سپریم کورٹ نے بلوچستان کے حلقہ پی بی 9 کوہلو میں دوبارہ گنتی سے متعلق کیس 3 رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ستمبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔
جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل امان اللہ کنرانی نے مؤقف اختیار کیا کہ رولز کے مطابق 3 رکنی بینچ الیکشن ٹربیونل کے خلاف اپیلیں سن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت کیس کی سماعت کرنا چاہتی ہے تو وہ دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ: پی بی 9 کوہلو میں 4 پولنگ اسٹیشنز پر ری پولنگ کا فیصلہ معطل
دوسری جانب وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نئے رولز میں الیکشن ٹربیونل کا ذکر موجود نہیں، جبکہ عدالت کے پرانے رولز میں انتخابی ٹربیونل کے خلاف اپیلوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ 4 پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ ہوئی تھی اور اصل مسئلہ غیرحقیقی ٹرن آؤٹ کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر فطری ٹرن آؤٹ سے متعلق سپریم کورٹ پہلے بھی فیصلہ دے چکی ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ موجودہ کیس میں بھی ٹرن آؤٹ 80 فیصد سے زیادہ ہونے کا معاملہ ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد مقدمہ 3 رکنی بنچ کے سامنے مقرر کرنے کا حکم دیا اور سماعت ستمبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔
پی بی 9 کوہلو کا جھگڑا کیا ہے؟
پی بی 9 کوہلو سے 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے میر چنگیز خان مری کامیاب قرار پائے تھے۔ انہیں 7 ہزار 544 ووٹ ملے تھے جبکہ ان کے مدِمقابل میر نصیب اللہ خان نے 6 ہزار 277 ووٹ حاصل کیے تھے۔
بعد ازاں میر نصیب اللہ خان کی جانب سے انتخابی نتائج کے خلاف دائر درخواست پر بلوچستان کے الیکشن ٹریبونل نے جولائی 2026 میں میر چنگیز خان مری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے 4 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دیا تھا۔
الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کی تعمیل میں الیکشن کمیشن نے میر چنگیز خان مری کو ڈی نوٹیفائی کرتے ہوئے 27 اگست کو 4 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا شیڈول جاری کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد ری پولنگ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے میر چنگیز خان مری کی رکنیت بحال کردی تھی، جبکہ کیس کی مزید سماعت آج ہوئی۔ آج سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے بلوچستان کے حلقہ پی بی 9 کوہلو میں دوبارہ گنتی سے متعلق کیس 3 رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ستمبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔














