افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ بدخشان کے ضلع زیبک میں طالبان فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران کم از کم 10 طالبان ارکان ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے۔
افغانستان فریڈم فرنٹ نے بدھ 26 اگست کو جاری بیان میں کہا کہ ضلع زیبک میں منگل کی سہ پہر اس وقت لڑائی شروع ہوئی جب طالبان نے اپنے کمک دستے محاذی پوزیشنوں پر بھیجے۔ گروپ کے مطابق جھڑپیں رات 10 بجے تک جاری رہیں۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ طالبان نے اپنی دفاعی لائنوں کو توڑنے کی کوشش میں مختلف محاذوں پر متعدد توپ خانے کے حملے کیے، تاہم افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں نے یہ حملے پسپا کردیے۔
🇦🇫⚡️ Afghanistan’s anti-Taliban NRF reportedly targeted a Taliban vehicle in Badakhshan Province, killing three Taliban fighters.#Afghanistan #Taliban pic.twitter.com/VScBlYjqUr
— Mr. Guardian (@MrGGuardian) August 26, 2026
گروپ نے کہا کہ طالبان نے ہلاک اور زخمی ہونے والے اپنے اہلکاروں کی لاشیں اور زخمیوں کو علاقے سے منتقل کرکے نامعلوم مقامات پر پہنچا دیا۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق لڑائی ختم ہونے کے بعد اس کے جنگجوؤں نے اپنی دفاعی پوزیشنیں مزید مضبوط کرلیں۔
گروپ نے مزید دعویٰ کیا کہ طالبان فورسز میں غیر ملکی جنگجو بھی شامل تھے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق طالبان کو خدشہ تھا کہ زیبک میں لڑنے والے اپنے غیر ملکی جنگجوؤں کی شناخت سامنے آجائے گی، اسی لیے ان کی لاشوں اور زخمیوں کو بھی نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا۔
طالبان کی جانب سے تاحال ان دعوؤں پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق جھڑپوں، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد سمیت افغانستان فریڈم فرنٹ کے دیگر دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔













