمائے اسلام، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین کا ایک ہی سیاسی پلیٹ فارم پر متحد ہونا گہرے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلے پی ڈی ایم اور اب پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد، مولانا فضل الرحمان کا ماضی و حال کا مؤقف کیا؟
انتہائی شدید نظریاتی اختلافات اور الگ الگ سیاسی بیانیوں کے باوجود ان جماعتوں کا ایک صف میں کھڑے ہونا اس بحث کو ہوا دے رہا ہے کہ یہ اتحاد اصولوں کی پاسداری ہے یا محض سیاسی ضرورت۔
اپوزیشن رہنماؤں پر قائم مقدمات اور سزائیں
القادر ٹرسٹ کے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں احتساب عدالت نے عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔
توشہ خانہ II کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی جو سعودی ولی عہد کی جانب سے تحفے میں ملنے والے قیمتی جیولری سیٹ کو انتہائی کم رقم میں رکھنے سے متعلق ہے۔
مولانا فضل الرحمان کو نیب کی جانب سے 26 نکاتی سوالنامہ بھیجا گیا تھا جس میں ان کے اور ان کے خاندان کی جائیدادوں، بینک اکاؤنٹس اور ڈی آئی خان میں خریدی گئی اراضی کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
جے یو آئی (ف) کے سینیئر رہنما اکرم خان درانی کے خلاف سرکاری ہاؤسنگ اراضی کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ اور پی ڈبلیو ڈی میں خلافِ ضابطہ تقرریوں کی تحقیقات کی گئیں۔
سیاسی اتحاد یا مفادات کا تحفظ؟
ایک طرف احتساب، اثاثوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر سنگین قانونی سوالات موجود ہیں اور دوسری طرف یہی جماعتیں اب ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑی ہیں۔
مزید پڑھیے: مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کا اتحاد، دونوں جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے کو قبول کریں گے؟
اگرچہ سیاسی اتحاد بنانا ہر جماعت کا جمہوری حق ہے لیکن جب اس اتحاد کے نمایاں چہرے سزا یافتہ ہوں یا سنگین نیب تحقیقات کا سامنا کر رہے ہوں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا یہ اتحاد واقعی کسی مشترکہ نظریے کی بنیاد پر ہے یا پھر سیاسی اور قانونی مفادات نے تمام پرانے اختلافات پر پردہ ڈال دیا ہے۔














