پمز اسپتال میں آتشزدگی کے باعث 14 نومولود دم گھٹنے سے جاں بحق، والدین کا غفلت کا الزام

بدھ 26 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) میں آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 15 نومولود جاں بحق ہوگئے، جبکہ متاثرہ والدین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین غفلت کا الزام عائد کیا ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ صبح 6 بج کر 45 منٹ پر نرسری میں ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں مبینہ دھماکے کے بعد لگی۔

نرسری ہسپتال کے گائناکولوجی وارڈ میں قائم تھی، جہاں 16 نومولود بچے موجود تھے، تاہم صرف ایک بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔

والدین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں عملے کا کوئی فرد موجود نہیں تھا اور این آئی سی یو کا دروازہ بھی مبینہ طور پر بند تھا۔

ان کے مطابق ریسکیو اہلکار تقریباً 2 گھنٹے بعد جبکہ پولیس واقعے کے تقریباً 4 گھنٹے بعد اسپتال پہنچی۔

ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ آگ لگنے کے ایک گھنٹے تک کوئی ڈاکٹر یا اسپتال کا عملہ وہاں نہیں پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک وارڈ میں اتنا بڑا سانحہ پیش آئے اور کسی دوسرے وارڈ میں موجود ایک شخص تک کو خراش نہ آئے۔

جاں بحق ہونے والے ایک نومولود کے والد نے دعویٰ کیا کہ فائر بریگیڈ اور ایمبولینسیں آگ لگنے کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچیں، جبکہ والدین نے خود اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔

واحد زندہ بچ جانے والے بچے کی خالہ نے بتایا کہ وہ خود وارڈ میں داخل ہوئیں اور بچے کو اٹھا کر باہر لائیں۔

ان کا الزام تھا کہ اس وقت وہاں کوئی موجود نہیں تھا اور آگ بھڑکنے کے بعد عملہ مبینہ طور پر آئی سی یو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ بعد ازاں وہ بچے اور اس کی والدہ کو پولی کلینک اسپتال لے گئیں۔

متاثرہ خاندانوں نے جاں بحق بچوں کی شناخت یقینی بنانے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

والدین نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض خاندانوں کو نہ تو اپنے بچوں کے کپڑے دکھائے گئے اور نہ ہی ان کی شناخت کے حوالے سے مناسب تصدیق فراہم کی گئی۔

وزیراعظم کا تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں سے متعلق اس نوعیت کا سانحہ ناقابلِ تلافی ہے۔

وزیراعظم نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔

بعد ازاں انہوں نے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واقعے کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

اجلاس میں وزیراعظم نے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کرکے عہدے سے ہٹانے کا حکم بھی دیا۔

14 اموات کی سرکاری تصدیق

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز آتشزدگی میں 14 اموات کی سرکاری طور پر تصدیق ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اور اسپتال کے سیکریٹری پمز میں موجود ہیں اور حکام متاثرہ خاندانوں سے رابطے میں ہیں۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ غفلت کا ذمہ دار جو بھی پایا گیا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی اپنی جانب سے بھی کوئی کوتاہی ثابت ہوئی تو وہ بھی جواب دہ ہوں گے۔

وزیر صحت کے مطابق آگ لگنے کے بعد عملہ ریسکیو سروسز کو بلانے کے لیے گیا تھا، تاہم آگ نے بہت تیزی سے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

انہوں نے کہا کہ اسپتال میں آگ بجھانے کا نظام فعال تھا، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ پمز اپنی گنجائش سے زیادہ مریضوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔

آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ قرار

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پمز کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ سامنے آئی ہے۔

ان کے مطابق گیس لائن اور پلاسٹک کے آلات نے بھی آگ کے تیزی سے پھیلنے میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر بچوں کی موت دم گھٹنے کے باعث ہوئی، جبکہ آکسیجن کی فراہمی نے بھی آگ کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق واقعے کے وقت ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر عملہ موجود تھا اور تمام عملہ محفوظ رہا۔

انہوں نے کہا کہ واقعے میں اگر کسی قسم کی غفلت ثابت ہوئی تو اسے منظر عام پر لایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کا پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس

اسلم غوری سیکریٹری صحت کے عہدے سے فارغ، محمد محمود کو اضافی چارج مل گیا

‎پمز اسپتال سانحہ، 3 روز قبل پیدا ہونیوالی جڑواں بچیاں بھی لقمہ اجل بن گئیں

پمز اسپتال سانحہ، نواز شریف کا ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

پمز اسپتال میں آگ انتہائی تیزی سے پھیلی اور اس پر قابو پانا مشکل ہوگیا، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران، ایک بار پھر ایران امریکا مذاکرت شروع ہونے کے امکانات روشن

کالم / تجزیہ

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار