بجٹ 27-2026: ٹیکس اصلاحات کے لیے پچھلے سال سے بھی کم، 11 ارب 57 کروڑ روپے مختص

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے مالی سال بجٹ 27-2026 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں ملک کے ٹیکس نظام میں اصلاحات، محصولات میں اضافے اور کسٹمز انتظامیہ کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے کے لیے 11 ارب 57 کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مالی سال بجٹ 27-2026 میں ترقیاتی فنڈز کی تفصیلات

 پی ایس ڈی پی دستاویزات کے مطابق اس بجٹ کا ایک بڑا حصہ سرحدی اور ساحلی پٹیوں کی نگرانی پر خرچ کیا جائے گا، جس کے تحت دریائے سندھ، حب اور بلوچستان کے اہم مقامات پر کسٹمز کے جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ مراکز قائم کرنے کے لیے 5 ارب 57 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کی تردید کر دی، بلاول بھٹو کی عدم شرکت کا اعلان

اس کے علاوہ سرحدی تجارت اور راہداری تجارتی نظام (ٹرانزٹ ٹریڈ) کی ڈیجیٹل نگرانی کے منصوبے کے لیے 2 ارب روپے، جب کہ سی پیک کے مرکز گوادر میں ’ماڈل کسٹمز کلیکٹریٹ‘ کے قیام کے لیے 50 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔

حکومت کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے کسٹمز کے نظام کو زیادہ مربوط اور مؤثر بنا کر اسمگلنگ کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے گا۔

بجٹ میں کمی اور کارکردگی کا چیلنج

بجٹ دستاویزات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ محصولات کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی استعدادِ کار کو بڑھانے کے منصوبوں کے لیے 3 ارب 50 کروڑ روپے علیحدہ سے مختص کیے گئے ہیں۔

ان تمام تر اقدامات کا بنیادی مقصد ٹیکس وصولی کے روایتی نظام کو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف منتقل کرنا ہے تاکہ ٹیکس چوری کے راستے بند کیے جا سکیں اور ملکی خزانے کو مستحکم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں:ایف بی آر کا 11 ماہ کا خسارہ 868 ارب روپے تک پہنچ گیا

تاہم رواں مالی سال کا یہ بجٹ گزشتہ برس کے مقابلے میں کچھ کم ہے، کیونکہ حکومت نے گزشتہ مالی سال میں ٹیکس اصلاحات اور ایف بی آر کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے 12 ارب 21 کروڑ روپے کی بھاری رقم مختص کی تھی۔

بھاری فنڈز کی فراہمی اور ڈیجیٹلائزیشن کے باعث اگرچہ ٹیکس وصولیوں میں کچھ بہتری تو ریکارڈ کی گئی، لیکن اس کے باوجود ایف بی آر گزشتہ برس اپنے سالانہ محصولات کے مقررہ ہدف کو مکمل طور پر حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے نگرانی کے نظام کو سخت کرنے کے دعوؤں کے باوجود محصولات کے سرکاری ہدف اور حقیقی وصولیوں کے درمیان پایا جانے والا بڑا فرق تاحال برقرار ہے، جو نئے مالی سال میں حکومت اور ایف بی آر کے لیے ایک بڑا چیلنج رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک معاشی استحکام کی راہ پر گامزن، رواں سال کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کا سال ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف

فیفا ورلڈ کپ 2026: سینیگال کی فٹبال ٹیم کے ساتھ ماہر امراض نسواں کو بھیجا گیا؟

اسحاق ڈار سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات، علاقائی تعاون کے فروغ پر اتفاق

وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کی ملاقات، انسانی تعاون بڑھانے پر اتفاق

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں غیرت کے نام پر پولیس اہلکار اور عورت کا بہیمانہ قتل

ویڈیو

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

کالم / تجزیہ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری