امریکی عدالت کا تاریخی فیصلہ، اے آئی کمپنی ‘اینتھروپک’ پر پینٹاگون کی عائد پابندیاں کالعدم قرار

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی ‘اینتھروپک’ پر عائد کردہ پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔

جج ریٹا لن نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ حکومت پر تنقید کرنے والی کمپنیوں کو سزا دینے کے لیے ‘قومی سلامتی’ کو بطور بہانہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی پینٹاگون کی جانب سے کمپنی کو ‘سپلائی چین رسک’ قرار دینے کا حکم نامہ بھی فوری طور پر منسوخ ہو گیا ہے۔

جج ریٹا لن نے اپنے 59 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا کہ قومی سلامتی کی خالی گردان حکومت کو اپنے نقادوں کے خلاف انتقامی کارروائی کا کھلم کھلا لائسنس نہیں دیتی۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی انقلاب کے ثمرات، مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت سے آمدن 90 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

عدالت نے دفاعی سیکریٹری پیٹ ہیگسیٹھ کے اس اقدام کو مسترد کر دیا جس کے تحت اینتھروپک کو اس بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جو پہلے صرف غیر ملکی حریف کمپنیوں کے لیے مخصوص تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پینٹاگون کا یہ اقدام کسی حقیقی سیکیورٹی خطرے کے باعث نہیں بلکہ حکومت پر تنقید کرنے کی ‘جرأت’ پر کمپنی کو عبرت کا نشان بنانے کی خواہش پر مبنی تھا۔

تنازع کی بنیادی وجہ اور خودکار ہتھیاروں کا استعمال

پینٹاگون اور اینتھروپک کے درمیان یہ کشمکش اس وقت شروع ہوئی جب کمپنی نے اپنے ‘کلوڈ’  اے آئی ماڈل کو امریکی فوج کی جانب سے مکمل طور پر خودکار مہلک ہتھیاروں اور امریکی شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔

 کمپنی کے اس مؤقف پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ‘انتہا پسند اور بے قابو کمپنی’ قرار دیا تھا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس پابندی سے قبل امریکی فوج کلوڈ ماڈل کو مختلف انتہائی حساس سسٹمز، بشمول جنوری میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو حراست میں لینے کے آپریشن کے دوران بھی استعمال کر چکی تھی۔

جزوی فتح اور وال اسٹریٹ پر اینتھروپک کا مستقبل

اگرچہ اینتھروپک کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑی اخلاقی و قانونی فتح ہے، تاہم پینٹاگون کی جانب سے سرکاری خریداری کے ضوابط کے تحت عائد کی گئی ایک دوسری پابندی اب بھی واشنگٹن کی عدالت میں زیرِ التوا ہے۔

اینتھروپک کے ترجمان نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملکی سلامتی کے لیے حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

مزید پڑھیں:بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

یہ اہم فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اینتھروپک آنے والے چند ہفتوں میں شیئرز کی عوامی فروخت کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جون میں اسپیس ایکس کی جانب سے قائم کردہ ‘86.2’ ارب ڈالر کی تاریخی پیش رفت کا ریکارڈ بھی توڑ سکتی ہے۔

تکنیکی کمپنیوں اور دفاعی اداروں کے درمیان تصادم

اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈائی طویل عرصے سے مصنوعی ذہانت کے پیشِ نظر پیدا ہونے والے خطرات اور نوکریوں پر اس کے منفی اثرات کے حوالے سے انتباہ جاری کرتے رہے ہیں، جس کے باعث وائٹ ہاؤس اور کمپنی کے درمیان کشیدگی چلی آ رہی تھی۔

جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں اور امریکی دفاعی اداروں کے درمیان یہ جنگ اس وقت شدت اختیار کر گئی جب اینتھروپک نے اپنے ٹیکنالوجی ماڈلز کو ملٹری کارروائیوں اور شہریوں کی جاسوسی کے لیے دیے جانے والے زبردستی کے احکامات کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

سانحہ پمز، ملزمان سامنے آئے نہ کوئی گرفتاری ہوسکی، سسٹم ٹھیک ہوگا؟ عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو

آزاد کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

میر رضا قتل کیس: شاہراہ فیصل بلاک کرنے پر 100 کے قریب مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج

ویڈیو

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سانحہ پمز، ملزمان سامنے آئے نہ کوئی گرفتاری ہوسکی، سسٹم ٹھیک ہوگا؟ عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ