نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے لندن میں برطانیہ کے وزیرِ مملکت اسٹیفن ڈاؤٹی سے اہم ملاقات کی ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت تجارتی، معاشی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
27 اگست 2026 کو ہونے والی اس بیٹھک میں دونوں رہنماؤں نے افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سمیت علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

ملاقات کے دوران نائب وزیرِ اعظم نے پاک برطانیہ دوطرفہ تعلقات کی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی روابط کو پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، ابھرتے ہوئے شعبوں میں شراکت داری، موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون اور ثقافتی تبادلوں کو بڑھانے کے طریقوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر خارجہ اسحاق ڈار لندن پہنچ گئے، برطانوی وزیر خارجہ سمیت اہم حکام سے ملاقاتیں متوقع
اس موقع پر اسحاق ڈار نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں دونوں ممالک کے درمیان ایک ‘مضبوط اور فعال پل’ قرار دیا۔
علاقائی امن و امان اور سفارتی حکمتِ عملی
اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے کے پائیدار امن و استحکام کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطہ کاری ہی موثر راستہ ہے۔

برطانوی وزیرِ مملکت اسٹیفن ڈاؤٹی نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہا اور باہمی و علاقائی امور پر پاکستان کے ساتھ قریبی شراکت داری برقرار رکھنے کے برطانوی عزم کا اعادہ کیا۔
پاک برطانیہ تعلقات اور تارکینِ وطن کا کردار
واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تاریخی، سفارتی اور معاشی تعلقات کی ایک مستحکم تاریخ موجود ہے، جبکہ برطانیہ میں مقیم ‘1.5’ ملین سے زیادہ پاکستانی نژاد شہری دونوں ممالک کے مضبوط روابط کی بنیادی وجہ ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان کے پیچیدہ جغرافیائی حالات کے تناظر میں واشنگٹن اور یورپی دارالحکومتوں کے ساتھ ساتھ لندن کے ساتھ اسلام آباد کے اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے خطے میں پائیدار توازن برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔














