آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار بیرسٹر افتخار گیلانی کو ریاست کا 17واں وزیراعظم منتخب کرلیا۔ انہوں نے 30 ووٹ حاصل کیے۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کے مقابلے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سردار مختار کو قائد ایوان کے لیے امیدوار نامزد کیا تھا، انہیں صرف 14 ووٹ حاصل ہوسکے۔ ہوں اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی اکثریت کے باعث فیصلہ لیگی امیدوار کے حق میں آیا۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کا شمار آزاد کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کے نمایاں رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق مظفرآباد کے ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے اور وہ قانون، تعلیم اور پارلیمانی سیاست کے شعبوں میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

تعلیم اور وکالت

بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی، جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ وہاں انہوں نے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اور وطن واپسی کے بعد اسلام آباد میں وکالت شروع کی۔

وہ قریباً ایک دہائی تک وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے۔ عدالتی معاملات اور قانون کے شعبے میں کام کرنے کے دوران انہوں نے آئینی اور قانونی امور میں بھی تجربہ حاصل کیا۔

مسلم لیگ (ن) سے سیاسی وابستگی

افتخار گیلانی کا خاندان آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) سے وابستہ اہم سیاسی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے 2011 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑا اور کامیاب ہوکر پہلی مرتبہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے نواز شریف نے افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے باقاعدہ نامزد کردیا

اس وقت آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم تھی، جبکہ انتخابی میدان میں انہیں پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کے اتحاد کا سامنا تھا۔

2016 کے عام انتخابات میں بھی افتخار گیلانی نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی اور دوسری مرتبہ رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس انتخاب میں انہوں نے اپنے سیاسی حریف خواجہ فاروق احمد کو نمایاں برتری سے شکست دی۔

وزیر تعلیم کی حیثیت سے کردار

سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر کی حکومت میں بیرسٹر افتخار گیلانی کو محکمہ تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی، جس کے بعد ان کی جانب سے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور گڈ گورننس پر زور دیا گیا۔

ان کے دور میں محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کا نظام متعارف کرانے کا عمل آگے بڑھایا گیا۔

تعلیمی معیار میں بہتری، اساتذہ کی بھرتیوں میں میرٹ اور محکمہ تعلیم کے انتظامی معاملات میں اصلاحات ان کی وزارت کے اہم نکات میں شامل رہے۔

حالیہ انتخابات میں دلچسپ موڑ

حالیہ 2026 کے عام انتخابات میں افتخار گیلانی نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے ایل اے 29 مظفرآباد 3 سے انتخاب لڑا، تاہم وہ کامیاب نہ ہوسکے۔

اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد خان نے 20 ہزار سے ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ افتخار گیلانی 16 ہزار 507 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر میں غیرمنتخب شخص کی بطور وزیراعظم نامزدگی، اعظم نذیر تارڑ کا مؤقف سامنے آگیا

اس کے باوجود افتخار گیلانی سیاسی منظرنامے سے باہر نہیں ہوئے۔ انہیں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر مسلم لیگ (ن) کی جانب سے امیدوار بنایا گیا اور وہ اس نشست پر کامیاب ہوکر دوبارہ اسمبلی کا حصہ بن گئے۔

یوں عام نشست پر شکست کھانے کے چند ہی دن بعد وہ ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے دوبارہ قانون ساز اسمبلی پہنچ گئے۔

وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزدگی

مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے مشاورت کے بعد افتخار گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والی مشاورت میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر، نومنتخب اسپیکر چوہدری طارق فاروق، ڈپٹی اسپیکر احمد رضا قادری اور دیگر رہنماؤں سمیت افتخار گیلانی بھی شریک ہوئے۔

تاہم ان کی نامزدگی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اندر بعض سینیئر رہنماؤں کے تحفظات بھی سامنے آئے۔ پارٹی صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے اس فیصلے پر اختلاف کا اظہار کیا۔

اس صورتحال نے افتخار گیلانی کی نامزدگی کو محض ایک حکومتی فیصلہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے اندر طاقت کے توازن اور آئندہ سیاسی سمت کے تناظر میں بھی اہم بنا دیا۔

قانون، تعلیم اور سیاست کا امتزاج

بیرسٹر افتخار گیلانی کی سیاسی شخصیت کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کا عملی تجربہ 3 اہم شعبوں سے جڑا ہوا ہے: قانون، تعلیم اور سیاست۔

ان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ آزاد کشمیر کی سیاست میں کئی ادوار دیکھ چکے ہیں۔ 2011 میں پہلی مرتبہ اسمبلی پہنچنے سے لے کر 2016 میں دوبارہ کامیابی، وزارتِ تعلیم اور پھر 2026 میں عام نشست پر شکست کے بعد ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے اسمبلی میں واپسی تک ان کا سیاسی سفر مختلف نشیب و فراز سے گزرا ہے۔

یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر کی سیاست میں مریم نام کا چرچا، ’تین مریم‘ اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب

اب بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں، اور ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ایکشن کمیٹی کا احتجاج ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔

اس کے علاوہ ان کے سامنے گڈ گورننس، مالی و انتظامی معاملات، تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے جیسے بڑے چیلنجز ہوں گے، جبکہ پارٹی کے اندر اتحاد و اتفاق برقرار رکھنا بھی بڑے چیلنجز میں سے ایک ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

سانحہ پمز، ملزمان سامنے آئے نہ کوئی گرفتاری ہوسکی، سسٹم ٹھیک ہوگا؟ عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو

آزاد کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

میر رضا قتل کیس: شاہراہ فیصل بلاک کرنے پر 100 کے قریب مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج

ویڈیو

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سانحہ پمز، ملزمان سامنے آئے نہ کوئی گرفتاری ہوسکی، سسٹم ٹھیک ہوگا؟ عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ