میر رضا علی قتل کیس کے سلسلے میں احتجاج کے دوران شاہراہ فیصل کا ایک حصہ مبینہ طور پر بلاک کرنے پر کراچی پولیس نے تقریباً 100 مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
کراچی پولیس کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق 27 اگست کی رات ساڑھے 12 بجے کے قریب تقریباً 100 افراد نے صدر سے ایئرپورٹ جانے والی شاہراہ فیصل کی سڑک پر احتجاج کیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور بینرز تھے جن پر ’میر رضا علی کے قاتلوں کو گرفتار کرو‘ جیسے نعرے درج تھے۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا علی قتل کیس: میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر اہلخانہ کا اعتراض، نئی کمیٹی مسترد کردی
ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے ٹریفک اور پیدل آمدورفت میں رکاوٹ پیدا کی اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے سمجھانے کے باوجود احتجاج اور نعرے بازی جاری رکھی۔
پولیس نے مقدمے میں ہنگامہ آرائی، غیر قانونی اجتماع کے ہر رکن کو مشترکہ مقصد کے تحت کیے گئے جرم کا ذمہ دار قرار دینے، سرکاری ملازم کے فرائض میں رکاوٹ ڈالنے، ناجائز طور پر راستہ روکنے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے ارادے سے توہین کے دفعات شامل کی ہیں۔ مقدمے میں 20 نامزد افراد کے علاوہ 75 سے 80 نامعلوم ساتھیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا علی قتل یا خودکشی؟ آخری 48 گھنٹوں میں کیا ہوا، ٹائم لائن نے کیس کے کئی راز بے نقاب کر دیے
25 سالہ کاروباری شخص میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔ انہیں 28 جولائی کو لاپتا قرار دیا گیا تھا۔ میر رضا علی کے اہل خانہ نے تحقیقات پر سوالات اٹھاتے ہوئے حقائق سامنے لانے اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
میر رضا کے اہل خانہ، دوست، جاننے والے اور سول سوسائٹی کے ارکان گزشتہ کئی روز سے نرسری کے قریب شاہراہ فیصل پر رات کے وقت احتجاج کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انصاف ملنے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
قتل کیس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی کارروائی شروع
دوسری جانب میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات اور پولیس تفتیش کا جائزہ لینے کے لیے قائم عدالتی کمیشن نے کارروائی شروع کردی ہے۔
ایک رکنی کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے میر رضا علی کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکو لیگل افسر اسامہ شیخ کو طلب کیا، جبکہ لاش ملنے کی اطلاع پولیس کو دینے والے نرسری کے دو ملازمین، ایدھی رضاکاروں اور موقع پر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں کو بھی بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا گیا۔
سماعت کے آغاز پر میر رضا علی کے لیے دعا کی گئی۔ جسٹس عمر سیال نے میر رضا کے والد میر حسین علی سے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں خاندان کی کیفیت سے آگاہ ہیں۔
اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا علی 28 جولائی کو صبح 4 بجے گھر سے نکلے تھے اور سی سی ٹی وی کے مطابق صبح ساڑھے 4 بجے آخری بار زندہ دیکھے گئے۔ ان کے مطابق لاش 29 جولائی کو پولیس کارروائی کے بغیر جناح اسپتال منتقل کی گئی، جہاں اسی روز پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا علی کیس: نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل، ایف آئی آر میں قتل کی دفعات شامل
جبران ناصر نے بتایا کہ میر رضا کی گمشدگی کے 11 گھنٹے بعد اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لاش نرسری کے دو ملازمین یاسر اور قیصر کی اطلاع پر ملی تھی۔
کمیشن نے تفتیشی افسر سراج لشاری کو بھی آئندہ کارروائی میں پیش ہونے اور کمیشن کی معاونت کرنے کی ہدایت کی۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن کی جانب سے اشتہار جاری کیا جائے گا جس میں کیس سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد کو کمیشن سے رابطے کی دعوت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص معلومات فراہم کرنے والے شخص کو ایک لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔
کمیشن نے سندھ حکومت سے کیس سے وابستہ پولیس افسران اور ڈاکٹروں کی فہرست سمیت تمام دستیاب شواہد کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ عدالتی کمیشن کی کارروائی منگل کو صبح 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔












