عدالت نے بچے ماں کے حوالے کیے تو وہ ’بابا، بابا‘ پکارتے رہے، معصوم بچوں کی آہ و بکا نے ہر آنکھ نم کردی

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 لاہور ہائیکورٹ نے گھریلو تنازع سے متعلق کیس میں دو کمسن بچوں کو والد کی تحویل سے لے کر والدہ کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس امیر عجم ملک نے مسمات عائشہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ پولیس نے دونوں بچوں کو ان کے والد علی احمد سمیت عدالت میں پیش کیا۔ درخواست گزار کے وکیل شہباز علی ہنجرا ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ شوہر نے مبینہ طور پر بچوں کو زبردستی اپنے پاس رکھا اور بیوی کو گھر سے نکال دیا جبکہ دونوں کے درمیان تاحال طلاق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب والد نے مؤقف اپنایا کہ بیوی خود بچوں کو چھوڑ کر میکے گئی تھی اور بچے ماں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد دونوں بچوں کو ماں کی تحویل میں دینے کا حکم دے دیا۔ تاہم بچوں کی حوالگی کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے جب کمسن بچے ماں کے ساتھ جانے سے انکار کرتے ہوئے باپ کے پاس رہنے کی دہائی دیتے رہے۔

بچوں کو ماں کے حوالے کیے جانے کے وقت ان کا ’’بابا، بابا‘‘ پکارتے ہوئے رونا موقع پر موجود افراد کو بھی افسردہ کر گیا۔ واقعے کی ویڈیو اور بچوں کی آہ و بکا پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ والدین کی لڑائی میں سب سے زیادہ معصوم اور بے قصور بچے ہی پِس جاتے ہیں۔

چوہدری حمزہ خالد لکھتے ہیں کہ والدین کی انا جیت گئی، معصوم بچے ہار گئے؛ میاں بیوی کی ضد میں روتے بچے، عدالت نے ماں کے حوالے کیا تو ’’بابا، بابا‘‘ پکارتے تڑپ اٹھے۔

 ارشد علی لکھتے ہیں کہ والدین کو اپنے بچوں کی خاطر اپنی انا کا بت توڑ دینا چاہیے کیونکہ والدین کی لڑائی میں سب سے زیادہ متاثر بچے ہی ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp