اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) میں آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 15 نومولود جاں بحق ہوگئے، جبکہ متاثرہ والدین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین غفلت کا الزام عائد کیا ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ صبح 6 بج کر 45 منٹ پر نرسری میں ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں مبینہ دھماکے کے بعد لگی۔
نرسری ہسپتال کے گائناکولوجی وارڈ میں قائم تھی، جہاں 16 نومولود بچے موجود تھے، تاہم صرف ایک بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔
والدین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں عملے کا کوئی فرد موجود نہیں تھا اور این آئی سی یو کا دروازہ بھی مبینہ طور پر بند تھا۔
پمز اسپتال کا داخلی دروازہ اور ایمرجنسی خارجی دروازے دونوں کو انتظامیہ نے بند کیا ہوا تھا۔ ہم نے دیوار توڑ کر کچھ والدین اور بچوں کو ریسکیو کیا باقی آگ میں جل گئے، ریسکیو اہلکار کا موقف pic.twitter.com/Uh4r2pIqKk
— Muhammad Faizan Khan (@FaizanFayzi) August 26, 2026
ان کے مطابق ریسکیو اہلکار تقریباً 2 گھنٹے بعد جبکہ پولیس واقعے کے تقریباً 4 گھنٹے بعد اسپتال پہنچی۔
ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ آگ لگنے کے ایک گھنٹے تک کوئی ڈاکٹر یا اسپتال کا عملہ وہاں نہیں پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک وارڈ میں اتنا بڑا سانحہ پیش آئے اور کسی دوسرے وارڈ میں موجود ایک شخص تک کو خراش نہ آئے۔
جاں بحق ہونے والے ایک نومولود کے والد نے دعویٰ کیا کہ فائر بریگیڈ اور ایمبولینسیں آگ لگنے کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچیں، جبکہ والدین نے خود اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔
زندگی تمام دکھ ہے
سانحہ پمز اسپتال pic.twitter.com/KncJmbw4l1
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) August 26, 2026
واحد زندہ بچ جانے والے بچے کی خالہ نے بتایا کہ وہ خود وارڈ میں داخل ہوئیں اور بچے کو اٹھا کر باہر لائیں۔
ان کا الزام تھا کہ اس وقت وہاں کوئی موجود نہیں تھا اور آگ بھڑکنے کے بعد عملہ مبینہ طور پر آئی سی یو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ بعد ازاں وہ بچے اور اس کی والدہ کو پولی کلینک اسپتال لے گئیں۔
متاثرہ خاندانوں نے جاں بحق بچوں کی شناخت یقینی بنانے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
والدین نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض خاندانوں کو نہ تو اپنے بچوں کے کپڑے دکھائے گئے اور نہ ہی ان کی شناخت کے حوالے سے مناسب تصدیق فراہم کی گئی۔
وزیراعظم کا تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں سے متعلق اس نوعیت کا سانحہ ناقابلِ تلافی ہے۔
وزیراعظم نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔
بعد ازاں انہوں نے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واقعے کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
سیکرٹری صاحب، آپ اٹھ کر چلے جائیں، یو آر سسپنڈڈ۔۔۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے اندوہناک واقعے پر ہنگامی اجلاس کے دوران وزیراعظم نے سیکریٹری صحت کو معطل کرتے ہوئے اجلاس سے جانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود کی… pic.twitter.com/Dg3rLb4A2e— Aatif Khattak (@MalakAatifKhan) August 26, 2026
اجلاس میں وزیراعظم نے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کرکے عہدے سے ہٹانے کا حکم بھی دیا۔
14 اموات کی سرکاری تصدیق
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز آتشزدگی میں 14 اموات کی سرکاری طور پر تصدیق ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اور اسپتال کے سیکریٹری پمز میں موجود ہیں اور حکام متاثرہ خاندانوں سے رابطے میں ہیں۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ غفلت کا ذمہ دار جو بھی پایا گیا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی اپنی جانب سے بھی کوئی کوتاہی ثابت ہوئی تو وہ بھی جواب دہ ہوں گے۔
وزیر صحت کے مطابق آگ لگنے کے بعد عملہ ریسکیو سروسز کو بلانے کے لیے گیا تھا، تاہم آگ نے بہت تیزی سے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
انہوں نے کہا کہ اسپتال میں آگ بجھانے کا نظام فعال تھا، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ پمز اپنی گنجائش سے زیادہ مریضوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔
آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ قرار
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پمز کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ سامنے آئی ہے۔
ان کے مطابق گیس لائن اور پلاسٹک کے آلات نے بھی آگ کے تیزی سے پھیلنے میں کردار ادا کیا۔
🚨 UPDATE: Tariq Fazal Chaudhry Arrives at PIMS Hospital
Reports claim staff fled when the fire broke out in the gynecology ward.#PIMS #Islamabad #Pakistan #BreakingNews pic.twitter.com/KxEICywwdb— DR ADNAN ALI (@DrMalko) August 26, 2026
انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر بچوں کی موت دم گھٹنے کے باعث ہوئی، جبکہ آکسیجن کی فراہمی نے بھی آگ کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق واقعے کے وقت ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر عملہ موجود تھا اور تمام عملہ محفوظ رہا۔
انہوں نے کہا کہ واقعے میں اگر کسی قسم کی غفلت ثابت ہوئی تو اسے منظر عام پر لایا جائے گا۔














