امریکی خفیہ ادارے ‘سی آئی اے’ کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے ماسکو کا خفیہ دورہ کر کے روس کو نیٹو ممالک پر کسی بھی قسم کے حملے کے نتائج سے باضابطہ طور پر خبردار کر دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے اس غیر معمولی دورے کا مقصد یوکرین جنگ کی متوقع شدت کو روکنا اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی صورت میں سخت اقدامات کا پیغام پہنچانا تھا۔
🇺🇸After CIA Director John Ratcliffe’s SECRET surprise trip to Moscow, 🇷🇺Putin is gearing up to INTENSIFY the war…
🇷🇺 Now sources say, Russia is weighing intensified ballistic missile strikes, including deeper into city centre’s.
Russia has also threatened to strike British…
— USA Report 🇺🇸 (@UsaReport07) August 27, 2026
روس اور امریکا کے انٹیلی جنس حکام کے درمیان ہونے والی اس اہم بیٹھک کی تصدیق دونوں جانب سے کر دی گئی ہے۔
ماسکو کا خفیہ سفر اور سیکیورٹی خدشات
امریکی فضائیہ کے ایک جیٹ کی ماسکو آمد اور سوشل میڈیا پر سفارتی موٹر کیڈ کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد اس دورے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا گولڈن ڈوم میزائل پروگرام عالمی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے، روس اور چین کا انتباہ
دی وال اسٹریٹ جرنل، پولیٹیکو اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے چیف کے اس غیر اعلانیہ دورہے کا بنیادی مقصد ماسکو کو یورپی سیکیورٹی اور نیٹو کی سرحدی حدود کے حوالے سے امریکی ریڈ لائنز سے آگاہ کرنا تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس دورے کے دوران مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان ‘6’ ماہ سے جاری کشیدگی پر بھی تفصیلی تبادلہٴ خیال کیا گیا۔
ایران کی ناکہ بندی اور ثانوی پابندیوں کا خطرہ
سی آئی اے ڈائریکٹر نے امریکی مؤقف واضح کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کو بحری تجارت کے لیے فوری طور پر نہ کھولا گیا تو ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں پر سخت ‘ثانوی پابندیاں’ عائد کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ چین، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ، ایران کے بڑے تجارتی پارٹنر ہیں جبکہ روس کے بھی تہران کے ساتھ دیرینہ معاشی و عسکری تعلقات قائم ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور کرملین کا باضابطہ ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملاقات کو ‘نصف حد تک معمول کی بات چیت’ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔
مزید پڑھیں:روس، یوکرین اور امریکا کے حکام کے درمیان پہلی بار براہ راست سہ فریقی مذاکرات کا اعلان
دوسری جانب کرملین کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان رابطے ہوئے ہیں، تاہم جان ریٹکلف کی صدر ولادیمیر پیوٹن سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور انہوں نے گفتگو کی تفصیلا ت بتانے سے گریز کیا۔
یوکرین کی تشویش اور فضائی دفاع کا مطالبہ
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صدر پوٹن جنگ کو مزید خطرناک حد تک بڑھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
Sergei Naryshkin, head of Russia’s SVR foreign intelligence service, says he held “working-level meeting” with CIA director John Ratcliffe in Moscow earlier this week and they discussed unspecified and sensitive matters falling within remit of their respective intelligence… pic.twitter.com/rZWtKft6zV
— TRT World Now (@TRTWorldNow) August 27, 2026
روس کی جانب سے یوکرینی شہروں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں میں شدت آ چکی ہے۔ زیلینسکی نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ ‘5’ اگست کے حملوں جیسے جانی نقصان سے بچنے کے لیے کیف کو بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹرز کی فراہمی فوری طور پر یقینی بنائی جائے۔
نومبر 2021 کی نظیر اور یورپ پر ہائبرڈ حملے
واضح رہے کہ بین الاقوامی امور کی ماہر کاٹیا گلوڈ کے مطابق سی آئی اے چیف کا یہ دورہ ‘انتہائی غیر معمولی’ ہے۔ اس سے قبل نومبر 2021 میں سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنز نے ماسکو کا دورہ کر کے روس کو یوکرین پر حملے کے نتائج سے آگاہ کیا تھا، جس کے چند ہفتوں بعد فروری 2022 میں روس نے مکمل جارحیت کا آغاز کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ جرمنی اور برطانیہ میں بڑھتے ہوئے ‘ہائبرڈ حملوں’ کے پیش نظر واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان براہِ راست رابطہ برقرار رکھنا بے حد ضروری ہو چکا تھا۔














