ڈاکٹر مہیش کمار سربراہ قائمہ کمیٹی صحت نے کہا ہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے دوران آگ لگنے کے اصل ذریعے کا تاحال تعین نہیں ہوسکا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ آگ پرانے اے سی سے نکلی تھی، جبکہ آکسیجن پائپ لائن سمیت دیگر ممکنہ ذرائع کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پمز اسپتال کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ اسپتال کے عملے اور ڈیوٹی پر موجود نرسز سے بھی معلومات حاصل کی گئی ہیں، تاہم کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ آگ کہاں سے لگی اور اس کا آغاز کیسے ہوا۔ ان کے بقول مختلف باتیں سامنے آرہی ہیں لیکن فی الحال یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ آگ کا ذریعہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ واقعے میں آکسیجن بھی ایک اہم عنصر ہے، کیونکہ نرسری میں بچوں کو مسلسل آکسیجن فراہم کی جاتی ہے اور وہاں آکسیجن کی پائپ لائن موجود ہے۔ بعض افراد کے مطابق اچانک آگ دکھائی دی اور مختلف جگہوں سے شعلے نکلتے ہوئے نظر آئے، تاہم اس بارے میں بھی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکا۔
یہ بھی پڑھیں:پمز اسپتال:4 دہائیوں کی طبی خدمات، اربوں روپے کا بجٹ اور نئے چیلنجز
قائمہ کمیٹی صحت کے سربراہ نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے بھی انتظامیہ سے پوچھا گیا ہے کہ آیا اس سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ آگ اے سی سے شروع ہوئی تھی، لیکن فوٹیج میں بھی ایسا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا۔
ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ نرسری کا موجودہ حصہ 1990 میں تعمیر کیا گیا تھا، جبکہ اسپتال میں ایک نیا بلاک بھی حال ہی میں تعمیر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں موجود ڈاکٹرز کی رائے ہے کہ نرسری، جہاں انتہائی حساس حالت میں نومولود بچوں کو رکھا جاتا ہے، کے لیے نیا بلاک زیادہ موزوں تھا۔
ان کے مطابق نئے بلاک کو نرسری کے بجائے گائنی وارڈ کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ بچوں کو پرانے بلاک میں رکھا گیا۔ کمیٹی اس معاملے کا بھی جائزہ لے گی کہ نرسری کے لیے نئے بلاک کے بجائے پرانی عمارت کے استعمال کا فیصلہ درست تھا یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر 24 گھنٹے میں قائم کی جانے والی کمیٹی کے فیصلے کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پمز اسپتال واقعہ ایک حادثہ، وزیراعظم اور وزیر کا کام ایک اسپتال کو دیکھنے کا نہیں ہونا چاہیے، مصطفیٰ کمال
ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ قائمہ کمیٹی صحت کا اجلاس جلد طلب کیا جائے گا اور تمام متعلقہ حکام سے سوالات کے جوابات لیے جائیں گے۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ارکانِ کمیٹی سمیت تمام اراکین سے اپیل کی کہ وہ اجلاس میں شرکت کریں کیونکہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں تجربہ رکھنے والے ڈاکٹرز اور دیگر ماہر ارکان بھی شامل ہیں، جو مل کر معاملے کا میرٹ پر جائزہ لیں گے۔ تحقیقات اور کمیٹی کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رپورٹ تیار کرکے وزیراعظم کو پیش کی جائے گی اور یہ واضح کیا جائے گا کہ واقعے کا ذمہ دار کون ہے۔













