میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میر رضا قتل کیس میں تحقیقاتی و انتظامی غفلت کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں منعقد ہوا، جہاں کیس کے قانونی پہلوؤں، پولیس کی کارکردگی اور شاہراہ فیصل نرسری اسٹاپ پر مظاہرین کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ایف آئی آر کا اندراج اور کمیشن میں اس کا ردعمل

سماعت کے دوران جبران ناصر نے کمیشن کی توجہ شاہراہ فیصل نرسری اسٹاپ پر پولیس کی جانب سے درج کی گئی تازہ ایف آئی آر کی طرف مبذول کروائی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ شب میر رضا کے اہل خانہ اور ان کی مدد کرنے والے افراد شاہراہ فیصل پر پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ پولیس نے ان کے خلاف ہنگامہ آرائی اور راستے کی بندش کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: شاہراہ فیصل بلاک کرنے پر 100 کے قریب مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج

ایف آئی آر میں تقریباً 100 مظاہرین کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں عدنان رضا، دانش رضا، دانش، علی، رضا حسن، طلحہ، احمد، عبداللہ اور سبطین سمیت 20 افراد بالنام اور 80 نامعلوم شامل ہیں۔

درج ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے ڈنڈے، پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور صدر سے ایئرپورٹ جانے والی سڑک بلاک کر کے شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کیں۔

جبران ناصر نے موقف اختیار کیا کہ مقدمے میں اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ شاہراہِ فیصل پر جسٹس فار رضا کے نعرے کیوں لگائے گئے، نیز اہلخانہ کو ابھی تک گواہوں کے بیانات کی کاپیاں بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ اس پر سربراہ کمیشن جسٹس عمر سیال نے کہا کہ آپ کی تنقید بجا ہے اور ہم ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، اہم ہدایت نامہ جاری

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر سڑک بلاک ہونے کے باعث یہ قانونی قدم اٹھایا گیا، تاہم ابھی کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

اجلاس کے آغاز پر جسٹس عمر سیال نے مقتول میر رضا کے اہل خانہ کو روسٹرم پر بلا کر تعزیت کی اور کہا کہ ایک بہیمانہ طریقے سے ان کا بچہ چھینا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوڈیشل کمیشن بند کمروں کے بجائے مکمل شفافیت کے ساتھ کام کرے گا اور کسی بھی خوف کے بغیر آزادانہ تحقیقات یقینی بنائے گا۔

جسٹس عمر سیال نے انکوائری اور انویسٹی گیشن کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کمیشن ٹی او آرز کے مطابق صرف پولیس کی غفلت اور تحقیقات کے نقائص کی نشاندہی کرے گا، کیس کی براہِ راست تفتیش کرنا کمیشن یا وزیر اعلیٰ کا کام نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: اہل خانہ نے سندھ حکومت کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مسترد کردیا

انہوں نے مزید کہا کہ اہلخانہ کی متوازی درخواست کا اس کمیشن سے کوئی تعلق نہیں۔ مقتول کے والد میر حسین نے کمیشن پر کامل اعتماد کا اظہار کیا، تاہم پولیس انویسٹی گیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا میں سندھ طاس معاہدے پر عالمی سیمینار، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار، مشترکہ اعلامیہ جاری

روزگار، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل معیشت، افتخار گیلانی کا آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے روڈ میپ سامنے آگیا

گل پلازہ سانحہ: جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرعام پر آگئی، اہم انکشافات

صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، وزیر خزانہ

پمز آتشزدگی: وزیراعظم کی بچے کی جان بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام کی منظوری

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں