کانگریس کی سینئر رہنما سونیا گاندھی کی متوقع آپ بیتی ’بی لانگنگ: اے جرنی آف لو‘ کو بھارت میں شائع کرنے سے معروف اشاعتی ادارے ‘پینگوین رینڈم ہاؤس انڈیا’ (PRHI) نے انکار کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، ذرائع نے بتایا ہے کہ پینگوین رینڈم ہاؤس انڈیا مسودے کے ایک حصے میں کچھ ’ادارتی اور متن سے متعلق تبدیلیاں‘ چاہتا تھا، لیکن مصنفہ نے ان تجاویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کے باعث پبلشر اس کتاب کی اشاعت سے پیچھے ہٹ گیا۔
پینگوین کی دستبرداری کے بعد اب متعدد بھارتی اشاعتی ادارے اس کتاب کے حقوق حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ اطلاعات کے مطابق ‘ہارپر کولنز’ بھارت میں اس کتاب کی اشاعت اور تقسیم کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔
اس کتاب کی عالمی سطح پر 10 نومبر کو اشاعت کا سب سے پہلے امریکی ادارے ‘الفریڈ اے نپف’ (Alfred A Knopf) نے اعلان کیا تھا، جو پینگوین رینڈم ہاؤس کا ہی ایک ذیلی ادارہ ہے۔ نپف کا کہنا تھا کہ اس کتاب کے پہلے ایڈیشن میں ایک لاکھ نسخے شائع کیے جائیں گے۔
اگرچہ سونیا گاندھی اس سے قبل بھی کئی کتابیں تحریر اور ایڈٹ کر چکی ہیں، تاہم ان کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی کی سب سے ذاتی اور حتمی داستان ہے۔ نپف نے اسے ’دنیا کی ایک ممتاز ترین خاتون رہنما کی دلکش آپ بیتی قرار دیا ہے، جو محبت، خاندان اور بھارت جیسے سحر انگیز ملک کی ایک جاندار کہانی بیان کرتی ہے‘۔

کتاب کے تعارف میں سونیا گاندھی کے حوالے سے کہا گیا ہے ’میرے خاندان کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے، لیکن بہت کم تحریریں ان کے مقاصد، اقدامات اور انسانی خامیوں کی حقیقت تک پہنچ سکیں۔ میری یہ کہانی قارئین کو ان سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کا ایک انوکھا زاویہ بھی فراہم کرتی ہے جن کا میں چھ دہائیوں سے مشاہدہ کر رہی ہوں۔‘
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پینگوین انڈیا کا کسی اہم کتاب پر تنازع ہوا ہو۔ رواں سال کے شروع میں پینگوین نے سابق بھارتی آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے کی آپ بیتی ’فور اسٹارز آف ڈیسٹینی‘ کے بارے میں کہا تھا کہ اس نے اسے شائع نہیں کیا، تاہم اس کے باوجود راہول گاندھی نے پارلیمنٹ میں اس کا پرنٹ شدہ نسخہ دکھایا تھا۔ اسی طرح رواں سال جون میں پینگوین نے مظفر نگر فسادات پر مبنی گرافک ناول نگار جو سچو کی کتاب پر بھی تکنیکی اور سرحدی نقشوں کے قانونی تنازعات کی وجہ سے پیشرفت روک دی تھی۔
دوسری جانب، پینگوین رینڈم ہاؤس انڈیا نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک وضاحتی بیان میں ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ادارہ ترمیم کی تجویز رد ہونے پر پیچھے ہٹا ہے۔ پبلشر کا موقف ہے کہ حقائق کی تصدیق اور مناسب تجاویز دینا اشاعتی عمل کا ایک نارمل حصہ ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ کتاب شائع کرنے کا خواہشمند تھا، تاہم مصنفہ کے ساتھ ہونے والی حساس بات چیت پر مزید تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔












