چین اور نیپال کی سرحد پر اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں 165 افراد ہلاک اور سینکڑوں لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد میں 300 سے زائد غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ امدادی کارروائیاں دشوار پہاڑی علاقوں اور خراب موسم کے باعث متاثر ہو رہی ہیں۔
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 165 تک پہنچ گئی ہے جبکہ چین کی جانب سے 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ نیپالی حکام کے مطابق سینکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو کارروائیوں میں 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار حصہ لے رہے ہیں، تاہم دشوار گزار پہاڑی راستوں، خراب موسم، سڑکوں کی بندش اور مواصلاتی نظام متاثر ہونے کے باعث امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بھارت اور نیپال میں مون سون کی تباہ کاریاں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے درجنوں ہلاکتیں
حکام کے مطابق 300 سے زائد غیر ملکی شہریوں کا بھی کوئی پتا نہیں چل سکا، جن میں کم از کم 47 امریکی شامل ہیں۔ کٹھمنڈو کی ٹور کمپنی ’کائلاش جرنیز‘ کے مطابق اس کے ساتھ سفر کرنے والے 26 غیر ملکی سیاح اور 5 نیپالی گائیڈز بھی لاپتا ہیں۔ گروپ میں 8 امریکی، 7 برطانوی، 6 آسٹریلوی، ایک نیوزی لینڈ کا شہری، 2 کینیڈین، ایک جنوبی افریقی اور ایک ملائیشین شہری شامل تھا۔ یہ علاقہ تبت میں واقع مقدس پہاڑ کیلاش جانے والے زائرین اور سیاحوں کے لیے اہم راستہ ہے۔

تباہی کی بنیادی وجہ بھوٹے کوشی دریا کے راستے میں آنے والی ایک بڑی لینڈ سلائیڈنگ بتائی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں چین سے نیپال کی جانب پانی کا انتہائی طاقتور ریلا آیا۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے تباہی، درجنوں افراد جاں بحق، ہزاروں متاثر
سائنس دانوں کے ایک گروپ کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر ایک گلیشیئر ٹوٹ کر وادی میں گرا، جس نے لینڈ سلائیڈنگ کے اثرات کو مزید شدید کر دیا۔ چین کے علاقے گیریونگ میں مٹی اور ملبے نے اہم راستے بند کر دیے ہیں جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ بعض مقامات پر تقریباً ڈیڑھ میٹر موٹا ہے، جس کے باعث چینی امدادی ٹیموں کو متاثرہ سرحدی بندرگاہ تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

سیلاب نے چین اور نیپال کے درمیان اہم تجارتی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ گیریونگ پورٹ دونوں ممالک کی تجارت کے تقریباً ایک تہائی حصے کو سہولت فراہم کرتی ہے، جبکہ 2024 میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔ چینی حکام کے مطابق سرحدی علاقے میں لاپتا افراد کی تعداد 558 تک پہنچ گئی ہے۔ چینی ریڈ کراس نے متاثرہ علاقوں میں 5 ہزار 500 سے زائد پانی اور خوراک کے ڈبے جبکہ 2 ہزار 500 سے زیادہ خیمے، حفظانِ صحت کا سامان، کمبل اور دیگر امدادی اشیا فراہم کی ہیں۔













